بدھ، 28 اکتوبر 2026ء17 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید بڑھ گئیسابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائشحنا جاوید قتل کیس میں ملزم ذیشان کی والدہ نے بھی مریم نواز کو داد رسی کے لیے درخواست لکھ دیپاکستان کرکٹ بورڈ اور نجی بینک کے درمیان اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلیے معاہدہ’’سرکاری ملازمتوں کی برسات‘‘ بے روزگاروں کیلیے خوشخبری’ضمیر اجازت نہیں دیتا‘ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیاون ویلـنگ، کائٹ فلائنگ، ہراسمنٹ، ویپ، الیکٹرک سگریٹ سے روکنے کے لیے📍 اوپن ڈور پالیسی | شہریوں کے مسائل کا فوری حل اولین ترجیحپسرور نواحی قصبہ چونڈہ میں سکول وین کو حادثہ ،6طلبہ زخمیپاکستان میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سست، وجہ کیا اور یہ ٹھیک کب ہوگا؟سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید بڑھ گئیسابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائشحنا جاوید قتل کیس میں ملزم ذیشان کی والدہ نے بھی مریم نواز کو داد رسی کے لیے درخواست لکھ دیپاکستان کرکٹ بورڈ اور نجی بینک کے درمیان اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلیے معاہدہ’’سرکاری ملازمتوں کی برسات‘‘ بے روزگاروں کیلیے خوشخبری’ضمیر اجازت نہیں دیتا‘ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیاون ویلـنگ، کائٹ فلائنگ، ہراسمنٹ، ویپ، الیکٹرک سگریٹ سے روکنے کے لیے📍 اوپن ڈور پالیسی | شہریوں کے مسائل کا فوری حل اولین ترجیحپسرور نواحی قصبہ چونڈہ میں سکول وین کو حادثہ ،6طلبہ زخمیپاکستان میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سست، وجہ کیا اور یہ ٹھیک کب ہوگا؟سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید بڑھ گئیسابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائشحنا جاوید قتل کیس میں ملزم ذیشان کی والدہ نے بھی مریم نواز کو داد رسی کے لیے درخواست لکھ دیپاکستان کرکٹ بورڈ اور نجی بینک کے درمیان اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلیے معاہدہ’’سرکاری ملازمتوں کی برسات‘‘ بے روزگاروں کیلیے خوشخبری’ضمیر اجازت نہیں دیتا‘ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیاون ویلـنگ، کائٹ فلائنگ، ہراسمنٹ، ویپ، الیکٹرک سگریٹ سے روکنے کے لیے📍 اوپن ڈور پالیسی | شہریوں کے مسائل کا فوری حل اولین ترجیحپسرور نواحی قصبہ چونڈہ میں سکول وین کو حادثہ ،6طلبہ زخمیپاکستان میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سست، وجہ کیا اور یہ ٹھیک کب ہوگا؟سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید بڑھ گئیسابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائشحنا جاوید قتل کیس میں ملزم ذیشان کی والدہ نے بھی مریم نواز کو داد رسی کے لیے درخواست لکھ دیپاکستان کرکٹ بورڈ اور نجی بینک کے درمیان اسکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلیے معاہدہ’’سرکاری ملازمتوں کی برسات‘‘ بے روزگاروں کیلیے خوشخبری’ضمیر اجازت نہیں دیتا‘ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیاون ویلـنگ، کائٹ فلائنگ، ہراسمنٹ، ویپ، الیکٹرک سگریٹ سے روکنے کے لیے📍 اوپن ڈور پالیسی | شہریوں کے مسائل کا فوری حل اولین ترجیحپسرور نواحی قصبہ چونڈہ میں سکول وین کو حادثہ ،6طلبہ زخمیپاکستان میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سست، وجہ کیا اور یہ ٹھیک کب ہوگا؟
پنجاب2 گھنٹے پہلے•28 اکتوبر 2026•وقت اشاعت: دوپہر 12:54
🇬🇧 English

’ضمیر اجازت نہیں دیتا‘ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا

’ضمیر اجازت نہیں دیتا‘ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا

📌 اہم نکات (خلاصہ):

  • استعفے کے متن کے مطابق، جسٹس محسن اختر کیانی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد ملک میں عدلیہ کی آزادی شدید متاثر ہوئی ہے اور ان ترامیم کے منفی اثرات سے عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہو رہا۔
  • انہوں نے اپنے استعفے میں سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ججز کی تعیناتی اور تبادلے بھی انتظامیہ کی جانب سے کیے جا رہے ہیں، جس میں عدالتی امور میں کھلی مداخلت کی جا رہی۔
  • جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید لکھا کہ انتظامیہ کی اس طرح کی مداخلت کے باعث عوام کا عدلیہ پر سے اعتماد مسلسل ختم ہو رہا ہے، اور موجودہ حالات میں ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ بطور جج اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

لاہور (خصوصی نامہ نگار): لاہور(28 اکتوبر 2026): اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ منتقل ہونے والے نامور جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بھجوا دیا۔

استعفے کے متن کے مطابق، جسٹس محسن اختر کیانی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد ملک میں عدلیہ کی آزادی شدید متاثر ہوئی ہے اور ان ترامیم کے منفی اثرات سے عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہو رہا۔

انہوں نے اپنے استعفے میں سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ججز کی تعیناتی اور تبادلے بھی انتظامیہ کی جانب سے کیے جا رہے ہیں، جس میں عدالتی امور میں کھلی مداخلت کی جا رہی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید لکھا کہ انتظامیہ کی اس طرح کی مداخلت کے باعث عوام کا عدلیہ پر سے اعتماد مسلسل ختم ہو رہا ہے، اور موجودہ حالات میں ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ بطور جج اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ وہ بطور جج اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں۔ تاہم، انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ استعفے کے باوجود وہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں۔

واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں جوڈیشل کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ تبادلہ منظور کیا تھا، جبکہ اس دوران دیگر ججز کے تبادلے بھی کیے گئے تھے۔

⚖️ قانونی و صحافتی ماخذ، مصدقہ ریکارڈ و ڈس کلیمر پڑھیں ▼
📰 باضابطہ ماخذ و تصدیق: اے آر وائی نیوز قومی صحافتی و دستاویزی ریکارڈ

قانونی و ادارتی وضاحت (Disclaimer): یہ رپورٹ ملکی ضوابط (PECA 2016 / PEMRA) کے تحت معتبر قومی خبر رساں ادارے اے آر وائی نیوز کے جاری کردہ حقائق کی روشنی میں عوامی آگاہی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ خبر کے تمام اصل صحافتی و دستاویزی ماخذ کا ریکارڈ ادارے کے پاس محفوظ ہے۔

اپنا پسرور ویب ڈیسک: یہ رپورٹ مصدقہ صحافتی و ادارتی ذرائع کی روشنی میں قارئین کے لیے شائع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں