بدھ، 28 اکتوبر 2026ء17 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
حکومت کا پمز اصلاحاتی عمل پیشرفت کا روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کا فیصلہلاہور ہائیکورٹ: عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی میں توسیع کے خلاف درخواست دائروزیراعلیٰ پنجاب کے کاشتکاروں کیلئے 10 بڑے اعلاناتآوارہ کتوں کی تلفی کے اقدامات کا جائزہ، مقررہ اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت!پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری، خرید و فروخت کے ٹیکس اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مکمل رہنمائیڈپٹی کمشنر اویس مشتاق کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر و انفورسمنٹ صولت حیات وٹو کی پرائس مجسٹریٹس کے اجلاس کی صدارت اور ہفتہ وار کاکردگی کا جائزہ لیا گیاسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید بڑھ گئیسابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائشحنا جاوید قتل کیس میں ملزم ذیشان کی والدہ نے بھی مریم نواز کو داد رسی کے لیے درخواست لکھ دیپاکستان کرکٹ بورڈ اور نجی بینک کے درمیان اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلیے معاہدہحکومت کا پمز اصلاحاتی عمل پیشرفت کا روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کا فیصلہلاہور ہائیکورٹ: عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی میں توسیع کے خلاف درخواست دائروزیراعلیٰ پنجاب کے کاشتکاروں کیلئے 10 بڑے اعلاناتآوارہ کتوں کی تلفی کے اقدامات کا جائزہ، مقررہ اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت!پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری، خرید و فروخت کے ٹیکس اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مکمل رہنمائیڈپٹی کمشنر اویس مشتاق کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر و انفورسمنٹ صولت حیات وٹو کی پرائس مجسٹریٹس کے اجلاس کی صدارت اور ہفتہ وار کاکردگی کا جائزہ لیا گیاسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید بڑھ گئیسابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائشحنا جاوید قتل کیس میں ملزم ذیشان کی والدہ نے بھی مریم نواز کو داد رسی کے لیے درخواست لکھ دیپاکستان کرکٹ بورڈ اور نجی بینک کے درمیان اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلیے معاہدہحکومت کا پمز اصلاحاتی عمل پیشرفت کا روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کا فیصلہلاہور ہائیکورٹ: عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی میں توسیع کے خلاف درخواست دائروزیراعلیٰ پنجاب کے کاشتکاروں کیلئے 10 بڑے اعلاناتآوارہ کتوں کی تلفی کے اقدامات کا جائزہ، مقررہ اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت!پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری، خرید و فروخت کے ٹیکس اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مکمل رہنمائیڈپٹی کمشنر اویس مشتاق کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر و انفورسمنٹ صولت حیات وٹو کی پرائس مجسٹریٹس کے اجلاس کی صدارت اور ہفتہ وار کاکردگی کا جائزہ لیا گیاسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید بڑھ گئیسابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائشحنا جاوید قتل کیس میں ملزم ذیشان کی والدہ نے بھی مریم نواز کو داد رسی کے لیے درخواست لکھ دیپاکستان کرکٹ بورڈ اور نجی بینک کے درمیان اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلیے معاہدہحکومت کا پمز اصلاحاتی عمل پیشرفت کا روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کا فیصلہلاہور ہائیکورٹ: عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی میں توسیع کے خلاف درخواست دائروزیراعلیٰ پنجاب کے کاشتکاروں کیلئے 10 بڑے اعلاناتآوارہ کتوں کی تلفی کے اقدامات کا جائزہ، مقررہ اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت!پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری، خرید و فروخت کے ٹیکس اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مکمل رہنمائیڈپٹی کمشنر اویس مشتاق کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر و انفورسمنٹ صولت حیات وٹو کی پرائس مجسٹریٹس کے اجلاس کی صدارت اور ہفتہ وار کاکردگی کا جائزہ لیا گیاسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید بڑھ گئیسابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائشحنا جاوید قتل کیس میں ملزم ذیشان کی والدہ نے بھی مریم نواز کو داد رسی کے لیے درخواست لکھ دیپاکستان کرکٹ بورڈ اور نجی بینک کے درمیان اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلیے معاہدہ
اہم خبریں1 گھنٹے پہلے•28 اکتوبر 2026•وقت اشاعت: دوپہر 3:35
🇬🇧 English

