بدھ، 4 نومبر 2026ء24 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفتشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکانوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاری’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفتشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکانوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاری’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفتشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکانوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاری’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفتشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکانوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاری

گولڈن ایج (29) ۔ زوال کے اسباب

گولڈن ایج (29) ۔ زوال کے اسباب
🎙️ اپنا پسرور ڈیپ ڈائیو (Google NotebookLM انداز)2-میزبان آڈیو پوڈکاسٹ

مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ

👨‍💼
اسد

میزبان و براڈکاسٹر

👩‍💼
عظمیٰ

تجزیہ کار و شریک میزبان

00:00--:--
🎧 مکمل پوڈکاسٹ سماعت کے لیے تیار ہے
مطالعہ کی سہولیات:
گولڈن ایج (29) ۔ زوال کے اسباب. مامون بغداد کو علم کا بڑا مرکز بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس میں ان کی ذاتی دلچسپی شامل تھی۔ انہوں نے علم کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی تھی۔ دوسری اہم چیز طویل امن اور ترقی کا دور تھا۔ اس وجہ سے بہترین دماغ کو بغداد کی طرف آئے۔ بعد میں آنے والے کمزور خلفاء کے وقتوں میں سائنس سے بے توجہی سے اس آؤٹ پٹ پر منفی اثرات رہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جدید وقتوں میں ہمیں بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں نظر آتا ہے کہ کوپن ہیگن میں ورنر ہائزنبرگ، پال ڈیراک یا وولف گینگ پالی جیسے نابغے اکٹھے تھے اور ایٹمی تھیوری بنانے میں حصہ لیا۔ ایسا کیوں؟ اس کی وجہ صرف اتفاق نہیں کہی جا سکتی۔ اگر مواقع دستیاب ہوں، سماجی اور سیاسی حالات موافق ہوں تو پھر وہ لوگ ابھریں گے جو نیا کر دکھانے کا چیلنج لے سکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چیز جس میں گلیلیو، نیوٹن، الرازی، ابن الہیثم، البیرونی کا کام ایک ہی طرح کا تھا، وہ دنیا کی تفتیش کا طریقہ تھا جسے ہم سائنسی طریقہ کہتے ہیں (اور مغربی مورخین کی بیان کردہ تاریخ کے برخلاف اس کی پیدائش یورپ میں نہیں ہوئی)۔ یورپی احیائے نو کے دور میں ہونے والی تیزرفتار ترقی کے پیچھے کئی عوامل تھے۔ اس میں ایک چھاپہ خانہ تھا جس نے خیالات کی ترسیل کو تیزرفتار کر دیا تھا۔ (عباسیوں میں ایسا ہی کام کاغذ کی مِل کی آمد نے کیا تھا)۔ دوسری ایجادات میں ٹیلی سکوپ اور مائیکرو سکوپ تھی جس نے میڈیسن، بائیولوجی اور آسٹرونومی میں انقلاب برپا کیا تھا۔ تیرہویں صدی سے سولہویں صدی میں ہم اسلامی دنیا میں سائنسی تحقیق کو روبہ زوال دیکھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ سیاسی زوال تھا۔ اسلامی دنیا کے بہت سے خطوں میں حکمران خاندانوں کو شکست و ریخت کا سامنا تھا۔ سائنسی تحقیق کی ترجیح کم ہو گئی تھی۔ بغداد پر سورج غروب ہو جانے کے بعد نئے مراکز آئے۔ فاطمیوں کا قاہرہ، امویوں کا قرطبہ، مامونیوں کا گرگانج ابھرے اور پھر زوال پذیر ہوئے۔ تو پھر کیا غلط ہوا؟ اس سست رفتار زوال کی وجہ کیا بنی؟ یہ وہ سوال ہے جو کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی دو وجوہات عام بتائی جاتی ہیں جو ایسا ظاہر کرتی ہیں گویا کہ یہ سنہرا دور اچانک ہی ختم ہو گیا تھا۔ مغرب میں کئی لوگ ایسا کہتے ہیں کہ یہ اسلامی قدامت پسندی اور معتزلہ کی روشن خیالی کی جنگ تھی۔ امام غزالی نے اس جنگ کا فیصلہ قدامت پرستی کے حق میں کر دیا تھا جس سے یہ سائنسی دور اپنے اختتام کو پہنچا۔ غزالی نے ابنِ سینا پر بالخصوص اور فلسفے پر بالعموم تنقید کی تھی۔ ارسطو کے خیالات پر فکری طور پر حملہ آور ہوئے تھے اور یوں عقل پسندی کا راستہ روک دیا تھا۔ امام غزالی اسلامی تاریخ میں بہت محترم مفکر ہیں۔ ان کے خیالات کا بہت اثر رہا ہے۔ اور انہوں نے دو صدیوں بعد یورپ میں آنے والے تھامس اکیوناس اور دوسرے مفکرین کو بھی متاثر کیا۔ “غزالی قدامت پسند تھے اور انہوں نے اسلامی فلسفے پر نشان چھوڑے ہیں۔ انہوں نے الکندی، فارابی، ابنِ رشد اور ابنِ سینا کے کام کو بے وقعت کیا”۔ ناقدین کے یہ سادہ لوح فقرے مغربی مورخین میں مقبول ہیں۔ یہ غزالی کے فکری مرتبے کے ساتھ انصاف نہیں۔ وہ خود ایک قابل سائنسدان تھے اور دنیا کو بہت گہرے خیالات دے کر گئے۔ امام غزالی بنیادی طور پر ایک تھیولوجیکل اور میٹافزیکل نقطہ نظر کے ناقد تھے جو ارسطو اور افلاطون کی منطق کی بنیاد پر تھا۔ ان کا اعتراض یونانی فلسفے پر تھا۔ اعلیٰ ذہنوں کے درمیان ہونے والی فکری بحث کو “غیرمنطقی مذہب” اور “منطقی سائنس” کی سیاہ و سفید عینک سے دیکھنا صرف سادہ لوحی ہی نہیں، احمقانہ بھی ہے۔ اور یہ بحث ریاضی، فلکیات یا طب پر تو تھی ہی نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس زوال کی دی جانے والی دوسری وجہ اس سے بھی زیادہ بے کار ہے۔ اور یہ سوچ کسی وجہ سے اسلامی دنیا میں مقبول ہے۔ اس کے مطابق 1258 وہ وقت تھا جب اس سنہرے دور کو بریک لگ گئی۔ جب منگولوں نے بغداد کو تہس نہس کیا اور ہلاکو خان نے کتابوں کو تباہ کیا۔ اس سال فروری میں منگول افواج نے فروری کے ایک ہفتے میں بغداد میں لاکھوں لوگوں کا قتل کیا۔ اس قدر بڑا حملہ تھا کہ بغداد اس سے کبھی نہ سنبھل سکا اور پانچ سو سالہ عباسی دور اپنے اختتام کو پہنچا۔ عراق میں تو آج بھی ایسا ہی پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن اسلامی سلطنت کا مطلب بغداد نہیں تھا۔ تیرہویں صدی میں تو یہ صفِ اول کا شہر بھی نہیں رہا تھا۔ سائنس کے درجنوں مراکز شمالی افریقہ، اندرس، فارس اور وسطی ایشیا میں تھے۔ ابنِ سینا یا البیرونی جیسے لوگوں نے تو کبھی بغداد میں قدم بھی نہیں رکھا تھا۔ اگرچہ بغداد کی تباہی ایک بڑا سانحہ تھی لیکن اسی آخری وجہ قرار دینا کاہلی کے سوال کچھ نہیں۔ (جاری ہے)

Follow Apna Pasrur Official WhatsApp Channel

Get breaking news, instant alerts, and district updates directly on your WhatsApp

Join Channel ↗

Related Tags & Topics:

You May Also Like

View All News
Nov 4, 2026•Recent•عائشہ نور

’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک کا بیان میری ناقص سیاسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ل

Nov 4, 2026•Recent•محمد رضوان

خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفت

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خواتین کو بااختیار اور خودمختار بنانے کے مشن کے تحت صوبے میں خواتین کو اسکوٹی اور موٹر سائیکل چلانے کی مفت تربیت فراہم

Nov 4, 2026•Recent•طاہر محمود

Shah Mehmood Qureshi's health is unwell, he fell in the barracks and got injured: Lawyer

Lahore (November 4, 2026): Former Foreign Minister Shah Mehmood Qureshi's condition suddenly deteriorated in Kot Lakhpat Jail. Lawyer Barrister Taimur Malik claimed that the nature of Shah Mehmood Qureshi

Nov 4, 2026•Recent•عائشہ نور

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیے

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے عمل سے متعلق 6 اہم ترین قانونی اصول واضح کرتے ہوئے بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی

Nov 4, 2026•Recent•عائشہ نور

Election Commission's strong reaction to the interview of former judge Justice (retd) Mansoor Ali Shah

Islamabad: The Election Commission, while reacting to the recent interview of former Supreme Court judge Justice (R) Mansoor Ali Shah, said that his position is contrary to the final decisions of the Supreme Court.

Nov 4, 2026•Recent•سلمان بٹ

ڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکان

ایلن واکر کی شیئر کی گئی ویڈیوز میں انہیں لاہور کی سڑکوں پر دیکھا جا سکتا ہے

گولڈن ایج (29) ۔ زوال کے اسباب | Apna Pasrur