نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس شرح برقرار رکھنے کا پلان آئی ایم ایف کو پیش

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
- حکومت الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کیلئے ایک فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی شرح ہی برقرار رکھنا چاہتی ہے اور حکومتی ٹیم نے آئی ایم ایف کو متبادل ذرائع سے اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
- ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی جانب سے منظور کردہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں الیکٹرک گاڑیوں و پر ایک فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو ٹیکس ریونیو متبادل پلان پیش کردیا ہے آئی ایم ایف کی منظوری کی صورت میں نئی آٹو پالیسی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد جاری کردی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
حکومت الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کیلئے ایک فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی شرح ہی برقرار رکھنا چاہتی ہے اور حکومتی ٹیم نے آئی ایم ایف کو متبادل ذرائع سے اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کی جانب سے منظور کردہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ اور ساتھ میں ٹیکس ریونیو کا متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش کردیا ہے جس سے الیکٹرک گاڑیوں کیلئے رعایتی سیلز ٹیکس کی مد میں 85 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریلیف ملنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریونیو کے متبادل پلان کے تحت 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد کرنے کی تجویز زیر غور۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










