📌 اہم تاریخی و دستاویزاتی حقائق:
- شہزادہ داراشکوہ کی نہر: مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں اس کے فرزندِ ارجمند شہزادہ محمد داراشکوہ نے نالہ ڈیک سے ایک باقاعدہ نہر کھدوا کر پسرور شہر تک پہنچائی تاکہ شاہی تالاب میں پانی کا مسلسل ذخیرہ برقرار رہے۔
- جہانگیر کا شاہی تالاب: مغل شہنشاہ نور الدین محمد جہانگیر کے دور میں پسرور میں اینٹوں کا ایک وسیع پختہ تالاب (Masonry Tank) تعمیر کیا گیا جو صدیوں تک خطے کا سب سے بڑا واٹر ریزروائر رہا۔
- بارہ دروازوں والا فصیل بند شہر: برطانوی اور مغل گزٹیرز کے مطابق قدیم پسرور شہر کے گرد ایک مضبوط حفاظتی فصیل اور بارہ تاریخی دروازے قائم تھے جن میں شاہ ببن گیٹ، ککے زئی دروازہ اور موری دروازہ شامل تھے۔
- خلاصۃ التواریخ (1695ء): منشی سوجان رائے بھنڈاری نے اپنی شہرہ آفاق تاریخ میں پسرور کو صوبہ لاہور کا اہم ترین تجارتی مرکز، تانبے اور پیتل کے برتنوں کا گڑھ اور خوشبودار باسمتی کا پرگنہ قرار دیا۔
1. شہزادہ داراشکوہ کی نہر: نالہ ڈیک سے پسرور تک کا تاریخی کارنامہ
برصغیر پاک و ہند کی مغل تاریخ میں سب سے اہم دستاویزی سرکاری دستاویز Gazetteer of the Sialkot District (1883-84ء ایڈیشن، صفحہ 105) اور امپیریل گزٹیر آف انڈیا (جلد 20) میں درج ہے کہ پسرور مغل سلطنت کا ایک ممتاز شہر تھا جہاں شاہی قافلوں کے قیام کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ گزٹیر کے اصل الفاظ درج ذیل ہیں:
"The town contains a large masonry tank built during the reign of Jahangir, and a canal brought to it by Prince Dara Shikoh from the Degh river. The town was originally surrounded by a wall with twelve gates, some of which still remain."
ترجمہ: "اس قصبے میں اینٹوں کا ایک وسیع پختہ تالاب موجود ہے جو شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں تعمیر کیا گیا تھا، اور شہزادہ داراشکوہ نے نالہ ڈیک سے ایک نہر کھود کر اس تالاب تک پہنچائی تھی۔ یہ شہر اصل میں ایک فصیل کے اندر گھرا ہوا تھا جس کے بارہ دروازے تھے جن میں سے بعض اب بھی موجود ہیں۔"
مورخ محمد صالح کمبوہ نے اپنی کتاب عملِ صالح (شاہ جہاں نامہ) میں لکھا ہے کہ شہزادہ داراشکوہ پنجاب کے انتظام و انصرام میں خصوصی دلچسپی رکھتا تھا اور اس نے زراعت و عوامی سہولت کے لیے کئی نہری منصوبے مکمل کروائے جن میں پسرور کا نہری منصوبہ نمایاں تھا۔
2. مغل عہد کی شاہی گزرگاہ اور بارہ تاریخی دروازے
جب مغل سلاطین لاہور سے سیالکوٹ اور جموں کے راستے کشمیر کا سفر اختیار کرتے تھے تو پسرور ایک ناگزیر شاہی پڑاؤ تھا۔ شاہی فوج کے گھوڑوں، ہاتھیوں اور لشکریوں کے لیے پانی کی قلت کا تدارک جہانگیر کے تعمیر کردہ تالاب سے کیا جاتا تھا۔
شہر کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط فصیل تعمیر کی گئی تھی جس کے 12 دروازے تھے۔ ان میں سے نمایاں دروازوں کی نشانیاں آج بھی پسرور کے محلوں میں زندہ ہیں:
- شاہ ببن گیٹ: جو ریلوے اسٹیشن اور پرانا اڈا لاریاں کی سمت کھلتا تھا اور صوفی بزرگ شاہ ببنؒ کے مزار کی نسبت سے مشہور ہوا۔
- ککے زئی دروازہ: محلہ ککے زیاں کے قریب جہاں مغل دور کے ممتاز تاجر اور افسران آباد تھے۔
- موری دروازہ: شہر کے حفاظتی دفاع کا پچھلا چھوٹا دروازہ جہاں سے ہنگامی آمدورفت ہوتی تھی۔
3. خلاصۃ التواریخ (1695ء) میں پسرور کی معاشی و سماجی حیثیت
عہدِ اورنگزیب عالمگیر کے نامور پنجابی مورخ منشی سوجان رائے بھنڈاری نے سنہ 1695ء میں مکمل ہونے والی اپنی شاہکار فارسی تصنیف خلاصۃ التواریخ میں صوبہ لاہور کے پرگنہ جات کا ذکر کرتے ہوئے پسرور کی تجارتی رونق کی کھل کر تعریف کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ پسرور کے کاریگر تانبے اور پیتل کے ایسے نفیس برتن تیار کرتے ہیں جن کی مانگ پورے ہندوستان اور کابل تک پھیلی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ پرگنہ پسرور کے کسان اعلیٰ ترین باسمتی چاول اور گنے کی کاشت کرتے تھے جس کا محصول مغل شاہی خزانے کا اہم ترین حصہ تھا۔
📚 مستند تاریخی کتب، اسناد اور صفحات:
- Gazetteer of the Sialkot District (1883-84 Edition): Chapter VI: Towns and Municipalities — Town of Pasrur, Page 105 (Civil and Military Gazette Press, Lahore)۔
- عملِ صالح المعروف شاہ جہاں نامہ: محمد صالح کمبوہ (مرتبہ ڈاکٹر غلام یزدانی، مجلس ترقیِ ادب لاہور)، دفترِ دوم، مغل دور کے تالاب و نہریں، صفحات 312–318۔
- خلاصۃ التواریخ (1695ء): منشی سوجان رائے بھنڈاری (فارسی متن و اردو ترجمہ خان بہادر مولوی محمد حسین)، باب صوبہ لاہور و پرگنہ جاتِ رچنا دوآب۔
- Imperial Gazetteer of India (Provincial Series: Punjab): Vol. XX, Page 24 (Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908)۔












