لاہور ہائیکورٹ: چیک ڈس آنر کیس میں 5 سال سے ملزم کی عدم گرفتاری پر عدالت برہم

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پولیس 6 ، 6 سال گواہ پیش نہیں کرتی پھر کہتے ہیں عدلیہ خراب ہے، جرمانوں کے باوجود پولیس ٹھیک نہیں ہوتی، کیا کریں عدلیہ خراب ہے جو بول نہیں سکتی۔
- انہوں نے کہا کہ پولیس افسروں کی تںخواہ بند کرتے ہیں لیکن تھوڑی سی تنخواہ بند ہونے سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار): لاہور ہائیکورٹ میں چیک ڈس آنر کیس میں 5 سال سے ملزم کی عدم گرفتاری پر چیف جسٹس عالیہ نیلم پولیس کی ناقص کارکردگی پر برہم ہوگئیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پولیس 6 ، 6 سال گواہ پیش نہیں کرتی پھر کہتے ہیں عدلیہ خراب ہے، جرمانوں کے باوجود پولیس ٹھیک نہیں ہوتی، کیا کریں عدلیہ خراب ہے جو بول نہیں سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس افسروں کی تںخواہ بند کرتے ہیں لیکن تھوڑی سی تنخواہ بند ہونے سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟، چیف جسٹس نے کہا کہ اب پولیس والے صبح مدعی پر دباؤ ڈال کر لے آئیں گے اور کیس واپس لے لیں گے، مدعی پر دباؤ پولیس والے ڈالیں لیکن خراب عدلیہ کو کہا جاتا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











