ریلوے پٹریوں پر پتھر، مگر میٹرو ٹریک پر کیوں نہیں؟ دلچسپ وجہ جانیں

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- دونوں طریقوں کا انتخاب ٹریک کی جگہ، تعمیراتی لاگت اور دیکھ بھال کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
- ٹرین میں سفر کرتے ہوئے آپ نے اکثر ریلوے پٹریوں کے درمیان اور اطراف میں پتھر دیکھے ہوں گے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ میٹرو ٹرین کی پٹریوں پ۔
- دراصل اس کی وجہ دونوں ٹریکس کی ساخت، دیکھ بھال اور تعمیر کا مختلف طریقہ ہے۔
دونوں طریقوں کا انتخاب ٹریک کی جگہ، تعمیراتی لاگت اور دیکھ بھال کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
ٹرین میں سفر کرتے ہوئے آپ نے اکثر ریلوے پٹریوں کے درمیان اور اطراف میں پتھر دیکھے ہوں گے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ میٹرو ٹرین کی پٹریوں پر عموماً یہ پتھر کیوں نہیں ہوتے؟
دراصل اس کی وجہ دونوں ٹریکس کی ساخت، دیکھ بھال اور تعمیر کا مختلف طریقہ ہے۔
ریلوے پٹریوں پر بچھائے جانے والے پتھروں کو ’ٹریک بیلسٹ‘ کہا جاتا ہے، جو ٹرین کے بھاری وزن کو زمین پر یکساں تقسیم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ پتھر پٹریوں کو اپنی جگہ مضبوط رکھتے ہیں اور ٹرین گزرنے کے دوران پیدا ہونے والی حرکت کو محدود کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ بارش کے پانی کو جمع ہونے سے روکنے اور زمین میں نکاسی کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
میٹرو ٹرینوں کے زیادہ تر ٹریک کنکریٹ کی مضبوط بنیاد پر تعمیر کیے جاتے ہیں، جنہیں ’بیلسٹ لیس ٹریک‘ کہا جاتا ہے۔
ادارتی نوٹ: یہ رپورٹ اپنا پسرور نیوز روم کے ادارتی شعبہ نے مصدقہ صحافتی ذرائع کی روشنی میں قارئین کے لیے مرتب کر کے شائع کی ہے۔ جملہ حقوق اشاعتی ادارے کے پاس محفوظ ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