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری، خرید و فروخت کے ٹیکس اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مکمل رہنمائی

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری، خرید و فروخت کے ٹیکس اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مکمل رہنمائی

📌 اہم نکات (خلاصہ):

  • اکثر لوگ جائیداد کی قیمت تو معلوم کر لیتے ہیں، لیکن رجسٹری، اسٹامپ ڈیوٹی، سرکاری ٹیکس، انتقال اور دیگر اخراجات کا درست اندازہ نہیں لگاتے۔
  • نتیجتاً رجسٹری کے وقت انہیں توقع سے زیادہ رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
  • اس مضمون میں ان تمام معاملات کو آسان زبان میں سمجھایا گیا ہے تاکہ آپ جائیداد کا سودا کرنے سے پہلے بہتر تیاری کر سکیں۔
  • اہم نوٹ: یہ رہنما 28 اکتوبر 2026 تک دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری، خرید و فروخت کے ٹیکس اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مکمل رہنما

پسرور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں زمین، مکان یا پلاٹ خریدنے اور فروخت کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ رجسٹری پر کتنی فیس ادا کرنا ہوگی، خریدار اور فروخت کنندہ پر کون سے ٹیکس لاگو ہوتے ہیں، فائلر اور نان فائلر میں کیا فرق ہے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پاکستان آئے بغیر اپنی جائیداد کی خرید و فروخت کیسے کر سکتے ہیں۔

اکثر لوگ جائیداد کی قیمت تو معلوم کر لیتے ہیں، لیکن رجسٹری، اسٹامپ ڈیوٹی، سرکاری ٹیکس، انتقال اور دیگر اخراجات کا درست اندازہ نہیں لگاتے۔ نتیجتاً رجسٹری کے وقت انہیں توقع سے زیادہ رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

اس مضمون میں ان تمام معاملات کو آسان زبان میں سمجھایا گیا ہے تاکہ آپ جائیداد کا سودا کرنے سے پہلے بہتر تیاری کر سکیں۔

اہم نوٹ: یہ رہنما 28 اکتوبر 2026 تک دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ ٹیکس اور سرکاری فیسوں میں تبدیلی ممکن ہے۔ ادائیگی سے پہلے متعلقہ سب رجسٹرار، پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA)، بورڈ آف ریونیو اور ایف بی آر سے اپنی جائیداد کے مطابق تازہ شرح کی تصدیق ضرور کریں۔

1۔ پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری کیا ہے؟

رجسٹری وہ قانونی عمل ہے جس کے ذریعے جائیداد کی خرید و فروخت کی دستاویز متعلقہ رجسٹریشن دفتر میں درج کی جاتی ہے۔ اس کے بعد، جہاں ضروری ہو، ریونیو ریکارڈ میں انتقال بھی درج کرایا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر پسرور میں کوئی شخص ایک مکان خریدتا ہے تو اسے صرف فروخت کنندہ کو رقم ادا کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ اسے ملکیت کی تصدیق، فروخت کی قانونی دستاویز، متعلقہ ٹیکس اور فیسوں کی ادائیگی، رجسٹری اور انتقال کے مراحل بھی مکمل کرنے چاہییں۔

یاد رکھیں کہ رجسٹری اور انتقال الگ مراحل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سودا مکمل ہونے کے بعد یہ بھی تصدیق کریں کہ متعلقہ ریکارڈ میں ملکیت کی تبدیلی درج ہو چکی ہے۔

2۔ رجسٹری کی فیس کہاں اور کیسے ادا کی جاتی ہے؟

پنجاب میں ای-اسٹامپنگ کے نظام کے ذریعے اسٹامپ ڈیوٹی اور متعلقہ واجبات کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔

اس عمل میں عموماً درج ذیل مراحل شامل ہوتے ہیں:

  1. جائیداد اور فریقین کی تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں۔

  2. متعلقہ سرکاری نظام میں قابلِ اطلاق ڈیوٹیز اور فیسوں کا حساب کیا جاتا ہے۔

  3. چالان، مثلاً چالان فارم 32-A، تیار کیا جاتا ہے۔

  4. دستیاب سرکاری بینک یا آن لائن ادائیگی کے ذریعے رقم جمع کرائی جاتی ہے۔

  5. ادائیگی کی تصدیق کے بعد ای-اسٹامپ اور رجسٹری کے دیگر مراحل مکمل کیے جاتے ہیں۔

بینک آف پنجاب (BOP) پنجاب کے ای-اسٹامپنگ نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، ادائیگی کے دستیاب طریقے اور ای-اسٹامپ جاری کرنے کا طریقہ متعلقہ لین دین اور موجودہ سرکاری نظام کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

سرکاری پورٹل:
پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی: https://www.punjab-zameen.gov.pk/
ای-رجسٹریشن: https://www.punjab-zameen.gov.pk/ERegistration

صرف غیر سرکاری ایجنٹ کی فراہم کردہ رسید پر انحصار نہ کریں۔ چالان نمبر، ادائیگی کی رسید اور ای-اسٹامپ کی تصدیق ضرور کریں۔

3۔ جائیداد کی رجسٹری پر کون کون سی فیسیں اور ٹیکس لگ سکتے ہیں؟

رجسٹری کے اخراجات صرف ایک فیس پر مشتمل نہیں ہوتے۔ جائیداد کی نوعیت، مقام، سرکاری مالیت، متعلقہ قانون اور لین دین کی نوعیت کے مطابق مختلف واجبات لاگو ہو سکتے ہیں۔

اہم مدات درج ذیل ہیں:

اسٹامپ ڈیوٹی (Stamp Duty)

یہ جائیداد کی منتقلی یا متعلقہ قانونی دستاویز پر عائد صوبائی ڈیوٹی ہے۔ اس کی شرح متعلقہ قانون اور جائیداد کی قسم کے مطابق دیکھی جانی چاہیے۔

ٹاؤن یا مقامی حکومت کے واجبات

بعض معاملات میں متعلقہ بلدیاتی ادارے، ٹاؤن کمیٹی یا مقامی اتھارٹی کے ٹیکس یا چارجز بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔ ان کی شرح اور اطلاق ہر علاقے میں یکساں فرض نہیں کرنا چاہیے۔

رجسٹریشن فیس (Registration Fee)

یہ دستاویز کی رجسٹریشن کے لیے ادا کی جانے والی فیس ہے۔ اسے ہر صورت ایک مقررہ رقم، مثلاً ایک ہزار روپے، سمجھنا درست نہیں؛ متعلقہ شیڈول اور لین دین کے مطابق تصدیق ضروری ہے۔

پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کے چارجز

کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ، ای-رجسٹریشن اور متعلقہ سروسز کے چارجز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کی رقم اور حساب کے طریقے کے بارے میں تازہ سرکاری چالان سے رہنمائی لیں۔

دیگر ممکنہ واجبات

جائیداد اور اس کے مقام کے مطابق کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT)، انتقال یا ریکارڈ سے متعلق فیس، ہاؤسنگ سوسائٹی کے ٹرانسفر چارجز اور دیگر قانونی واجبات بھی قابلِ اطلاق ہو سکتے ہیں۔

ہر معاملے میں تمام مدات لازماً لاگو نہیں ہوتیں۔ اسی لیے کسی ایک مقررہ فیصد کو پنجاب کی ہر جائیداد کا مکمل رجسٹری خرچ سمجھنا مناسب نہیں۔

4۔ خریدار اور فروخت کنندہ کے ایف بی آر ٹیکس میں کیا فرق ہے؟

جائیداد کی خرید و فروخت کے وقت وفاقی ایڈوانس انکم ٹیکس کی دو اہم دفعات ہیں:

  • سیکشن 236K: عموماً جائیداد خریدنے والے سے وصول کیا جانے والا ایڈوانس ٹیکس۔

  • سیکشن 236C: عموماً جائیداد فروخت کرنے والے سے وصول کیا جانے والا ایڈوانس ٹیکس۔

یہ دونوں ٹیکس الگ ہیں۔ خریدار کا ٹیکس ادا کرنے سے فروخت کنندہ کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی فروخت کنندہ کا ٹیکس خریدار کے ٹیکس کا متبادل ہے۔

یکم جولائی 2026 سے نافذ شرحیں

ایف بی آر کے ٹیکس سال 2027 کے ریٹ کارڈ کے مطابق، یکم جولائی 2026 سے عام جائیداد کی خرید و فروخت پر درج ذیل ایڈوانس ٹیکس ریٹس لاگو ہیں:

جائیداد کی متعلقہ مالیت

خریدار: فائلر (236K)

خریدار: نان فائلر (236K)

فروخت کنندہ: فائلر (236C)

فروخت کنندہ: نان فائلر (236C)

5 کروڑ روپے تک

1.25%

10.5%

2.75%

11.5%

5 کروڑ سے زیادہ، 10 کروڑ تک

1.25%

14.5%

2.75%

11.5%

10 کروڑ روپے سے زیادہ

1.25%

18.5%

2.75%

11.5%

ماخذ: ایف بی آر، ٹیکس سال 2027 کا ودہولڈنگ ٹیکس ریٹ کارڈ، جو 30 جون 2026 تک فنانس ایکٹ 2026 کے مطابق اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔
سرکاری لنک: https://www.fbr.gov.pk/withholding-taxes-rate-card/174298/174301

اہم وضاحت: خریدار کے سیکشن 236K میں متعلقہ فیئر مارکیٹ ویلیو دیکھی جاتی ہے، جبکہ فروخت کنندہ کے سیکشن 236C میں مجموعی قابلِ اطلاق فروختی رقم اہم ہوتی ہے۔ اصل حساب میں متعلقہ قانونی قواعد اور سرکاری ویلیوایشن کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

فائلر کون ہوتا ہے؟

عام زبان میں فائلر وہ شخص ہے جو انکم ٹیکس ریٹرن جمع کراتا ہے اور متعلقہ قواعد کے مطابق ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں شامل ہوتا ہے۔

صرف ایف بی آر میں رجسٹریشن یا این ٹی این ہونا ہر صورت فائلر اسٹیٹس کا ثبوت نہیں۔ اپنی موجودہ ATL حیثیت کی تصدیق ضرور کریں۔

نان فائلر کون ہوتا ہے؟

نان فائلر وہ شخص ہو سکتا ہے جس کا نام متعلقہ ATL میں شامل نہ ہو اور جس پر نان فائلر کی شرح لاگو ہوتی ہو۔ ایسے خریدار کے لیے جائیداد کی خریداری پر ایڈوانس ٹیکس کافی زیادہ ہو سکتا ہے۔

کیا دیر سے ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے الگ شرح ہے؟

فنانس ایکٹ 2026 کے بعد سابقہ لیٹ فائلر شرحوں کو موجودہ لین دین پر خودکار طور پر لاگو نہیں کرنا چاہیے۔ یکم جولائی 2026 سے پہلے اور بعد کے قوانین میں فرق ہے؛ موجودہ ٹیکس اسٹیٹس اور ایف بی آر کے تازہ ریٹ کارڈ کی بنیاد پر حساب کروائیں۔

5۔ ایک مثال: 50 لاکھ روپے کی جائیداد پر ٹیکس کتنا ہوگا؟

فرض کریں کہ متعلقہ جائیداد کی قابلِ اطلاق مالیت 50 لاکھ روپے ہے اور عمومی 236K/236C شرحیں لاگو ہوتی ہیں۔

