پروازوں پر پاکستانی قدغن کے پیچھے ممکنہ ہاتھ چین کا، تائیوان

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- تائیوان میں قائم فضائی کمپنیاں چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر عموماً ایشیا سے یورپ جانے والی اپنی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔
- اے ایف پی کے مطابق پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض پروازیں خلیج کے اوپر سے زیادہ جنوب کی جانب جبکہ دیگر روس کے اوپر سے شمالی راستہ اختیار کرنے لگیں۔
- چن منگ چی نے کہا کہ چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو پاکستانی حکام کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ فضائی حدود پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی، تاہم یہ اجازت صرف عارضی طور پر موسم سرما کے اختتام تک ہوگی۔
- اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر دونوں فضائی کمپنیوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے ان کے لیے فضائی حدود بند کی تھیں یا دوبارہ کھول دی ہیں۔
پشاور (نمائندہ خصوصی): گوگل پر ڈی ڈبلیو کو ترجیح دیں تائیوان کے اعلیٰ حکام کے مطابق چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو پاکستانی حکام کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ فضائی حدود پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی، لیکن یہ اجازت صرف عارضی طور پر موسم سرما کے اختتام تک ہوگی۔
تائیوان میں قائم فضائی کمپنیاں چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر عموماً ایشیا سے یورپ جانے والی اپنی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے کے اختتام سے ان کمپنیوں کی یورپ جانے والی پروازوں نے اپنے راستے تبدیل کرنا شروع کر دیے تھے۔
اے ایف پی کے مطابق پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض پروازیں خلیج کے اوپر سے زیادہ جنوب کی جانب جبکہ دیگر روس کے اوپر سے شمالی راستہ اختیار کرنے لگیں۔
چن منگ چی نے کہا کہ چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو پاکستانی حکام کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ فضائی حدود پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی، تاہم یہ اجازت صرف عارضی طور پر موسم سرما کے اختتام تک ہوگی۔
اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر دونوں فضائی کمپنیوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے ان کے لیے فضائی حدود بند کی تھیں یا دوبارہ کھول دی ہیں۔
تائیوان کے نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے پیچھے چین ہے، تو یہ انتہائی نامناسب طرزِ عمل ہے کہ وہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر اپنے اثر و رسوخ کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے۔
ان کے مطابق ایسے اقدامات مسافروں کی سلامتی اور عالمی سپلائی چین کی بلاتعطل سرگرمیوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
چین تائیوان کو اپنے ریاستی علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے اور خود مختار طرز حکومت رکھنے والے اس جزیرے کی بین الاقوامی تنظیموں میں شرکت اور دوسرے ممالک کے ساتھ روابط کی بھی مخالفت کرتا ہے۔
چن منگ چی کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے تائیوان کی تجارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی ہوں۔
اس سے قبل اپریل میں سیشلز، ماریشیس اور مڈغاسکر نے تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کی ایسواتینی جانے والی پرواز کے اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت واپس لے لی تھی۔
ایسواتینی افریقہ میں تائیوان کا واحد سفارتی اتحادی ہے۔ اس اقدام کے باعث صدر کو اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔ اس وقت تائیوان نے اجازت منسوخ کیے جانے کا الزام چین کے ''شدید دباؤ‘‘ پر عائد کیا تھا۔
چن منگ چی نے کہا، ''چین نے اب سیکھ لیا ہے کہ فضائی حدود تک ہماری رسائی روکنے اور اس طرح تائیوان کو مزید تنہا کرنے کے لیے یہ ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔‘‘۔
پاکستان-چین دوستی : پانڈا بانڈز سے لے کر خلائی تعاون تک To view this video please enable JavaScript, and consider upgrading to a web browser that supports HTML5 video۔
تائیوان کے پاکستان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہیں۔
چن کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے معاملے پر کئی ہم خیال ممالک نے تائیوان کی مدد کی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ طریقۂ کار گلوبل ساؤتھ کے دوسرے ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال صرف تائیوان ہی نہیں بلکہ خطے اور اس سے باہر کے دیگر ممالک کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔
پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پرانے قریبی سفارتی اور اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک اپنی شراکت داری کو اکثر ''سدا بہار دوستی‘‘ قرار دیتے ہیں اور اسے ''ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہرا، شہد سے میٹھا اور فولاد سے مضبوط‘‘ کہتے ہیں۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اہم سرمایہ کار بھی ہے۔ بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بیجنگ نے نقل و حمل، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کے لیے پاکستان میں دسیوں بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں








