پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ گئی

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- اے آر وائی نیوز کے مطابق رواں مالی سال قرضوں پر سود کی مد میں 80 کھرب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس صرف 30 کھرب روپے بچنے کا امکان۔
- ماہرین نے مالیاتی دباؤ کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ 31-2030 تک قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بڑھ کر 100 کھرب روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔
- قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے باعث قومی آمدن کا بڑا حصہ بھی سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہونے کا امکان ہے، جس سے ملکی مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھے۔
- معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں پر سود کی بھاری ادائیگیاں حکومتی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے دستیاب وسائل کو بھی محدود کر سکتی ہیں۔
دی اردو پوسٹ (مانیٹرنگ ڈیسک): اسلام آباد (30 اکتوبر 2026): پاکستان پر اس وقت اتنا قرض ہے کہ اس قرض پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ گئی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق رواں مالی سال قرضوں پر سود کی مد میں 80 کھرب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس صرف 30 کھرب روپے بچنے کا امکان ہے۔
ماہرین نے مالیاتی دباؤ کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ 31-2030 تک قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بڑھ کر 100 کھرب روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔
قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے باعث قومی آمدن کا بڑا حصہ بھی سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہونے کا امکان ہے، جس سے ملکی مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھے گا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں پر سود کی بھاری ادائیگیاں حکومتی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے دستیاب وسائل کو بھی محدود کر سکتی ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