اگر خریدار فائلر ہو

50 لاکھ روپے × 1.25% = 62,500 روپے

اگر خریدار نان فائلر ہو

50 لاکھ روپے × 10.5% = 5,25,000 روپے

اگر فروخت کنندہ فائلر ہو

50 لاکھ روپے × 2.75% = 1,37,500 روپے

اگر فروخت کنندہ نان فائلر ہو

50 لاکھ روپے × 11.5% = 5,75,000 روپے

یہ صرف متعلقہ وفاقی ایڈوانس ٹیکس کی مثال ہے۔ اس میں اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس، PLRA چارجز، دیگر صوبائی واجبات، ممکنہ کیپیٹل گین ٹیکس اور سوسائٹی ٹرانسفر فیس شامل نہیں ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ ایڈوانس ٹیکس اور جائیداد کی فروخت پر حتمی انکم ٹیکس یا کیپیٹل گین ٹیکس ایک ہی چیز نہیں۔ فروخت کنندہ کی حتمی ٹیکس ذمہ داری الگ قواعد کے تحت بھی بن سکتی ہے۔

6۔ اوورسیز پاکستانی پاکستان آئے بغیر جائیداد کیسے خرید یا فروخت کر سکتے ہیں؟

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پنجاب میں زمین کے ریکارڈ اور بعض جائیداد سے متعلق خدمات تک ڈیجیٹل رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستان ہائی کمیشن لندن میں اگست 2025 میں پنجاب لینڈ ریکارڈ خدمات کے لیے ایک خصوصی سہولت متعارف کرائی گئی تھی۔ اس کے تحت بعض خدمات، مثلاً زمین کا ریکارڈ، فرد، انتقال اور متعلقہ دستاویزات تک رسائی فراہم کی گئی۔

سرکاری حوالہ:
https://new.phclondon.org/press-release/press-release-for-plra-and-one-window-operation/

تاہم، یہ کہنا درست نہیں کہ ہر قسم کی جائیداد کی خرید و فروخت ہر اوورسیز پاکستانی کے لیے ہر حالت میں مکمل طور پر آن لائن ہو سکتی ہے۔ سہولت کا اطلاق جائیداد، متعلقہ دفتر، دستیاب ڈیجیٹل سروس اور تصدیق کے طریقے پر منحصر ہے۔

اوورسیز پاکستانی جائیداد خریدتے وقت کیا کریں؟

  1. اپنی شناخت کے لیے درست NICOP، POC یا دیگر مطلوبہ دستاویزات تیار رکھیں۔

  2. جائیداد کی ملکیت، فرد، سابقہ انتقالات اور کسی مقدمے یا رہن کی موجودگی کی تصدیق کریں۔

  3. متعلقہ PLRA ای-رجسٹریشن پورٹل اور سب رجسٹرار سے معلوم کریں کہ لین دین کے لیے ذاتی حاضری یا اضافی تصدیق ضروری ہے یا نہیں۔

  4. رقم قانونی بینکنگ ذرائع سے ادا کریں اور ادائیگی کا ثبوت محفوظ رکھیں۔

  5. رجسٹری اور انتقال کے مکمل ہونے کی تصدیق کریں۔

کیا بیرونِ ملک رہتے ہوئے جائیداد فروخت کی جا سکتی ہے؟

بعض معاملات میں ڈیجیٹل سہولت، مجاز نمائندے یا پاور آف اٹارنی کے ذریعے یہ عمل ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن نمائندے کی تقرری، شناخت کی تصدیق، دستاویزات کی توثیق اور رجسٹری کے طریقۂ کار کی پیشگی تصدیق ضروری ہے۔

پاکستان آنے سے استثنا یا مکمل آن لائن منتقلی کی ضمانت ہر کیس میں نہیں دی جا سکتی۔

کیا پاور آف اٹارنی اب ضروری نہیں رہی؟

ہر صورت میں نہیں۔ بعض معاملات ڈیجیٹل سروس کے ذریعے مکمل ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض میں پاور آف اٹارنی یا دوسری قانونی دستاویز درکار ہو سکتی ہے۔ متعلقہ پاکستانی سفارت خانے، قونصلیٹ اور پنجاب کے رجسٹریشن دفتر سے اپنے معاملے کے مطابق ہدایات لیں۔

7۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے فائلر ٹیکس کی رعایت کیا ہے؟

ایف بی آر کی سرکاری رہنمائی کے مطابق، بعض اوورسیز پاکستانی سیکشن 236C اور 236K کے تحت فائلر شرح سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، خواہ ان کا عام ٹیکس اسٹیٹس نان فائلر ہو۔

اہم شرائط میں شامل ہیں:

  • متعلقہ شخص کے پاس NICOP یا POC ہو۔

  • وہ ٹیکس قانون کے مطابق پاکستان میں نان ریزیڈنٹ ہو؛ ایف بی آر کی شائع کردہ رہنمائی میں مالی سال کے دوران پاکستان میں 183 دن سے کم قیام کی شرط بیان کی گئی ہے۔

  • متعلقہ اتھارٹی کے ذریعے ایف بی آر کا مقررہ طریقۂ کار مکمل کیا جائے۔

  • مطلوبہ دستاویزات کی تصدیق اور منظوری حاصل ہو۔

سرکاری حوالہ:
https://www.fbr.gov.pk/overseas-faqs/174240/174248

اس سہولت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کو خودکار طور پر ٹیکس رعایت مل جائے گی۔ اپنی اہلیت، رہائشی حیثیت اور منظوری کی تصدیق کے بعد ہی متوقع ٹیکس کا حساب لگائیں۔

8۔ پسرور میں جائیداد کی رجسٹری سے پہلے کن باتوں کی تصدیق ضروری ہے؟

پسرور میں مکان، پلاٹ یا زرعی زمین خریدتے وقت صرف قیمت اور رجسٹری کی فیس نہ دیکھیں۔ درج ذیل نکات پر بھی توجہ دیں:

  • ملکیت: فروخت کنندہ کے نام اور ملکیتی ریکارڈ کی تصدیق کریں۔

  • فرد اور انتقال: متعلقہ ریکارڈ اور سابقہ لین دین دیکھیں۔

  • قانونی تنازع: مقدمہ، حکمِ امتناع، رہن یا کسی دوسرے دعوے کی موجودگی معلوم کریں۔

  • زمین کی نوعیت: تصدیق کریں کہ زمین زرعی، رہائشی یا کمرشل ہے اور اس کا استعمال قانونی طور پر مجاز ہے۔

  • منظوری: اگر زمین کسی ہاؤسنگ سوسائٹی یا منظور شدہ اسکیم میں ہے تو متعلقہ منظوری اور نقشے کی تصدیق کریں۔

  • ادائیگی: نقد رقم کے بجائے قابلِ تصدیق بینکنگ ذرائع کو ترجیح دیں۔

  • سرکاری واجبات: ادائیگی سے پہلے تازہ چالان اور تمام فیسوں کی تفصیل حاصل کریں۔

  • رجسٹری اور انتقال: کارروائی کے بعد دونوں مراحل کی تکمیل، جہاں قابلِ اطلاق ہو، یقینی بنائیں۔

اگر جائیداد مشترکہ ملکیت میں ہو تو یہ بھی معلوم کریں کہ فروخت کنندہ کو متعلقہ حصہ فروخت کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

9۔ رجسٹری کے اخراجات معلوم کرنے کے لیے کون سی معلومات درکار ہیں؟

اگر آپ اپنی جائیداد کے اخراجات کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو درج ذیل معلومات جمع کریں:

  1. جائیداد کی قسم: مکان، پلاٹ، دکان یا زرعی زمین۔

  2. مقام: پسرور شہر، دیہی علاقہ یا کوئی مخصوص ہاؤسنگ سوسائٹی۔

  3. جائیداد کی خرید و فروخت کی قیمت۔

  4. متعلقہ DC ریٹ یا FBR ویلیوایشن۔

  5. خریدار اور فروخت کنندہ کا ATL اسٹیٹس۔

  6. رجسٹری، انتقال اور دیگر متعلقہ چارجز کی موجودہ سرکاری تفصیل۔

ان معلومات کی بنیاد پر خریدار اور فروخت کنندہ کے اخراجات الگ الگ نکالے جا سکتے ہیں۔ حتمی رقم متعلقہ سرکاری چالان اور قابلِ اطلاق قوانین کے مطابق ہی طے ہوگی۔

