لاہور کے باغِ جناح میں موجود 90 سالہ قدیم ’شیطان درخت‘ کی حقیقت کیا ہے؟

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- اپنی دیگر خصوصیات کی بنا پر اسے مختلف ناموں سے بھی جانا جاتا۔
- اسے شیطان درخت کیوں کہا جاتا ہے؟ اس درخت سے جڑے خوف اور توہمات کی وضاحت کرتے ہوئے سید نجم گیلانی نے بتایا کہ قدیم چین۔
- رات کے وقت جب اس درخت پر پھول کھلتے ہیں تو ان سے ’رات کی رانی‘ کی طرح انتہائی تیز اور دلکش مہک اٹھتی ہے جس سے انسان بے ساختہ اس کی طرف کھنچا چلا آتا۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار): لاہور کے تاریخی باغِ جناح میں سینکڑوں اقسام کے درخت موجود ہیں، لیکن قائدِ اعظم لائبریری کے عین سامنے کھڑا 1935 کا ایک 90 سالہ قدیم درخت اپنی پراسرار شہرت اور منفرد خصوصیات کی وجہ سے خاص توجہ کا مرکز ہے۔ عام زبان میں شیطان درخت کہلانے والا یہ شجر حقیقت میں خوف کی علامت نہیں، بلکہ انسانی صحت اور ماحولیات کا ایک خاموش محافظ۔
ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے باغِ جناح کے ٹورسٹ آفیسر سید نجم گیلانی نے بتایا کہ اس درخت کا سائنسی نام ’السٹونیا‘ ہے، جو اسکاٹ لینڈ کے ماہرِ نباتات اور بوٹینیکل گارڈن کے نگران سر چارلس السٹن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اپنی دیگر خصوصیات کی بنا پر اسے مختلف ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کی لکڑی سے بلیک بورڈ تیار کیے جانے کے باعث اسے بلیک بورڈ ٹری اور اس کے تنے سے دودھ جیسا سفید مادہ نکلنے کی وجہ سے اسے ملکی ٹری بھی کہا جاتا۔
اسے شیطان درخت کیوں کہا جاتا ہے؟ اس درخت سے جڑے خوف اور توہمات کی وضاحت کرتے ہوئے سید نجم گیلانی نے بتایا کہ قدیم چین اور دیگر علاقوں میں پیپل کے درخت کی طرح السٹونیا کے بارے میں بھی یہ مفروضہ عام تھا کہ اس پر شیاطین اور بھوتوں کا بسیرا ہوتا ہے، تاہم اس مفروضے کی اصل وجہ اس کے پھولوں کی مسحور کن خوشبو۔
رات کے وقت جب اس درخت پر پھول کھلتے ہیں تو ان سے ’رات کی رانی‘ کی طرح انتہائی تیز اور دلکش مہک اٹھتی ہے جس سے انسان بے ساختہ اس کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ اس کشش کو ماورائی طاقتوں یا شیاطین کا جال سمجھتے تھے جس کی وجہ سے اس کا نام ’شیطان درخت‘ پڑ گیا۔
ماہرین کے مطابق اپنے نام کے برعکس یہ درخت طبی لحاظ سے بے حد فائدہ مند ہے۔ ایلوپیتھک اور ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی ایجاد سے قبل قدیم حکیم اور ماہرینِ نباتات اس درخت کے اجزاء سے نزلہ، زکام اور بخار کا علاج کرتے تھے۔ یہ بہترین اینٹی ملیریل خصوصیات رکھتا ہے؛ ملیریا کے بخار، جسمانی درد اور سوجن کے خاتمے کے لیے اس کا قہوہ آج بھی انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











