بدھ، 4 نومبر 2026ء24 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور
Philosophy of Science•14 جنوری 2021•وقت اشاعت: رات 8:17
🇬🇧 English

سخت سائنس، نرم سائنس (6)

سخت سائنس، نرم سائنس (6)
🎙️ اپنا پسرور ڈیپ ڈائیو (Google NotebookLM انداز)2-میزبان آڈیو پوڈکاسٹ

مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ

👨‍💼
اسد

میزبان و براڈکاسٹر

👩‍💼
عظمیٰ

تجزیہ کار و شریک میزبان

00:00--:--
🎧 مکمل پوڈکاسٹ سماعت کے لیے تیار ہے
مطالعہ کی سہولیات:


“سائنسدان آجکل اس شائستہ فکشن کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تمام سائنس برابر ہے۔ ہر سائنسدان کا شعبہ اور طریقے ایک ہی جتنے مفید کام کرتے ہیں (سوائے کسی حریف کے، جو غلط سمت میں کام کر رہا ہے)”۔
یہ اقتباس 1964 میں “سائنس” کے جریدے میں جان پلاٹ کے آرٹیکل سے ہے۔ اور یہ “سخت” اور “نرم” سائنس کے درمیان بحث کی جھلک ہے۔ پلاٹ کا نکتہ تھا کہ سائنس کے کچھ شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جبکہ کچھ دوسرے شعبے وقت ضائع کر رہے ہیں۔ انہوں نے (اور کئی دوسروں نے) فزکس، کیمسٹری اور مالیکیولر بائیولوجی کو سخت سائنس قرار دیا۔ ایکولوجی، ایولیوشنری بائیولوجی، نفسیات، سوشیولوجی کو نرم سائنس۔ ان کا استدلال تھا کہ نرم سائنس میں کام کرنے والوں کو فزکس سے راہنمائی لینی چاہیے۔
پلاٹ نے اچھا نکتہ اٹھایا تھا۔ عام تاثر کے برعکس سائنس کوئی ایک شے نہیں۔ اس کا ایک طریقہ کار نہیں۔ تاہم نرم اور سخت سائنس کے بارے میں معاملہ اتنا سیدھا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا پلاٹ کا یہ دعوٰی درست ہے کہ مختلف اقسام کی سائنس میں ترقی کی رفتار فرق ہے؟ کسی حد تک ایسا ہے۔ لیکن یہ پیٹرن سیدھی لکیر کی صورت میں نہیں جو نرم اور سخت کو تقسیم کر دیتی ہے۔ پارٹیکل فزکس اور مالیکیولر بائیولوجی نے بیسویں صدی میں زبردست پیشرفت کی۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ کچھ مسائل میں طویل عرصے تک پیشرفت نہیں ہو سکی۔ نیوٹن اور آئن سٹائن کے درمیان گریویٹی کے بارے میں پیشرفت نہیں ہوئی تھی۔ جنرل ریلیٹیویٹی اور کوانٹم مکینکس کی آپس میں دوستی کروانے پر ایک صدی کے قریب کی ناکامی ہے۔
آرگانزمل بائیولوجی (ایکولوجی اور ایولیوشنری بائیولوجی) کو “تقریباً نرم” سائنس سمجھا جاتا ہے لیکن اس میں تیزرفتار پیشرفت کے کئی دور رہے ہیں۔ جبکہ مالیکیولر بائیولوجی میں 1953 میں ڈی این اے کا سٹرکچر معلوم کرنے کی کامیابی سائنس کا بڑا سنگِ میل ہے لیکن دوسری طرف انسانی جینوم سیکوئنسنگ کی کامیابی نے ماہرینِ حیاتیات کو توقع سے بہت ہی کم جوابات دئے۔
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مختلف سائنسی شعبوں میں ترقی کی رفتار مختلف رہی ہے اور ہر شعبے اور مسئلے میں کبھی تیز پیشرفت ہوتی رہی ہے اور کبھی ناکامیاں رہی ہیں جو تھیوریٹیکل (نئی انسائٹ نہ ملنا) اور ایمپیریکل (نئی دریافت نہ ہونا)، دونوں نوعیت کی ہیں۔
