برطانیہ میں پناہ گزینوں کیلیے پروگرام، پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے!

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- پاکستان سمیت 7 ممالک میں موجود اہل پناہ گزین نئے برطانوی پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے تاہم پاکستان میں مقیم ہر پاکستانی شہری نئے پناہ گزین پروگرام کے لیے اہل نہیں ہو۔
- نئے پروگرام میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش، مصر، کینیا، ملائیشیا اور یوگنڈا شامل ہیں۔
- اہل پناہ گزینوں کے لیے یکم اکتوبر 2026 سے پہلے رجسٹریشن کی شرط رکھی گئی ہے برطانیہ میں کم از کم پانچ افراد مل کر کمیونٹی اسپانسرشپ گروپ بنا سکیں۔
- اسپانسرشپ گروپ کے لیے ہوم آفس سے منظورشدہ لیڈ اسپانسر کے ساتھ کام کرنا لازمی ہو۔
بین الاقوامی ڈیسک (واشنگٹن / لندن): برطانیہ میں پناہ گزینوں کے لیے 3 نئے اسپانسرشپ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان سمیت 7 ممالک میں موجود اہل پناہ گزین نئے برطانوی پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے تاہم پاکستان میں مقیم ہر پاکستانی شہری نئے پناہ گزین پروگرام کے لیے اہل نہیں ہو گا، درخواست گزار کا اپنے آبائی ملک سے باہر بطور پناہ گزین موجود ہونا لازمی ہو گا۔
نئے پروگرام میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش، مصر، کینیا، ملائیشیا اور یوگنڈا شامل ہیں۔
اہل پناہ گزینوں کے لیے یکم اکتوبر 2026 سے پہلے رجسٹریشن کی شرط رکھی گئی ہے برطانیہ میں کم از کم پانچ افراد مل کر کمیونٹی اسپانسرشپ گروپ بنا سکیں گے۔
اسپانسرشپ گروپ کے لیے ہوم آفس سے منظورشدہ لیڈ اسپانسر کے ساتھ کام کرنا لازمی ہو گا۔ پناہ گزین خاندان کی اسپانسرشپ کے لیے 9 ہزار سے 15 ہزار پاؤنڈ تک وسائل درکار ہو سکتے ہیں۔
اسپانسرز کو پناہ گزینوں کے لیے رہائش، مالی معاونت اور بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہوں گی۔ اسپانسرشپ کے ذریعے پناہ گزینوں سے رقم وصول کرنے یا منافع کمانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
برطانوی یونیورسٹیاں اہل پناہ گزین طلبہ کو تعلیم کے لیے اسپانسر کر سکیں گی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











