📌 اہم تاریخی و دستاویزاتی نکات:
- سر سیرل ریڈکلف کے متنازع باؤنڈری ایوارڈ کے تحت گورداسپور کے مسلم اکثریتی اضلاع بھارت کے حوالے کیے جانے کے باعث پسرور براہِ راست سرحدی اور پناہ گزینوں کا پہلا محفوظ مسکن بن گیا۔
- اگست سے دسمبر 1947ء کے دوران پسرور ریلوے اسٹیشن اور کچہری گراؤنڈ پر پنجاب کے سب سے بڑے عبوری مہاجر کیمپس قائم کیے گئے۔
- بٹالہ، پٹھانکوٹ، گورداسپور، ہوشیارپور اور مقبوضہ جموں سے پیدل اور مال گاڑیوں کے ذریعے پہنچنے والے لاکھوں لٹے پٹے مہاجرین کو پسرور کے شہریوں نے گلے لگایا۔
- 1951ء کی پہلی مردم شماری کے مطابق تحصیل پسرور کی آبادی کا ایک بڑا حصہ مشرقی پنجاب اور مقبوضہ جموں کے باعزت مہاجرین پر مشتمل تھا جنہوں نے دھرتی کو نئی معاشی توانائی بخشی۔
1. ریڈکلف ایوارڈ کا المیہ اور پسرور کا سرحدی کردار
17 اگست 1947ء کو جب برطانوی باؤنڈری کمیشن کے سربراہ سر سیرل ریڈکلف کا متنازع فیصلہ سامنے آیا، تو اس نے تاریخ کا بدترین جغرافیائی زخم لگایا۔ متصل مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور کی تین تحصیلیں (گورداسپور، بٹالہ اور پٹھانکوٹ) بددیانتی کے ساتھ بھارت کے حوالے کر دی گئیں۔ اس فیصلے نے ضلع سیالکوٹ اور بالخصوص تحصیل پسرور کو مشرقی پنجاب سے آنے والے لٹے پٹے مہاجرین کے قافلوں کی پہلی پناہ گاہ بنا دیا۔
دریائے راوی پار کر کے جب پیدل قافلے (قافلہ ہائے مہاجرین) پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے، تو شکر گڑھ، نارووال اور پسرور ان کی منزل بنے۔ برطانوی دستاویزات The Transfer of Power (Vol. XII) اور پاکستانی قومی دستاویزات کے مطابق اس دور میں پسرور کی سڑکوں پر رات دن خون میں لت پت مظلوموں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔
2. پسرور ریلوے اسٹیشن: امید اور زندگی کی علامت
شمال مغربی ریلوے کے سیالکوٹ-پسرور-نارووال روٹ نے اگست 1947ء میں لاکھوں جانیں بچانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ پسرور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارمز پر خصوصی مہاجر ٹرینیں (Refugee Specials) پہنچتی تھیں۔
پسرور کے مقامی عمائدین، وکلاء، علماء اور انجمنِ اسلامیہ کے رضاکاروں نے ریلوے اسٹیشن اور ملحقہ میدانوں میں وسیع خیمہ بستیاں، فیلڈ اسپتال اور چوبیس گھنٹے چلنے والے لنگر خانے قائم کیے۔ شہریوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے اور مہاجر بھائیوں کے ساتھ اپنے کپڑے، بستر اور خوراک شیئر کر کے تاریخِ مدینہ کے مواخات کی یاد تازہ کر دی۔
3. مستقل آبادکاری اور پسرور کا سماجی احیاء
فسادات تھمنے کے بعد حکومتِ پاکستان کے محکمہ بحالیات (Rehabilitation Department) نے پسرور کے خالی ہونے والے مکانات، زرعی اراضی اور باغات کو باضابطہ کلیمز کے تحت مہاجرین میں الاٹ کیا۔
گورنمنٹ آف پاکستان کی پہلی سینسس رپورٹ (1951ء) کے مطابق تحصیل پسرور میں ایک لاکھ سے زائد مہاجرین مستقل طور پر آباد ہوئے۔ ان محنتی اور تعلیم یافتہ خاندانوں نے پسرور کے تعلیمی اداروں، زراعت، تجارت اور صنعت و حرفت میں غیر معمولی کردار ادا کیا اور پسرور کی موجودہ ترقی، اخوت اور بھائی چارے کی مستحکم بنیاد رکھی۔
📚 مستند تاریخی دستاویزات و آرکائیوز:
- The Transfer of Power (1942-1947): Volume XII: The Mountbatten Viceroyalty, Her Majesty's Stationery Office (HMSO), London.
- Partition of the Punjab 1947: A Compilation of Official Documents (Vols. I-IV), National Documentation Centre, Islamabad.
- Pakistan Census Report 1951: District Sialkot, Tables on Refugee Population and Livelihoods.
- Government of Punjab, Rehabilitation & Resettlement Records (1948-1954): Lahore Archives.
- Freedom at Midnight: Larry Collins & Dominique Lapierre (Accounts of Punjab Refugee Convoys).












