بدھ، 4 نومبر 2026ء24 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور
Moral psychology•26 مارچ 2022•وقت اشاعت: صبح 8:53
🇬🇧 English

اخلاقیات (41) ۔ کھوکھلی روحیں

سلمان بٹنیوز سینئر سب ایڈیٹر
اخلاقیات (41) ۔ کھوکھلی روحیں
🎙️ اپنا پسرور ڈیپ ڈائیو (Google NotebookLM انداز)2-میزبان آڈیو پوڈکاسٹ

مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ

👨‍💼
اسد

میزبان و براڈکاسٹر

👩‍💼
عظمیٰ

تجزیہ کار و شریک میزبان

00:00--:--
🎧 مکمل پوڈکاسٹ سماعت کے لیے تیار ہے
مطالعہ کی سہولیات:


“Repugnance may be the only voice left that speaks up to defend the central core of our humanity. Shallow are the souls that have forgotten how to shudder.”
-Leon Kass

جرمنی میں میوس نے اشتہار دیا کہ انہیں ایک صحتمند شخص چاہیے تا کہ وہ اسے کھا سکے۔ اس اشتہار کے جواب میں برانڈس نے حامی بھری۔ میوس نے برانڈس کو ذبح کیا، گوشت فریزر میں رکھ کر کھاتا رہا۔ یہ کام باہمی رضامندی سے کیا گیا۔ (اس کی تفصیل پچھلی اقساط میں)۔ ان دونوں نے کسی بھی تیسرے کو کسی بھی طرح گزند نہیں پہنچائی۔ لیکن ہمیں یہ کہنے میں جھجک نہیں ہوتی کہ اخلاقیات کے معیار پر یہ پست ترین حرکت تھی۔ ایسا کیوں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میوس اور برانڈس نے کسی تیسرے شخص کو براہِ راست گزند نہیں پہنچائی لیکن معاشرے کے کئی بنیادی اصولوں کو پامال کیا۔
یہ ہمارا مشترکہ یقین ہے کہ انسانی جان کی قدر بہت زیادہ ہے۔ انسانی جسم محض چلتا پھرتا گوشت نہیں ہے۔ اور اس مقدس چیز کی پامالی کسی ضرورت کے تحت نہیں کی گئی۔ کسی بڑے مقصد کی خاطر نہیں کی گئی۔ صرف ایک ناقابلِ فہم تفریح کے لئے کی گئی تھی۔
باہمی رضامندی سے کئے جانے والے اس عمل کے خلاف قانون بنانے میں کسی اور کو تکلیف پہنچانے کا اصول ہماری کوئی راہنمائی نہیں کرتا۔ (اتنی محدود سوچ اخلاقی کمیونیٹی تشکیل دینے اصول ناکافی ہے)۔ لوگ یہ احساس رکھتے ہیں کہ کچھ چیزیں، اعمال اور لوگ خالص ہیں، پاک ہیں اور بلند ہیں۔ جبکہ کچھ ناپاک ہیں، آلودہ ہیں اور پست ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں تقدیس کی بنیاد پر سیاسی نظریات کی تقسیم واضح نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر، کنزرویٹو اور خاص طور پر مذہبی کنزرویٹو جسم کو عبادت گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں جو روح کا مسکن ہے۔ یہ کھیل کا میدان نہیں۔
جبکہ اس کے مخالف جیری بنتھام جیسے مفکر ہیں جن کے مطابق ہمارا مقصد لذتوں کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے اور تکالیف کو کم سے کم۔ اگر آپ کی اخلاقیات محض فرد پر اور اس کے شعوری تجربات پر فوکس کرتی ہیں پھر آپ کے لئے جیری بنتھام سے اتفاق رکھنا ممکن ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تقدیس کی اخلاقی بنیاد کنزرویٹو زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن یہی قدر لبرل افکار میں بھی ہے۔ (صرف جسم سے “زہریلے مادوں” کی صفائی کے لئے ہی نہیں)۔ ماحولیات کی تحریک کے پسِ منظر میں اخلاقی جذبات ہیں۔ ماحول کے تحفظ کا خیال کرنے والے بہت سے لوگ صنعت کاری، سرمایہ کاری اور دھواں اڑاتی گاڑیوں کو صرف فزیکل آلودگی نہیں سمجھتے۔ یہ زیادہ بڑی علامت ہے۔ اسے فطرت کی اور انسان کی اصل نیچر کی بے حرمتی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے صنعتی سرمایہ کاری آلودہ کر رہی ہے۔ یا پھر مادیت پرستی کی اندھادھند دوڑ پر تنقید کی وجہ ہماری یہی بنیادی قدر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے اہم اخلاقی تنازعات کی وجہ سمجھنے کے لئے اس اخلاقی بنیاد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب 1997 میں ایک بھیڑ ڈولی کو کلون کیا گیا تو اس سے اگلے سال فلسفی لیون کاس نے اس پر اظہارِ افسوس کیا کہ کیسے ٹیکنالوجی اخلاقی حدود کو پامال کر رہی ہے اور سب سے پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ اس خطرناک سراب کو مضبوط کر رہی ہے کہ انسان جو چاہے کر سکتا ہے۔
اپنے مضمون “کراہت کی دانائی” میں کاس لکھتے ہیں کہ کراہت کا احساس ایک قابلِ قدر انتباہ ہے کہ ہم حد سے بڑھ رہے ہیں۔ خواہ ہم اس کی وجہ ہم خود نہ بتا سکیں اور اس کا جواز نہ بنا سکیں۔
“کراہت انسان کے حد سے بڑھنے کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہم کچھ ایسی جگہ جا رہے ہیں جہاں نہیں جانا چاہیے۔ آج کے دور میں جب ہر شے کی اجازت ہے، جب انسانی فطرت کا احترام مفقود ہو چکا ہے، ہمارے جسموں کو محض ہماری آزاد مرضی کے آلات سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ کراہت شاید ہماری انسانیت کے مرکز کی آخری آواز رہ گئی ہے۔
وہ روحیں کھوکھلی ہیں جو لرزنا بھول گئی ہیں”۔
(جاری ہے)


اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں
4 نومبر 2026•41 منٹ پہلے•عائشہ نور

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیے

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے عمل سے متعلق 6 اہم ترین قانونی اصول واضح کرتے ہوئے بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔

4 نومبر 2026•1 گھنٹے پہلے•عائشہ نور

سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعمل

اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے حالیہ انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤقف سپریم کورٹ کےحتمی فیصلوں کے برعکس۔

4 نومبر 2026•4 گھنٹے پہلے•سلمان بٹ

وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا

اسلام آباد : فاسٹ موڈ ایوارڈز 2026 میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا۔

4 نومبر 2026•5 گھنٹے پہلے•وقاص احمد (مورخ و سینئر محقق)

شہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

4 نومبر 2026•5 گھنٹے پہلے•طاہر محمود

پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیا

لاہور : پنجاب کے متعدد شہر شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں ، جبکہ جھنگ 678 ائیر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔

4 نومبر 2026•7 گھنٹے پہلے•طاہر محمود

مولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاری

محمد اکرم خان پانیزئی کے حوالے سے ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد کے تحت نوٹس جاری کیے گئے۔

اخلاقیات (41) ۔ کھوکھلی روحیں | اپنا پسرور