10۔ اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: کیا رجسٹری کا تمام خرچ خریدار ادا کرتا ہے؟

جواب: ضروری نہیں۔ خریدار اور فروخت کنندہ کے ٹیکس الگ ہو سکتے ہیں، جبکہ دیگر اخراجات کی ادائیگی معاہدے، قانون اور متعلقہ لین دین کے مطابق طے ہوتی ہے۔ سودا کرنے سے پہلے تحریری طور پر واضح کر لیں کہ کون کون سی رقم کس فریق نے ادا کرنی ہے۔

سوال: کیا نان فائلر جائیداد خرید سکتا ہے؟

جواب: جائیداد کی خریداری ممکن ہو سکتی ہے، لیکن نان فائلر پر زیادہ ایڈوانس ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔ موجودہ ٹیکس اسٹیٹس اور متعلقہ ویلیو کے مطابق حساب کروانا ضروری ہے۔

سوال: کیا ای-اسٹامپ ہی ملکیت کا مکمل ثبوت ہے؟

جواب: ای-اسٹامپ قانونی دستاویز اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق اہم ثبوت ہے، لیکن اسے ملکیت کے مکمل ریکارڈ، رجسٹری اور جہاں ضروری ہو انتقال کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

سوال: کیا اوورسیز پاکستانی کو جائیداد خریدنے کے لیے پاکستان آنا ضروری ہے؟

جواب: ہر صورت میں نہیں، لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ہر لین دین مکمل طور پر آن لائن ہو سکتا ہے۔ متعلقہ ڈیجیٹل سہولت، شناخت کی تصدیق، مجاز نمائندگی اور رجسٹریشن دفتر کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔

سوال: کیا اوورسیز پاکستانی نان فائلر ہونے کے باوجود فائلر ریٹ حاصل کر سکتا ہے؟

جواب: جی ہاں، اگر وہ ایف بی آر کی مقررہ شرائط پر پورا اترتا ہو اور مطلوبہ تصدیق و منظوری حاصل کر لے۔ صرف بیرونِ ملک رہنا کافی نہیں۔

سوال: کیا رجسٹری فیس ہر شہر میں یکساں ہے؟

جواب: ضروری نہیں۔ صوبائی قوانین، جائیداد کی نوعیت، مقام، متعلقہ اتھارٹی اور لین دین کے مطابق واجبات مختلف ہو سکتے ہیں۔

سوال: کیا جائیداد کی فروخت پر ادا کیا گیا ایڈوانس ٹیکس ہی حتمی ٹیکس ہے؟

جواب: لازماً نہیں۔ ایڈوانس ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ اور کیپیٹل گین ٹیکس یا دیگر حتمی ٹیکس ذمہ داریوں کا تعین الگ قانونی قواعد کے تحت ہو سکتا ہے۔

اختتامی بات

جائیداد کی خرید و فروخت ایک اہم مالی فیصلہ ہے۔ رجسٹری کے اخراجات، ٹیکس اور قانونی کارروائی کو پہلے سمجھ لینا نہ صرف غیر ضروری مالی پریشانی سے بچاتا ہے بلکہ ملکیت کے تحفظ میں بھی مدد دیتا ہے۔

پسرور میں زمین یا مکان خریدنے سے پہلے تازہ سرکاری چالان حاصل کریں، ملکیتی ریکارڈ کی تصدیق کریں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ رجسٹریشن دفتر یا مستند ٹیکس ماہر سے رہنمائی لیں۔

Pasrur.pk کا مقصد مقامی قارئین تک مفید، آسان اور ذمہ دارانہ معلومات پہنچانا ہے۔ چونکہ سرکاری شرحیں اور طریقۂ کار تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی مالی لین دین سے پہلے متعلقہ محکمے سے تازہ ترین تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے۔


معلومات کے سرکاری ذرائع

اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں