اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقات سے متعلق بڑی پیشرفت

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے جیل میں ملاقات کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ارکان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔
- یہ درخواست نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی جانب سے سینئر وکیل فیصل فرید چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی۔
- درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے دیرینہ ساتھی اور دوست ہونے کی وجہ سے ان کی اور بشریٰ بی بی کی صحت اور خیریت پر شدید تشویش۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد(2 نومبر 2026): اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے جیل میں ملاقات کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ارکان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے جیل میں ملاقات کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ارکان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ یہ درخواست جسٹس عمیر مجید ملک کی عدالت میں جمعرات (5 نومبر) کو سماعت کے لیے پیش کی جائے۔
یہ درخواست نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی جانب سے سینئر وکیل فیصل فرید چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، محمود مولوی اور بیرسٹر سیف شامل ہیں، جبکہ سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ہوم پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے دیرینہ ساتھی اور دوست ہونے کی وجہ سے ان کی اور بشریٰ بی بی کی صحت اور خیریت پر شدید تشویش۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ، دوستوں اور قریبی رشتہ داروں کو کئی ماہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور جیل حکام کا رویہ بھی نامناسب اور بدسلوکی پر مبنی۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاقاتوں پر غیر قانونی پابندی کے باعث سوشل میڈیا پر افواہوں اور قیاس آرائیوں کو ہوا مل رہی ہے، جس سے عوامی سطح پر بے چینی اور تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ حالات میں سیاسی استحکام، آئین کی بالادستی اور قومی مصالحت کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
مؤقف کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کے علاوہ جیل قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، اور انہیں ملاقاتوں سے محروم رکھنا اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے بھی منافی۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے وفد کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور اس کے لیے مناسب وقت مقرر کیا جائے تاکہ ان کی صحت، ویلفیئر اور قانونی تحفظ کا جائزہ لیا جا سکے۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










