زیادتی کیس میں صرف ڈی این اے کی بنیاد پر جرم ثابت ہو سکتا ہے؟ عدالت میں قانونی معاونت طلب

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس شہزاد احمد ملک کی سربراہی میں قائم بینچ نے کیس کی سماعت۔
- ملزم کے وکیل نے کہا متاثرہ لڑکی نے عدالت میں خود کوئی بیان نہیں دیا، ٹرائل کورٹ نے والدہ کے بیان پر انحصار کیا، سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ ہے کہ صرف ڈی این اے میچ ہونے پر سزا نہیں سنائی جاسکتی۔
- جسٹس شکیل احمد نے کہا آپ جس فیصلے کا حوالہ دے رہی ہیں، اس کے حقائق مختلف ہیں، اس کیس میں متاثرہ لڑکی پر ماضی میں بھی ایسے الزامات لگانے کی ہسٹری موجود تھی، اس مقدمے میں متاثرہ لڑکی قوتِ سماعت اور قوتِ گویائی سے محروم۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): کیا ریپ کیس میں صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر ملزم کے خلاف جرم ثابت ہو سکتا ہے؟ گونگی بہری 25 سالہ معذور لڑکی کے کیس میں اہم قانونی سوالات سامنے آگئے، سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلا سے مزید معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس شہزاد احمد ملک کی سربراہی میں قائم بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ نے ڈی این اے رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی، ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں متاثرہ لڑکی کو ذہنی معذور بھی لکھا۔
ملزم کے وکیل نے کہا متاثرہ لڑکی نے عدالت میں خود کوئی بیان نہیں دیا، ٹرائل کورٹ نے والدہ کے بیان پر انحصار کیا، سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ ہے کہ صرف ڈی این اے میچ ہونے پر سزا نہیں سنائی جاسکتی۔
جسٹس شکیل احمد نے کہا آپ جس فیصلے کا حوالہ دے رہی ہیں، اس کے حقائق مختلف ہیں، اس کیس میں متاثرہ لڑکی پر ماضی میں بھی ایسے الزامات لگانے کی ہسٹری موجود تھی، اس مقدمے میں متاثرہ لڑکی قوتِ سماعت اور قوتِ گویائی سے محروم۔
ملزم کے وکیل نے کہا متاثرہ لڑکی نے پانچویں ماہ والدہ کو پیٹ میں درد کی شکایت کی، طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ لڑکی حاملہ ہے، متاثرہ لڑکی کے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کرگیا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











