📌 اہم تاریخی و تحقیقی نکات:
- پسرور کی بنیاد قدیم ہندو روایات کے مطابق راجہ پرسرام (Paras Ram) نے رکھی، جس کی وجہ سے یہ علاقہ ابتدائی سنسکرت کتبات میں 'پرسرام پور' کہلایا۔
- قدیم یونانی اور بدھ مت متون میں بیان کردہ خطہ 'مدرا دیش' (Madra Desha) اور دارالحکومت 'ساکلہ' (موجودہ سیالکوٹ) کا مشرقی دفاعی دروازہ پسرور کا مقام تھا۔
- راجہ سالباہن (Salwan) اور پورن بھگت کی داستانوں کا جغرافیائی تعلق اسی خطے سے جڑا ہے، جس کے متعدد آثار اور قدیم مٹی کے ٹیلے (Thehs) پسرور اور چونڈہ کے اطراف موجود ہیں۔
- سکندرِ اعظم کے مؤرخین نے نالہ ڈیک اور دریائے راوی کے درمیانی خطے کے بہادر کاتھائی (Kathaioi) قبیلے کا ذکر کیا ہے جنہوں نے غیر ملکی افواج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
1. راجہ پرسرام اور قصبے کی اولین بنیاد (پرسرام پور سے پسرور تک)
رچنا دوآب کے عین قلب میں نالہ ڈیک کے بالائی میدانوں میں واقع پسرور برصغیر کی قدیم ترین انسانی بستیوں میں شمار ہوتا ہے۔ منشی گوپال داس کی تاریخی تصنیف تاریخِ سیالکوٹ (1865ء) اور برطانوی لینڈ ریونیو سروے کے مطابق اس شہر کی بنیاد راجہ پرسرام نامی ایک مقامی سورج بنسی حکمران نے رکھی تھی۔ اس دور میں یہ بستی "پرسرام پور" یا "پارس رور" کے نام سے موسوم ہوئی۔ صدیوں کے تغیر و تبدل، مقامی پراکرت زبانوں کے ارتقاء اور عوامی لہجے کے اثرات کے باعث یہ نام بالآخر مختصر ہو کر "پسرور" کی صورت اختیار کر گیا۔
سر الیگزینڈر کننگھم نے اپنی کتاب Ancient Geography of India (1871ء) میں نشاندہی کی ہے کہ سیالکوٹ، ایمن آباد اور پسرور کی تکون قدیم تجارتی گزرگاہ پر واقع تھی جو ہمالیہ کے دامن سے وسطی پنجاب اور دہلی کی طرف جاتی تھی۔ پسرور کا قدرتی محل وقوع مٹی کی غیر معمولی زرخیزی اور وافر زیرِ زمین میٹھے پانی کے ذخائر کی بدولت قدیم زمانے سے ہی زراعت اور تجارتی قافلوں کی محفوظ پناہ گاہ رہا ہے۔
2. ساکلہ (سیالکوٹ)، راجہ سالباہن اور پورن بھگت کی روایات
عہدِ قدیم میں سیالکوٹ کا خطہ جب ساکلہ (Sagala) کے نام سے بدھ مت اور یونانی-ہندوستانی (Greco-Bactrian) تہذیب کا عظیم مرکز بنا، تو پسرور اس کا اہم ترین مشرقی قلعہ بند دیہی خطہ تھا۔ پہلی صدی عیسوی کے راجہ سالباہن (راجہ سلوان) کے عہد میں یہاں دفاعی چوکیاں قائم کی گئیں۔
پنجاب کے لوک ادب اور تاریخی داستانوں میں شہرت پانے والے صوفی منش پورن بھگت (راجہ سالباہن کے صاحبزادے) کا کنواں اور اس سے وابستہ روحانی قصے اسی دھرتی سے جڑے ہیں۔ پسرور اور چونڈہ کے درمیانی دیہات میں آج بھی کئی ایسے قدیم مقامات اور باؤلیاں موجود ہیں جو اس عہدِ رفتہ کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں۔
3. قدیم ٹیلے (Thehs) اور آثارِ قدیمہ کی خاموش گواہی
تحصیل پسرور کے اطراف میں درجنوں قدیم مٹی کے ٹیلے پائے جاتے ہیں جنہیں مقامی زبان میں "تھہ" (Theh) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل قدیم تباہ شدہ بستیوں کے ملبے کے انبار ہیں جو صدیوں کی سیلابی اور جنگی تباہ کاریوں کے بعد مٹی کے نیچے دب گئے۔
1883ء کے ڈسٹرکٹ گزیٹیئر آف سیالکوٹ کے مطابق ان ٹیلوں کی کھدائی سے کشن عہد (Kushan Period) کے تانبے کے سکے، قدیم مٹی کے برتن، اینٹیں اور جنگی ہتھیار برآمد ہوئے، جو اس بات کا حتمی سائنسی اور تاریخی ثبوت ہیں کہ پسرور میں مسلمانوں کی آمد اور مغل دور سے کم از کم دو ہزار سال قبل بھی ایک ترقی یافتہ شہری اور دیہی تہذیب سانس لے رہی تھی۔
📚 مستند تاریخی ماخذ و حوالہ جات:
- Ancient Geography of India: Sir Alexander Cunningham (1871), The Buddhist Period, Trübner & Co., London, pp. 206-215.
- تاریخِ سیالکوٹ: منشی گوپال داس (1865ء)، مطبوعہ وکٹوریا پریس لاہور، باب دوم: قدیم پرگنہ جات اور راجگان کی تاریخ۔
- Gazetteer of the Sialkot District (1883-84): Published by Punjab Government, Lahore (Civil and Military Gazette Press).
- The History of India as Told by Its Own Historians: Sir H.M. Elliot and Prof. John Dowson, Vol. II & III.
- Settlement Report of Sialkot District: By E.A. Prinsep (1865), Land Tenures and Antiquities of Pasrur.












