سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعمل

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- تفصیلات کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے حالیہ انٹرویو کو آئینی و قانونی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا۔
- الیکشن کمیشن کے ترجمان نے واضح کیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن سے متعلق فیصلے کو 4-3 کا قرار دینا درست نہیں، جبکہ جسٹس (ر) منصور علی شاہ کا مؤقف سپریم کورٹ کے اپنے ہی حتمی فیصلوں کے برعکس۔
- الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مقررہ وقت تک انٹرا پارٹی انتخابات کا قانونی معیار پورا نہیں کیا۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے حالیہ انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤقف سپریم کورٹ کےحتمی فیصلوں کے برعکس۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے حالیہ انٹرویو کو آئینی و قانونی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی ریکارڈ کو منتخب حوالوں اور ادھورے تناظر میں پیش کرنا انتہائی غیر مناسب۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے واضح کیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن سے متعلق فیصلے کو 4-3 کا قرار دینا درست نہیں، جبکہ جسٹس (ر) منصور علی شاہ کا مؤقف سپریم کورٹ کے اپنے ہی حتمی فیصلوں کے برعکس۔
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مقررہ وقت تک انٹرا پارٹی انتخابات کا قانونی معیار پورا نہیں کیا، پارٹی کو 3 مواقع دیے گئے مگر وہ آئین کے مطابق انتخابات میں ناکام رہی، جس پر الیکشن ایکٹ کے تحت اسے نااہل قرار دے کر انتخابی نشان واپس لیا گیا جبکہ سپریم کورٹ نے نشان کا فیصلہ برقرار رکھا اور نظرثانی درخواست بھی مسترد۔
ترجمان نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی کیس کا حکم امتناع پارٹی نے خود ہائیکورٹ سے لیا تھا، تاہم پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں آج بھی بطور رجسٹرڈ جماعت موجود۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 51، 106 اور الیکشن ایکٹ مخصوص نشستوں کی تقسیم کا طریقہ کار بتاتے ہیں. مخصوص نشستیں صرف الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں کا حق ہیں۔ چونکہ پی ٹی آئی نے ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی تھی لہٰذا وہ مخصوص نشستوں کی اہل نہیں تھی۔
ترجمای نے کہا کہ آزاد امیدوار اور بغیر نشست والی جماعتیں آئین کے تحت مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہوتیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










