30 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازم کی پنشن کے حوالے سے عدالت کا بڑا فیصلہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے 30 سالہ سروس مکمل کرنے والے ریٹائرڈ ملازم کو پنشن کی عدم فراہمی کے کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے وزارتِ خزانہ۔
- اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شاہ رخ ارجمند نے شہری نوید اللہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔
- عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، یہ دورانِ ملازمت کی گئی محنت کا موخر شدہ معاوضہ ہے جو بڑھاپے میں مالی سیکیورٹی کے لیے دیا جاتا۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے 30 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازم کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا پنشن کوئی خیرات نہیں، ملازم کا آئینی حق۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے 30 سالہ سروس مکمل کرنے والے ریٹائرڈ ملازم کو پنشن کی عدم فراہمی کے کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے وزارتِ خزانہ اور تمام متعلقہ حکام کو تمام ریٹائرمنٹ مراعات اور پنشن فوری ریلیز کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شاہ رخ ارجمند نے شہری نوید اللہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، یہ دورانِ ملازمت کی گئی محنت کا موخر شدہ معاوضہ ہے جو بڑھاپے میں مالی سیکیورٹی کے لیے دیا جاتا۔
فیصلے میں کہا گیا کلہ وزارتِ خزانہ کے اس موقف پر کہ 2008 کی کنٹریکٹ تعیناتی FPSC کے ذریعے نہیں ہوئی تھی، عدالت نے رولنگ دی کہ بھرتی کا طریقہ کار مقرر کرنا اور FPSC کو کیس بھیجنا ادارے کا کام تھا، اس کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ دو دہائیوں تک ملازم کی سروس کو تسلیم کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کے وقت پنشن روکنا بالکل غیر قانونی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