اس کی وجہ کیا ہے؟ کئی امکانات ہو سکتے ہیں۔ زیرِ بحث مسئلے کی پیچیدگی، تحقیق کی گرانٹ کے سائز، شعبے میں کسی قدآور شخصیات کا ہونا یا اچھی قسمت ۔۔۔ سبھی کا کردار رہتا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد فزکس کو پبلک فنڈنگ کا بڑا حصہ ملا۔ ضروری نہیں کہ زیادہ فنڈ کا لازمی مطلب تیزرفتار ترقی ہو (کینسر کے علاج پر سست پیشرفت اس کی مثال ہے)۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ بہتر آلات بنائے جا سکتے ہیں، بہتر دماغ اس شعبے کی طرف آ سکتے ہیں۔ یا پھر آئن سٹائن جیسی شخصیات کا فزکس میں ہونا اس شعبے کو پرکشش بنا دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائنسز کا ایک اور پہلو پیچیدگی ہے۔ ایک طرف پارٹیکل فزکس میں ہم سادہ ترین آبجیکٹس، ایٹم اور ان کے ذرات کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ دوسری انتہا پر بائیولوجی پیچیدہ ترین اشیا، جو اربوں خلیات پر مشتمل جانداروں یا دسیوں ہزار ویری ایبل پر مشتمل ایکوسسٹم کی سٹڈی ہے۔ ان کے درمیان میں کیمسٹری، فلکیات یا ارضیات آتے ہیں۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ فزکس میں کامیابی کی ایک وجہ اس میں پیچیدگی کے عنصر کا کم ہونا ہے۔ اس کا مطلب فزکس یا کیمسٹری میں بڑی کامیابیوں کی اہمیت کم کرنا نہیں ہے۔ صرف یہ کہ ان عوامل کی وجہ سے فزکس میں اس قدر اچھی پیشرفت تعجب کی بات نہیں۔
مالیکیولر بائیولوجی میں ڈی این اے کے سٹرکچر، ڈی این اے ریپیلکیشن، جینیاتی کوڈ، خلیاتی مشینری کی گہری دریافتیں بہت زبردست کامیابی رہی ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں سے مالیکیولر بائیولوجی جینومکس کے شعبے میں داخل ہو رہی ہے اور اس کا نتیجہ بہت زیادہ ڈیٹا حاصل کئے جانا اور شماریاتی طریقوں سے تجزیہ ہے۔ اور شماریاتی طریقے سے تجزیہ نرم سائنس کا خاصا سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پیچیدگی کی سطح بڑھنے کے ساتھ ساتھ سائنس کا یہ شعبہ اپنی ہئیت تبدیل کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مسئلہ سائنس کرنے کے طریقہ کے بارے میں عام پائی جانے والی غلط فہمی ہے۔ ہایپوتھیسس بنایا، تجربات ڈیزائن کئے، ڈیٹا اکٹھا کیا۔ جو ہائپوتھیسز ناکام ہوئے، ان کو مسترد کر دیا اور ہمیں اچھا جواب مل گیا۔ ٹھیک؟
تو پھر ایسا کیوں ہے کہ فزکس کرنے والے تو ایسا کرتے ہیں لیکن ایکولوجسٹ یا سائیکولوجسٹ وغیرہ اتنا سادہ کام نہیں کر پاتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ طریقہ صرف کچھ طرح کے سوالات کے لئے کام کرتا ہے۔ اصل دنیا سادہ نہیں اور اس میں قابلِ اعتبار علم تک پہنچنے کے کئی طرح کے طریقے بنانے پڑتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی سائنسدان بھی ہیں جو واقعی میں ایسا سمجھتے ہیں کہ سائنس ایک اچھی طرح ڈیفائنڈ ایک ہی قسم کی ایکٹیویٹی ہے۔ اصولی طور پر ہر شے فزکس ہے اور اصولی طور پر کوئی “تھیوری آف ایوری تھنگ” کی تلاش کی جا سکتی ہے۔ (یہ پوزیٹوسٹک فلسفے کا ایک خیال ہے)۔ سائنس کے کئی شعبے فزکس کی نظر سے سمجھے جا چکے ہیں اور ماضی کی کامیابی مستقبل کی ضامن ہے۔
ایسا کہنے کے ساتھ ایک مسئلہ ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ دنیا کا تمام علم “اصولی” طور پر فزکس تک ریڈیوس ہو سکتا ہے تو اس پر یہ سوال بنتا ہے کہ وہ کس اصول کا حوالہ دے رہے ہیں؟ فزکس سے سوشیولوجی، اکنامکس، سائیکولوجی، بائیولوجی یا دیگر سائنسز کا راستہ کیا ہے؟ (ایسا کوئی معلوم اصول نہیں ہے)۔ لیکن ہم پہلے تجزیہ کر لیں کہ ہمارے سوال کا مطلب کیا ہے۔
