اسلام آباد: جڑواں بچیوں کی پیدائش کے دوران خاتون کی موت، ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کی درخواست خارج

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے نجی اسپتال میں جڑواں بچیوں کی پیدائش کے بعد خاتون کے انتقال سے متعلق کیس کا چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔
- فیصلے کے مطابق ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ڈاکٹروں کا ارادہ خاتون کی موت کا سبب بننے کا تھا یا بے ہوشی کی دوا کا استعمال علاج کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے کیا گیا۔
- سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ طبی علاج کے دوران موت واقع ہونے کو بذاتِ خود فوج داری غفلت نہیں سمجھا جا سکتا، پی ایم ڈی سی بھی طبی غفلت سے متعلق ابتدائی کارروائی واپس لے چکی تھی۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد کے نجی اسپتال میں جڑواں بچیوں کی پیدائش کے دوران خاتون کی موت کے معاملے پر سپریم کورٹ نے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کے لیے شوہر کی درخواست خارج کردی۔
سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے نجی اسپتال میں جڑواں بچیوں کی پیدائش کے بعد خاتون کے انتقال سے متعلق کیس کا چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ڈاکٹروں نے مریضہ کے علاج کے لیے طبی طریقہ کار اختیار کیا اور ڈیلیوری سے قبل آپریشن کے لیے رضامندی بھی حاصل کی گئی تھی۔
فیصلے کے مطابق ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ڈاکٹروں کا ارادہ خاتون کی موت کا سبب بننے کا تھا یا بے ہوشی کی دوا کا استعمال علاج کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ طبی علاج کے دوران موت واقع ہونے کو بذاتِ خود فوج داری غفلت نہیں سمجھا جا سکتا، پی ایم ڈی سی بھی طبی غفلت سے متعلق ابتدائی کارروائی واپس لے چکی تھی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











