ماہرین کا پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی کے بڑھتے ہوئے بحران پر اظہارِ تشویش

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- یہ خدشات عالمی یومِ وٹامن ڈی کے حوالے سے لاہور کے مال روڈ پر واقع آواری ہوٹل میں مقامی فارماسوٹیکل کمپنی کی جانب سے منعقد کیے گئے ڈی کنیکٹ سمٹ 2026 میں سامنے آئے۔
- میو ہسپتال لاہور کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ اور پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے ’بچپن سے بڑھاپے تک: ہڈیوں کی صحت کے لیے وٹامن ڈی، زندگی بھر کا ساتھی‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔
- انہوں نے بتایا کہ انسانی جسم میں ہڈیاں کئی اہم افعال انجام دیتی ہیں جن میں جسم کی حرکت میں مدد دینا، اہم اندرونی اعضا کی حفاظت کرنا اور جسم میں کیلشیم کا توازن برقرار رکھنا شامل ہیں۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے جو ملک میں وافر دھوپ کی دستیابی کے باوجود مختلف عمر کے افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین نے اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ خدشات عالمی یومِ وٹامن ڈی کے حوالے سے لاہور کے مال روڈ پر واقع آواری ہوٹل میں مقامی فارماسوٹیکل کمپنی کی جانب سے منعقد کیے گئے ڈی کنیکٹ سمٹ 2026 میں سامنے آئے۔ سمٹ میں طبی ماہرین نے شرکت کی اور ہڈیوں کی صحت، خواتین کی صحت اور مجموعی جسمانی تندرستی پر وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات پر تفصیلی گفتگو۔
میو ہسپتال لاہور کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ اور پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے ’بچپن سے بڑھاپے تک: ہڈیوں کی صحت کے لیے وٹامن ڈی، زندگی بھر کا ساتھی‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے بتایا کہ انسانی جسم میں ہڈیاں کئی اہم افعال انجام دیتی ہیں جن میں جسم کی حرکت میں مدد دینا، اہم اندرونی اعضا کی حفاظت کرنا اور جسم میں کیلشیم کا توازن برقرار رکھنا شامل ہیں۔ کیلشیم دل، پٹھوں اور اعصاب کی درست کارکردگی کے لیے ضروری ہے جبکہ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے اور اسے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا۔
ڈاکٹر فیصل مسعود کے مطابق پاکستان میں وافر دھوپ کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے مختلف اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی تقریباً 73 فی صد آبادی وٹامن ڈی کی کمی یا ناکافی سطح کا شکار۔
انہوں نے اس مسئلے کی متعدد وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ لوگ جلد کی رنگت متاثر ہونے کے خدشے اور ملک کے شدید موسمی حالات کے باعث براہِ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس کے مخصوص طریقے، معاشرتی روایات، گھروں اور دفاتر میں زیادہ وقت گزارنے کا رجحان اور فضائی آلودگی بھی سورج کی روشنی سے مناسب استفادے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی بھی اس مسئلے میں اضافے کا باعث بنی ہے کیونکہ لوگ غذائیت کو ترجیح دینے کے بجائے ذائقے کی بنیاد پر خوراک کا انتخاب زیادہ کرنے لگے ہیں۔
آرتھوپیڈک ماہر نے خبردار کیا کہ وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے، بالخصوص عمر رسیدہ افراد میں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











