نادرا ریکارڈ میں زندہ شہری مردہ کیسے ہوگیا؟

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- زندہ شہری نادرا ریکارڈ میں مردہ کیسے رجسٹرڈ ہوسکتا ہے؟ اس حوالے سے نادرہ پوڈکاسٹ میں ترجمان نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
- ترجمان نادرا سید شباہت علی نے بتایا کہ اگر نادرا کے ریکارڈ میں کسی زندہ شخص کو غلط طور پر مردہ (متوفی) ظاہر کر دیا گیا ہو، تو اس غلطی کو درست کرنے اور خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے درج ذیل مراحل پر عمل کرنا ضروری۔
- غلطی عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب یونین کونسل کے ریکارڈ میں کسی غلط معلومات یا بدنیتی کی بنیاد پر جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر فوتگی کا اندراج کر دیا جاتا۔
- ایک سوال کے جواب میں کہ ایک زندہ شہری سرکاری ریکارڈ میں ’مرحوم‘ کیسے درج ہو سکتا ہے؟ کیا واقعی کسی فرد کو محض ایک اطلاع کی بنیاد پر ریکارڈ میں ’مرحوم‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟۔
اسلام آباد (قومی بیورو): اسلام آباد : خاتون نے دھوکہ دہی کے ذریعے نادرا ریکارڈ میں اپنے زندہ شوہر کو مردہ قرار دے کر بچے کا پاسپورٹ بنوایا اور اس کو یتیم ظاہر کرکے بیرون ملک لے گئی۔
زندہ شہری نادرا ریکارڈ میں مردہ کیسے رجسٹرڈ ہوسکتا ہے؟ اس حوالے سے نادرہ پوڈکاسٹ میں ترجمان نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
ترجمان نادرا سید شباہت علی نے بتایا کہ اگر نادرا کے ریکارڈ میں کسی زندہ شخص کو غلط طور پر مردہ (متوفی) ظاہر کر دیا گیا ہو، تو اس غلطی کو درست کرنے اور خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے درج ذیل مراحل پر عمل کرنا ضروری ہے۔
غلطی عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب یونین کونسل کے ریکارڈ میں کسی غلط معلومات یا بدنیتی کی بنیاد پر جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر فوتگی کا اندراج کر دیا جاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ ایک زندہ شہری سرکاری ریکارڈ میں ’مرحوم‘ کیسے درج ہو سکتا ہے؟ کیا واقعی کسی فرد کو محض ایک اطلاع کی بنیاد پر ریکارڈ میں ’مرحوم‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟
___UNIVERSAL_SOCIAL_TOKEN_0___۔
اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کسی زندہ شخص کو یونین کونسل کے ریکارڈ میں مردہ قرار دے کر اس کے شناختی ریکارڈ کو متاثر کرنا ایک سنگین معاملہ ہے، تاہم یونین کونسلز نادرا کے ماتحت ادارے نہیں اور وہاں ہونے والے اندراجات کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ سرکاری عملے اور معلومات فراہم کرنے والے افراد پر عائد ہوتی ہے۔
نادرا ترجمان سید شباہت علی نے اس حووالے سے ایک غیر معمولی واقعہ بیان کیا کہ ایک خاتون نے اپنے شوہر کو بدنیتی پر مبنی یونین کونسل کے ریکارڈ میں مردہ قرار دیا۔
اس عمل کے لیے گواہان سے دستخط بھی کرائے گئے، بعد ازاں اسی بنیاد پر بچے کا ب فارم بنوایا اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے پاسپورٹ کے لیے درخواست دی کہ بچے کا والد موجود نہیں اور وہ یتیم ہے لہٰذا بعد ازاں خاتون بچے کو لے کر بیرون ملک چلی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یونین کونسل کی سطح پر کسی شخص کی موت کا اندراج کس طرح غلط معلومات کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔
ترجمان نے مطابق یونین کونسلز نادرا کے ماتحت نہیں، البتہ نادرا نے انہیں کمپیوٹرائزڈ سافٹ ویئر فراہم کر رکھا ہے۔ متعلقہ اندراج سسٹم میں کرنا یونین کونسل کے عملے کی ذمہ داری ہے جبکہ کسی رشتہ دار کی وفات کی اطلاع دینا خاندان کے افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یوسیز میں بھی کسی شخص کی وفات کا اندراج صرف زبانی اطلاع پر نہیں ہوتا بلکہ متعلقہ فارم، شناختی کارڈ کی تفصیلات اور گواہوں کے دستخط سمیت دیگر معلومات ریکارڈ کا حصہ بنتی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اگر کسی زندہ شخص کو غلط طور پر متوفی قرار دے دیا جائے تو نادرا کا کردار متعلقہ شخص کے شناختی ریکارڈ کی بحالی تک محدود رہتا ہے۔
متاثرہ شخص کو نادرا مرکز جاکر بائیومیٹرک تصدیق کرانی ہوتی ہے، جس کے بعد ریکارڈ کھول دیا جاتا ہے، ان کے مطابق ایسے معاملے میں نادرا کی جانب سے متاثرہ شخص سے اضافی دستاویزات طلب نہیں کی جاتیں۔
سید شباہت علی نے کہا کہ موت کے غلط اندراج کی صورت میں مقدمہ درج کرانے کی ذمہ داری نادرا کی نہیں بلکہ متاثرہ شخص یا متعلقہ فریق کی ہوتی ہے۔
ان کے مطابق اگر عدالت نادرا سے ریکارڈ طلب کرے تو ادارہ یونین کونسل میں جمع کرائے گئے متعلقہ دستاویزات اور اپنے سسٹم میں موجود معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی زندہ شخص کو غلط طور پر متوفی قرار دیا گیا ہو تو اسے عدالتوں کے چکر لگانے کے بجائے نادرا مرکز جاکر اپنی بائیو میٹرک تصدیق کرانی ہوتی ہے، جس کے بعد ادارہ اپنے ریکارڈ میں ضروری کارروائی کرتا ہے۔
’’زندہ شخص نادرا ریکارڈ میں مُردہ‘‘، وہ خود کو زندہ کیسے ثابت کرے؟
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