فرض کیجئے کہ میں آپ کو کہوں کہ اگر وقت اور ہمت ہو تو میں اصولی طور پر سب سے بڑے معلوم پرائم نمبر بتا سکتا ہوں اور ایسا کرنے سے انکار کر دوں کیونکہ یہ تیرہ ملین ہندسوں پر مشتمل ہے۔ تو میں نے جواب دینے سے انکار تو کیا اگرچہ میں عملی طور پر ایسا نہیں کر سکا لیکن تھیوری میں درست تھا۔ لیکن اگر میں آپ کو کہوں کہ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ لامحدود پرائم نمبر موجود ہیں۔ آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں کہ ایسے کسی ثبوت کا خاکہ کیا ہو گا (ویسے، یہ ثبوت موجود ہے) اور آپکو بالکل مطمئن نہیں ہونا چاہیے، اگر میں صرف یہ کہہ دوں کہ “مجھے “اصولی” طور پر کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ لامتناہی نہ ہوں”۔
اس لئے صرف کہہ دینا کافی نہیں کہ ہر شے فزکس کے عدسے تک ریڈیوس ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس نینسی کارٹ رائٹ کا تھیوری اینٹی رئیلزم یہ کہتا ہے کہ ایسا کرنا ممکن ہی نہیں۔ اور اگر نینسی درست ہیں تو پھر ہر سائنس ایک شے نہیں۔ اس کی ایک مثال لی سمولن نے تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے بارے میں پیش کی ہے لیکن آسان مثال ارتقا ہے جس کو فنڈامنٹل فزکس تک نہیں لے جایا جا سکتا۔ یا اکانومکس کی تھیوریوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔
کیا فوڈور، کارٹ رائٹ، لی سمولن وغیرہ اس بارے میں درست ہیں؟ پتا نہیں۔ لیکن کم از کم اس خیال پر سنجیدگی سے غور کر سکتے ہیں۔
اور اس پر اتفاق کر سکتے ہیں کہ “سخت” اور “نرم” سائنسز میں سے کوئی کمتر یا برتر نہیں اور ایسا نہیں کہ اگر ماہرینِ نفسیات فزکس کے طریقے استعمال کرتے تو بہتر نتائج حاصل ہو سکتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیری ہیجز نے 1987 میں ایک تجزیہ کیا۔ یہ فزکس (سخت سائنس کی ملکہ) اور نفسیات (نرم سائنس کی سنڈریلا) کا مقابلہ تھا۔ کیا یہ درست ہے کہ فزکس نفسیات سے بہتر پرفارم کرتی ہے؟ اس کو دکھانے کے لئے پہلا سوال تھا کہ کس لحاظ سے بہتر؟ ہیجز نے اس کا معیار consistency رکھا۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اگر زمین کا قطر 12700 کلومیٹر ہے تو مختلف طریقوں سے پیمائش کو اس کے قریب قریب نتیجہ دینا چاہیے۔ اگر ایک طریقے سے یہ تین ہزار کلومیٹر نکلتا ہے اور دوسرے سے ایک لاکھ تو پیمائش میں کچھ سنجیدہ مسئلہ ہے۔ (سوڈوسائنس کے ساتھ یہ بڑا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر کسی کری ایشنسٹ سے زمین کی عمر کے سوال کا جواب اور اس کی وجہ پوچھنا اس کی مثال ہو گی جو بتا دے گی کہ کری ایشنزم سائنس نہیں)۔
ہیجز نے پارٹیکل فزکس اور نفسیات کے مختلف شعبوں کو لیا۔ شائع ہونے والی جرائد سے کئی سال کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔ اور نتیجہ نکالا جو حیران کن تھا۔ اگر تجربات پر دہرانے پر نتائج کی مماثلت کو معیار بنایا جائے تو ان دونوں میں خاص فرق نہیں تھا۔ فزکس کے تجربات دہرائے جانے پر ایک ہی نتائج دیتے ہیں ۔۔۔ اس خیال کو ڈیٹا کی سپورٹ حاصل نہیں۔
ہیجز نے الیکٹرون اور پروٹون کے ماس کے نتائج لئے۔ ان میں توقع کی جا سکتی تھی کہ نتائج یکساں یا قریب قریب ہوں گے۔ 60 اور 70 کی دہائی میں نتائج کا کانفیڈنس انٹرول عام طور پر اوورلیپ نہیں کرتا تھا۔ یعنی کہ نتائج ایک دوسرے سے مختلف تھے۔
