جمعہ، 30 اکتوبر 2026ء19 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
بکرے کے پائے کینیڈا لانے پر پاکستانی مسافر کو جرمانے کا سامناایران کی 7 شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات میں پیشرفت ممکن نہیں: باقر قالیبافایران نے نائب امریکی صدر کے خط کا جواب تاحال نہیں دیا: امریکی میڈیاایران امریکا معاہدے کی کوشش، قطری ثالث پھر ایران پہنچ گئے: برطانوی میڈیابرطرف امریکی جنرل کا ایران و یوکرین سے متعلق خفیہ معلومات صحافیوں کو دینے کا اعترافسنگاپور ایئرلائنز کا دبئی کیلئے فلائٹ آپریشنز فروری 2027ء تک معطل کرنے کا فیصلہایران کا آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰایران پر دوبارہ امریکی حملوں کے خدشات، برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکا کا اپنے غیر ہنگامی اسٹاف کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکمایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آربکرے کے پائے کینیڈا لانے پر پاکستانی مسافر کو جرمانے کا سامناایران کی 7 شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات میں پیشرفت ممکن نہیں: باقر قالیبافایران نے نائب امریکی صدر کے خط کا جواب تاحال نہیں دیا: امریکی میڈیاایران امریکا معاہدے کی کوشش، قطری ثالث پھر ایران پہنچ گئے: برطانوی میڈیابرطرف امریکی جنرل کا ایران و یوکرین سے متعلق خفیہ معلومات صحافیوں کو دینے کا اعترافسنگاپور ایئرلائنز کا دبئی کیلئے فلائٹ آپریشنز فروری 2027ء تک معطل کرنے کا فیصلہایران کا آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰایران پر دوبارہ امریکی حملوں کے خدشات، برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکا کا اپنے غیر ہنگامی اسٹاف کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکمایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آربکرے کے پائے کینیڈا لانے پر پاکستانی مسافر کو جرمانے کا سامناایران کی 7 شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات میں پیشرفت ممکن نہیں: باقر قالیبافایران نے نائب امریکی صدر کے خط کا جواب تاحال نہیں دیا: امریکی میڈیاایران امریکا معاہدے کی کوشش، قطری ثالث پھر ایران پہنچ گئے: برطانوی میڈیابرطرف امریکی جنرل کا ایران و یوکرین سے متعلق خفیہ معلومات صحافیوں کو دینے کا اعترافسنگاپور ایئرلائنز کا دبئی کیلئے فلائٹ آپریشنز فروری 2027ء تک معطل کرنے کا فیصلہایران کا آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰایران پر دوبارہ امریکی حملوں کے خدشات، برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکا کا اپنے غیر ہنگامی اسٹاف کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکمایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آربکرے کے پائے کینیڈا لانے پر پاکستانی مسافر کو جرمانے کا سامناایران کی 7 شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات میں پیشرفت ممکن نہیں: باقر قالیبافایران نے نائب امریکی صدر کے خط کا جواب تاحال نہیں دیا: امریکی میڈیاایران امریکا معاہدے کی کوشش، قطری ثالث پھر ایران پہنچ گئے: برطانوی میڈیابرطرف امریکی جنرل کا ایران و یوکرین سے متعلق خفیہ معلومات صحافیوں کو دینے کا اعترافسنگاپور ایئرلائنز کا دبئی کیلئے فلائٹ آپریشنز فروری 2027ء تک معطل کرنے کا فیصلہایران کا آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰایران پر دوبارہ امریکی حملوں کے خدشات، برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکا کا اپنے غیر ہنگامی اسٹاف کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکمایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
بین الاقوامی2 گھنٹے پہلے•31 اکتوبر 2026•وقت اشاعت: صبح 2:05
🇬🇧 English

برطانیہ میں پناہ گزینوں کیلیے پروگرام، پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے!

ڈاکٹر عاصم رضاایڈیٹر بین الاقوامی و سفارتی امور
برطانیہ میں پناہ گزینوں کیلیے پروگرام، پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے!

📌 اہم نکات (خلاصہ):

  • پاکستان سمیت 7 ممالک میں موجود اہل پناہ گزین نئے برطانوی پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے تاہم پاکستان میں مقیم ہر پاکستانی شہری نئے پناہ گزین پروگرام کے لیے اہل نہیں ہو۔
  • نئے پروگرام میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش، مصر، کینیا، ملائیشیا اور یوگنڈا شامل ہیں۔
  • اہل پناہ گزینوں کے لیے یکم اکتوبر 2026 سے پہلے رجسٹریشن کی شرط رکھی گئی ہے برطانیہ میں کم از کم پانچ افراد مل کر کمیونٹی اسپانسرشپ گروپ بنا سکیں۔
  • اسپانسرشپ گروپ کے لیے ہوم آفس سے منظورشدہ لیڈ اسپانسر کے ساتھ کام کرنا لازمی ہو۔

بین الاقوامی ڈیسک (واشنگٹن / لندن): برطانیہ میں پناہ گزینوں کے لیے 3 نئے اسپانسرشپ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کر دیا گیا۔

پاکستان سمیت 7 ممالک میں موجود اہل پناہ گزین نئے برطانوی پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے تاہم پاکستان میں مقیم ہر پاکستانی شہری نئے پناہ گزین پروگرام کے لیے اہل نہیں ہو گا، درخواست گزار کا اپنے آبائی ملک سے باہر بطور پناہ گزین موجود ہونا لازمی ہو گا۔

نئے پروگرام میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش، مصر، کینیا، ملائیشیا اور یوگنڈا شامل ہیں۔

اہل پناہ گزینوں کے لیے یکم اکتوبر 2026 سے پہلے رجسٹریشن کی شرط رکھی گئی ہے برطانیہ میں کم از کم پانچ افراد مل کر کمیونٹی اسپانسرشپ گروپ بنا سکیں گے۔

اسپانسرشپ گروپ کے لیے ہوم آفس سے منظورشدہ لیڈ اسپانسر کے ساتھ کام کرنا لازمی ہو گا۔ پناہ گزین خاندان کی اسپانسرشپ کے لیے 9 ہزار سے 15 ہزار پاؤنڈ تک وسائل درکار ہو سکتے ہیں۔

اسپانسرز کو پناہ گزینوں کے لیے رہائش، مالی معاونت اور بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہوں گی۔ اسپانسرشپ کے ذریعے پناہ گزینوں سے رقم وصول کرنے یا منافع کمانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

برطانوی یونیورسٹیاں اہل پناہ گزین طلبہ کو تعلیم کے لیے اسپانسر کر سکیں گی۔

⚖️ قانونی و صحافتی ماخذ، مصدقہ ریکارڈ و ڈس کلیمر پڑھیں ▼
📰 باضابطہ ماخذ و تصدیق: اے آر وائی نیوز: قومی و بین الاقوامی قومی صحافتی و دستاویزی ریکارڈ

قانونی و ادارتی وضاحت (Disclaimer): یہ رپورٹ ملکی ضوابط (PECA 2016 / PEMRA) کے تحت معتبر قومی خبر رساں ادارے اے آر وائی نیوز: قومی و بین الاقوامی کے جاری کردہ حقائق کی روشنی میں عوامی آگاہی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ خبر کے تمام اصل صحافتی و دستاویزی ماخذ کا ریکارڈ ادارے کے پاس محفوظ ہے۔

دی اردو پوسٹ ویب ڈیسک: یہ رپورٹ مصدقہ صحافتی و ادارتی ذرائع کی روشنی میں قارئین کے لیے شائع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں