حنا جاوید قتل؛ متقولہ کے اہلخانہ کا مریم نواز کو کھلا خط، جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- اہلخانہ نے کھلے خط میں پولیس انویسٹی گیشن کمیٹی کے نتائج مسترد کر دیے ہیں۔
- متقولہ کے اہلخانہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سے براہ راست رابطے کی متعدد کوششیں کیں، کامیابی نہیں ہوئی۔
- اہلخانہ کے مطابق حنا جاوید کے گلے پر فیصل اور اس کے والد کا ڈی این اے ملا ہے، حنا جاوید کے سسر نے ابتدا میں گھر میں چوری کا بتایا تھا۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار): حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو کھلا خط لکھتے ہوئے متاثرہ خاندان نے تحقیقات کے لیے فوری جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔
اہلخانہ نے کھلے خط میں پولیس انویسٹی گیشن کمیٹی کے نتائج مسترد کر دیے ہیں۔
متقولہ کے اہلخانہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سے براہ راست رابطے کی متعدد کوششیں کیں، کامیابی نہیں ہوئی۔ مختلف فورمز اور حکومتی نمائندوں کے ذریعے پولیس انویسٹی گیشن کمیٹی پر تحفظات سے آگاہ کیا، حنا جاوید پر تشدد اور لاش مسخ کیے جانے کی شدت نفرت کی عکاسی کرتی۔
اہلخانہ کے مطابق حنا جاوید کے گلے پر فیصل اور اس کے والد کا ڈی این اے ملا ہے، حنا جاوید کے سسر نے ابتدا میں گھر میں چوری کا بتایا تھا، حنا جاوید اور ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک رپورٹس تاحال زیر التوا ہیں جبکہ حنا جاوید کے موبائل فون سے اہم پیغامات ڈیلیٹ کیے گئے۔
مقتولہ کے اہلخانہ کے مطابق فرانزک رپورٹس اور فنگر پرنٹس کے نتائج آنے سے پہلے ہی تفتیش کا رخ گھریلو ملازم کی جانب موڑا گیا، گھریلو ملازم سفاک قتل میں ملوث ہے تاہم فیصل سے متعلق شواہد نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب قتل کیس کی فائل کا تفصیلی جائزہ لیں اور ملزم فیصل اصغر سے متعلق شواہد کو نظرانداز کیے جانے کا نوٹس لیا جائے۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










