جمعہ، 30 اکتوبر 2026ء19 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
خدمات کا اعتراف، پُرخلوص دعاؤں کے ساتھ الوداع!پاکستانی مسافر کو ’بکرے کے پائے‘ کینیڈا لانا مہنگا پڑ گیاسعودی عرب اور پاکستان کا آئل سٹوریج، ریفائنری اپ گریڈیشن اور توانائی کے تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاقکیا تعلیمی ادارے بند ہونے جا رہے ہیں؟ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق کی زیر صدارت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہواایران نے آبنائے ہرمز میں امریکا کا جاسوس ڈرون پکڑ لیاایران جنگ؛ امریکی فوج کے ایک اور منصوبہ ساز جنرل کو برطرف کردیا گیابحرالکاہل میں سلامتی: یورپی یونین اور بھارت کا مشترکہ کردار؟آپ کریں عبادت، ہم کریں گے حفاظتلاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کا بڑا فیصلہ، ماسٹر پلانز منظورخدمات کا اعتراف، پُرخلوص دعاؤں کے ساتھ الوداع!پاکستانی مسافر کو ’بکرے کے پائے‘ کینیڈا لانا مہنگا پڑ گیاسعودی عرب اور پاکستان کا آئل سٹوریج، ریفائنری اپ گریڈیشن اور توانائی کے تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاقکیا تعلیمی ادارے بند ہونے جا رہے ہیں؟ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق کی زیر صدارت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہواایران نے آبنائے ہرمز میں امریکا کا جاسوس ڈرون پکڑ لیاایران جنگ؛ امریکی فوج کے ایک اور منصوبہ ساز جنرل کو برطرف کردیا گیابحرالکاہل میں سلامتی: یورپی یونین اور بھارت کا مشترکہ کردار؟آپ کریں عبادت، ہم کریں گے حفاظتلاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کا بڑا فیصلہ، ماسٹر پلانز منظورخدمات کا اعتراف، پُرخلوص دعاؤں کے ساتھ الوداع!پاکستانی مسافر کو ’بکرے کے پائے‘ کینیڈا لانا مہنگا پڑ گیاسعودی عرب اور پاکستان کا آئل سٹوریج، ریفائنری اپ گریڈیشن اور توانائی کے تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاقکیا تعلیمی ادارے بند ہونے جا رہے ہیں؟ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق کی زیر صدارت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہواایران نے آبنائے ہرمز میں امریکا کا جاسوس ڈرون پکڑ لیاایران جنگ؛ امریکی فوج کے ایک اور منصوبہ ساز جنرل کو برطرف کردیا گیابحرالکاہل میں سلامتی: یورپی یونین اور بھارت کا مشترکہ کردار؟آپ کریں عبادت، ہم کریں گے حفاظتلاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کا بڑا فیصلہ، ماسٹر پلانز منظورخدمات کا اعتراف، پُرخلوص دعاؤں کے ساتھ الوداع!پاکستانی مسافر کو ’بکرے کے پائے‘ کینیڈا لانا مہنگا پڑ گیاسعودی عرب اور پاکستان کا آئل سٹوریج، ریفائنری اپ گریڈیشن اور توانائی کے تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاقکیا تعلیمی ادارے بند ہونے جا رہے ہیں؟ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق کی زیر صدارت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہواایران نے آبنائے ہرمز میں امریکا کا جاسوس ڈرون پکڑ لیاایران جنگ؛ امریکی فوج کے ایک اور منصوبہ ساز جنرل کو برطرف کردیا گیابحرالکاہل میں سلامتی: یورپی یونین اور بھارت کا مشترکہ کردار؟آپ کریں عبادت، ہم کریں گے حفاظتلاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کا بڑا فیصلہ، ماسٹر پلانز منظور
کاروبار2 گھنٹے پہلے•30 اکتوبر 2026•وقت اشاعت: دوپہر 1:46
🇬🇧 English

پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ گئی

حمزہ فاروقتجارتی و مالیاتی امور کے ماہر نامہ نگار
پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ گئی

📌 اہم نکات (خلاصہ):

  • اے آر وائی نیوز کے مطابق رواں مالی سال قرضوں پر سود کی مد میں 80 کھرب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس صرف 30 کھرب روپے بچنے کا امکان۔
  • ماہرین نے مالیاتی دباؤ کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ 31-2030 تک قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بڑھ کر 100 کھرب روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔
  • قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے باعث قومی آمدن کا بڑا حصہ بھی سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہونے کا امکان ہے، جس سے ملکی مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھے۔
  • معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں پر سود کی بھاری ادائیگیاں حکومتی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے دستیاب وسائل کو بھی محدود کر سکتی ہیں۔

دی اردو پوسٹ (مانیٹرنگ ڈیسک): اسلام آباد (30 اکتوبر 2026): پاکستان پر اس وقت اتنا قرض ہے کہ اس قرض پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ گئی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق رواں مالی سال قرضوں پر سود کی مد میں 80 کھرب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس صرف 30 کھرب روپے بچنے کا امکان ہے۔

ماہرین نے مالیاتی دباؤ کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ 31-2030 تک قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بڑھ کر 100 کھرب روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔

قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے باعث قومی آمدن کا بڑا حصہ بھی سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہونے کا امکان ہے، جس سے ملکی مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھے گا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں پر سود کی بھاری ادائیگیاں حکومتی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے دستیاب وسائل کو بھی محدود کر سکتی ہیں۔

⚖️ قانونی و صحافتی ماخذ، مصدقہ ریکارڈ و ڈس کلیمر پڑھیں ▼
📰 باضابطہ ماخذ و تصدیق: اے آر وائی نیوز: قومی و بین الاقوامی قومی صحافتی و دستاویزی ریکارڈ

قانونی و ادارتی وضاحت (Disclaimer): یہ رپورٹ ملکی ضوابط (PECA 2016 / PEMRA) کے تحت معتبر قومی خبر رساں ادارے اے آر وائی نیوز: قومی و بین الاقوامی کے جاری کردہ حقائق کی روشنی میں عوامی آگاہی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ خبر کے تمام اصل صحافتی و دستاویزی ماخذ کا ریکارڈ ادارے کے پاس محفوظ ہے۔

دی اردو پوسٹ ویب ڈیسک: یہ رپورٹ مصدقہ صحافتی و ادارتی ذرائع کی روشنی میں قارئین کے لیے شائع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں