لاہور میں نومبر کے پہلے ہفتے فضائی آلودگی خطرناک درجے تک برقرار

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
سینئر براڈکاسٹر و اینکر
سینئر تجزیہ کار و شریک اینکر
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے مطابق ان 7 روز میں پانچ دن ہوا کا معیار انتہائی غیر صحت بخش جبکہ دو دن خطرناک درجے میں رہا۔
- رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے واقعات اور ان سے اٹھنے والے دھوئیں نے بھی آلودگی میں اضافے میں کردار ادا کیا، شہر میں روزانہ اوسطاً 54.8 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات ریکارڈ ہوئے۔
- موسمی حالات بھی آلودگی میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیے گئے ہیں، گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں سال پی ایم 2.5 کی مقدار 25 فیصد زیادہ رہی۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار): لاہور میں نومبر کے پہلے 7 روز کے دوران فضائی آلودگی کی سطح مسلسل غیر صحت بخش سے خطرناک درجے تک برقرار رہی، یکم سے 7 نومبر تک شہر کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 268 ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2 نومبر کو یہ بڑھ کر 335 تک پہنچ گیا، جو ہفتے کی بلند ترین سطح رہی۔
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے مطابق ان 7 روز میں پانچ دن ہوا کا معیار انتہائی غیر صحت بخش جبکہ دو دن خطرناک درجے میں رہا، اس دوران فضا میں موجود باریک آلودہ ذرات (پی ایم 2.5) کی اوسط مقدار 215.5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارہ صحت کی مقررہ حد 15 مائیکروگرام سے تقریباً 14 گنا زیادہ تھی۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے واقعات اور ان سے اٹھنے والے دھوئیں نے بھی آلودگی میں اضافے میں کردار ادا کیا، شہر میں روزانہ اوسطاً 54.8 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات ریکارڈ ہوئے، جن دنوں آگ لگنے کے کم از کم 11 واقعات ہوئے، ان دنوں اوسط اے کیو آئی 207 رہا جبکہ دیگر دنوں میں یہ 158 ریکارڈ کیا گیا۔
موسمی حالات بھی آلودگی میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیے گئے ہیں، گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں سال پی ایم 2.5 کی مقدار 25 فیصد زیادہ رہی، رات کے وقت کم درجہ حرارت اور ہوا کی کم رفتار کے باعث آلودہ ذرات فضا میں موجود رہے، 9 سالہ ریکارڈ کے مطابق رواں سال کا یہ ہفتہ لاہور میں فضائی آلودگی کے لحاظ سے تیسرا بدترین ہفتہ تھا۔
رپورٹ میں بھارت سے آنے والی ہواؤں کا بھی جائزہ لیا گیا، یکم سے 7 نومبر کے دوران کسی بھی دن بھارتی سمت سے آنے والی ہواؤں کا حصہ 25 فیصد یا اس سے زیادہ نہیں تھا، تجزیے کے مطابق جن دنوں ان ہواؤں کا حصہ زیادہ رہا، ان دنوں لاہور کا اوسط اے کیو آئی 160 جبکہ دیگر دنوں میں 187 ریکارڈ کیا گیا تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہوا کے راستوں کا تجزیہ آلودگی کے اصل منبع کی تصدیق نہیں کرتا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










