📌 اہم آثارِ قدیمہ و نوادراتی نکات:
- سر الیگزینڈر کننگھم کی تحقیق: برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے بانی سر الیگزینڈر کننگھم نے 1870ء اور 1880ء کی دہائی میں پسرور اور سیالکوٹ کے قدیم ٹیلوں کا باقاعدہ فیلڈ سروے کیا۔
- ہند یونانی (Indo-Greek) سکے: پسرور اور گردونواح کے تاریخی دیہات سے قبل از مسیح کے یونانی بادشاہوں بالخصوص مینانڈر (Menander / Milinda) اور اپولوڈوٹس کے چوکور تانبے اور چاندی کے سکے دریافت ہوئے۔
- کشان سلطنت کے نقوش: پہلی اور دوسری صدی عیسوی کے کشان شہنشاہ کنشک (Kanishka) اور ہووشکا کے زمانے کے سونے اور تانبے کے سکے پسرور کے مٹی کے ٹیلوں سے برآمد ہوئے جو خطے کے قدیم تجارتی راستے ہونے کا بین ثبوت ہیں۔
- پنجاب میوزیم لاہور کا ریکارڈ: لاہور میوزیم کے معروف کیٹلاگ آف کوائنز (1914ء) میں پسرور ریجن سے ملنے والے نادر یونانی اور بودھ مت کے دور کے سکوں کا باقاعدہ اندراج موجود ہے۔
1. آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور سر الیگزینڈر کننگھم کا سروے
انیسویں صدی کے اواخر میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سربراہ سر الیگزینڈر کننگھم نے پنجاب کے قدیم شہروں پر اپنی یادگار رپورٹ Archaeological Survey of India Reports (جلد دوم و چہارم) شائع کی۔ کننگھم نے ثابت کیا کہ سیالکوٹ کا قدیم نام 'ساکلا' تھا جو سکندرِ اعظم کے بعد ہند یونانی سلطنت کا پایۂ تخت رہا۔
کننگھم نے نوٹ کیا کہ ساکلا سے مغرب اور جنوب کی طرف نالہ ڈیک کے دونوں کناروں پر واقع بستیوں—جن میں موجودہ تحصیل پسرور کا علاقہ شامل ہے—میں قدیم تہذیبوں کے اونچے اونچے ٹیلے (جنہیں مقامی زبان میں 'تھیہ' یا 'ٹبہ' کہا جاتا ہے) موجود ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں ہزاروں سال پہلے گنجان انسانی آبادیاں موجود تھیں۔
2. سیالکوٹ گزٹیر (1883ء) میں قدیم سکوں کی تصدیق
حکومتِ پنجاب کی سرکاری دستاویز Gazetteer of the Sialkot District (1883-84ء، صفحہ 24 تا 26) میں 'Antiquities and Archaeology' کے عنوان کے تحت تصدیق کی گئی ہے کہ برطانوی افسران کو پسرور کی دیہی اراضی اور بارشوں کے بعد بہہ جانے والے ٹیلوں سے قدیم ترین ادوار کے سکے ہاتھ آئے۔ گزٹیر میں درج ہے:
"In the ancient mounds found near Pasrur and along the banks of the Degh stream, large numbers of square copper coins of the Indo-Greek kings (such as Menander and Apollodotus) and coins of the Kushan dynasty have repeatedly been unearthed after heavy monsoon washouts."
ترجمہ: "پسرور کے قریب اور نالہ ڈیک کے کناروں پر واقع قدیم ٹیلوں میں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد مٹی کٹنے سے انڈو-گریک بادشاہوں (مثلاً مینانڈر اور اپولوڈوٹس) کے چوکور تانبے کے سکے اور کشان خاندان کے سکے کثرت سے برآمد ہوئے ہیں۔"
3. لاہور میوزیم کا کیٹلاگ اور سکوں کی نوعیت
ماہرِ مسکوکات (Numismatist) آر بی وائٹ ہیڈ نے 1914ء میں لاہور میوزیم کے سکوں کی سرکاری فہرست Catalogue of Coins in the Panjab Museum, Lahore (Vol. I: Indo-Greek Coins) میں پسرور کے خطے سے موصولہ سکوں کی تفصیلات درج کیں۔
ان سکوں پر یونانی دیوی ایتھینا (Athena) کی تصویر، بیل کا نشان، اور ایک طرف یونانی رسم الخط جبکہ دوسری طرف قدیم خروشتی (Kharoshthi) رسم الخط میں بادشاہ کا نام کندہ ہے۔ یہ دریافت اس تاریخی حقیقت کی حتمی سند ہے کہ پسرور کا خطہ آج سے دو ہزار سال قبل بھی بین الاقوامی شاہراہِ ریشم کے معاون راستوں اور تجارتی قافلوں کا گہوارہ تھا۔
📚 مستند آثارِ قدیمہ و سرکاری کتب کے حوالے:
- Archaeological Survey of India Reports: By Major-General Sir Alexander Cunningham, Vol. II & Vol. XIV (Report of a Tour in the Punjab, Government Central Press, Simla)۔
- The Ancient Geography of India (1871): By Alexander Cunningham, Chapter III: Panjab, Pages 206–218 (Trübner & Co., London)۔
- Gazetteer of the Sialkot District (1883-84 Edition): Chapter I: The District — Section: Archaeology, Pages 24-26 (Lahore)۔
- Catalogue of the Coins in the Panjab Museum, Lahore (1914): By R.B. Whitehead, Vol. I: Indo-Greek and Kushan Coins (Clarendon Press, Oxford)۔