اس ڈیٹا کا یہ مطلب نہیں کہ فزکس میں ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ الیکٹرون یا پروٹون کا ماس کیا ہے۔ اس وقت سے اب تک بہت سے مزید تجربات ہو چکے ہیں۔ نتائج اب ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔ اور ایسا نہیں تھا کہ ہیجز جن نتائج کا تجزیہ کر رہے تھے، ان میں اتنی ویری ایشن تھی کہ نیوکلئیر فزکس کے بنیادی اصولوں پر ہی شک کیا جائے۔ لیکن بنیادی نکتہ باقی ہے۔ سائنس کی ملکہ میں بھی کئی برسوں تک نتائج میں عدم مطابقت رہتی ہے اور نرم سائنس کی سنڈریلا بھی کئی بار معاملات میں بار بار دہرانے پر بالکل یکساں نتائج دیتی ہے۔ تو کیا ان میں فرق نہیں؟
نہیں۔ ابھی ہم آگے چلتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس پر تجزیہ جارج ہاورڈ نے کر کے دکھایا کہ فزکس میں آئندہ آنے والے نتائج کی پیشگوئی اور وضاحت کی طاقت بہت زیادہ ہے اور یہ وہ چیز ہے جو نرم اور سخت سائنس کو الگ کرتی ہے۔
ہاورڈ نے یہ بھی دکھایا کہ پارٹیکل فزکس میں ہم نوے فیصد سے زائد فرق کی وضاحت تجربات میں پیمائش کے نقص کی وجہ سے کر لیتے ہیں۔ جبکہ سوشل سائنس میں نہیں۔ اور اس میں فیکٹرز “نامعلوم” رہتے ہیں۔ اور یہ وہ چیز ہے جو انہیں “نرم” بناتی ہے۔ اور یہ وجہ ہے کہ پیشگوئی کی طاقت سخت سائنسز میں زیادہ ہے۔
اب سوال یہ کہ نرم سائنسز میں وضاحت کی طاقت کم کیوں ہے (یہاں موازنہ سوڈوسائنس سے نہیں، جن کی وضاحتی طاقت صفر ہے)۔ کیا اس کی وجہ انسانی ایجنسی ہے؟ جو یہ طے کر دیتی ہے؟ کیوں تجربات ہر بار دہرانے پر وہی نتائج نہیں دیتے؟
نہیں۔ یہاں پر ایک اور تصور ہے جو سائنس کے تصورات میں سے سب سے پرسرار ترین ہے۔ یہ کازیلیٹی کا تصور ہے۔
(جاری ہے)


اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں
4 نومبر 2026•40 منٹ پہلے•عائشہ نور

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیے

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے عمل سے متعلق 6 اہم ترین قانونی اصول واضح کرتے ہوئے بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔

4 نومبر 2026•1 گھنٹے پہلے•عائشہ نور

سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعمل

اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے حالیہ انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤقف سپریم کورٹ کےحتمی فیصلوں کے برعکس۔

4 نومبر 2026•4 گھنٹے پہلے•سلمان بٹ

وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا

اسلام آباد : فاسٹ موڈ ایوارڈز 2026 میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا۔

4 نومبر 2026•5 گھنٹے پہلے•وقاص احمد (مورخ و سینئر محقق)

شہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

4 نومبر 2026•5 گھنٹے پہلے•طاہر محمود

پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیا

لاہور : پنجاب کے متعدد شہر شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں ، جبکہ جھنگ 678 ائیر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔

4 نومبر 2026•7 گھنٹے پہلے•طاہر محمود

مولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاری

محمد اکرم خان پانیزئی کے حوالے سے ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد کے تحت نوٹس جاری کیے گئے۔

سخت سائنس، نرم سائنس (6) | اپنا پسرور