ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینس

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوجی تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں۔
- انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی حکومت کی فوجی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طویل جنگوں کی مخالفت کا مطلب ہر قسم کی فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت نہیں۔
- وینس ٹیکساس کی ریاست کے شہر فورٹ ورتھ میں ووٹرز کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نشست میں گفتگو کر رہے تھے، جسے فاکس نیوز نے نشر کیا۔
- وہ ایک رپبلکن ووٹر کے سوال کا جواب دے رہے تھے، جس نے پوچھا تھا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ نے بیرونِ ملک مہنگی جنگوں کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے یا نہیں۔
بین الاقوامی ڈیسک (واشنگٹن / لندن): لائیو , ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینس امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوجی تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی حکومت کی فوجی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طویل جنگوں کی مخالفت کا مطلب ہر قسم کی فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت نہیں ہے۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوجی تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔
انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی حکومت کی فوجی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طویل جنگوں کی مخالفت کا مطلب ہر قسم کی فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت نہیں ہے۔
وینس ٹیکساس کی ریاست کے شہر فورٹ ورتھ میں ووٹرز کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نشست میں گفتگو کر رہے تھے، جسے فاکس نیوز نے نشر کیا۔
وہ ایک رپبلکن ووٹر کے سوال کا جواب دے رہے تھے، جس نے پوچھا تھا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ نے بیرونِ ملک مہنگی جنگوں کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے یا نہیں۔
امریکی نائب صدر نے عراق میں اپنی فوجی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مہم جوئی سے متعلق عوام کی مایوسی کو سمجھتا ہوں۔‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم تقریباً سات ماہ سے کسی نہ کسی شکل میں ایران کے معاملے میں مصروف ہیں۔ امریکہ 47 برس سے ایران سے نمٹ رہا ہے، اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے کو ایک لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔‘۔
وینس نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک طویل فوجی مداخلتوں کی مخالفت کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ فوجی طاقت کے استعمال سے مکمل طور پر گریز کرے۔
انھوں نے زور دیا کہ ٹرمپ امریکی اہداف حاصل کریں گے اور اس کے بعد حکومت اپنی دیگر ترجیحات پر توجہ مرکوز کر سکے گی۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اب ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے، اور یہ انتخابات آئندہ دو برس کے لیے یہ طے کریں گے کہ کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ اس سے قبل ہی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ امریکی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا الیکشن لیب کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 40 سے 50 لاکھ کے درمیان قبل از وقت ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جو گذشتہ بیشتر انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح ہے۔
ڈیٹا بیس چلانے والے پروفیسر مائیک میک ڈونلڈ کے مطابق اب تک اوسط سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ ٹیکساس میں دیکھا گیا ہے۔ ہسپانوی نژاد امریکی برادریوں میں بھی ووٹنگ کی شرح معمول سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
مجموعی طور پر ووٹر ٹرن آؤٹ 2020 کے مقابلے میں زیادہ رہنے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے، اور ممکن ہے کہ 2018 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے، جس نے 1914 کے بعد کسی بھی وسط مدتی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
میک ڈونلڈ کے مطابق ٹیکساس میں 2022 کے مقابلے میں تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار زیادہ ووٹرز پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ریاست میں 58 لاکھ سے زائد بیلٹ کاسٹ ہو چکے ہیں۔ ٹیکساس ایک اہم انتخابی میدان بن کر ابھرا ہے، جہاں کے نتائج یہ طے کر سکتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے باقی عرصے میں سینیٹ کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہوگا۔
ان ریاستوں کے اعداد و شمار جہاں ووٹرز کو سیاسی وابستگی درج کرانا ضروری ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ رپبلکن ووٹرز کی قبل از وقت ووٹنگ کی تعداد مجموعی طور پر 2022 کے برابر ہے۔
میک ڈونلڈ کے مطابق ایسے ووٹرز کی جانب سے بھی قبل از وقت ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے جنہوں نے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر نہیں کی، تاہم دستیاب اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔
جمعرات کے اعداد و شمار کے مطابق قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں میں سے 44 فیصد ڈیموکریٹس، 31.2 فیصد ریپبلکنز اور 24.7 فیصد غیر وابستہ ووٹرز کے تھے۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف ان تقریباً نصف ریاستوں سے متعلق ہیں جہاں سیاسی وابستگی درج کرنا لازمی ہے۔
شمالی کیرولائنا، جارجیا اور فلوریڈا وہ تین ریاستیں ہیں جہاں رجسٹریشن کے وقت نسلی شناخت بھی درج کرنی ہوتی ہے۔ ان ریاستوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہسپانوی اور سیاہ فام برادریوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سفید فام ووٹرز کی شرکت 2022 کی قبل از وقت ووٹنگ کے برابر ہے۔
میک ڈونلڈ کے مطابق، ’یہ فطری بات ہے کیونکہ نسلی اقلیتوں کی برادریاں زیادہ تر ڈیموکریٹک اتحاد کا حصہ ہوتی ہیں، جبکہ سفید فام ووٹرز عموماً ریپبلکن اتحاد سے وابستہ ہوتے ہیں۔‘۔
ٹیکساس میں ووٹرز کے لیے سیاسی وابستگی یا نسلی شناخت درج کرنا ضروری نہیں، تاہم اعداد و شمار میکسیکو کی سرحد سے متصل بعض اضلاع میں ووٹنگ میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں 90 فیصد سے زیادہ آبادی ہسپانوی نژاد افراد پر مشتمل ہے۔
میک ڈونلڈ کہتے ہیں، ’جب میں ان اضلاع کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض صرف قبل از وقت ووٹنگ ہی کے دوران 2022 کے مجموعی ٹرن آؤٹ سے آگے نکل جائیں گے۔‘۔
حالیہ برسوں میں قبل از وقت ووٹنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ کووڈ وبا تھی، جب مزید ریاستوں نے ذاتی طور پر اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سمیت قبل از وقت ووٹنگ کی سہولتیں فراہم کیں۔
2020 کے انتخابات میں، جب امریکی ووٹرز ایک ساتھ صدر اور قانون سازوں کا انتخاب کر رہے تھے، تمام ووٹوں میں سے دو تہائی سے زیادہ قبل از وقت ڈالے گئے تھے، جن میں سے تقریباً نصف ووٹ ڈاک کے ذریعے کاسٹ کیے گئے تھے۔
میک ڈونلڈ کے مطابق، اب ووٹرز قبل از وقت ووٹنگ کے باوجود زیادہ تر ذاتی طور پر ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ پہلے کے مقابلے میں اپنے ووٹ بھی زیادہ جلدی جمع کرا رہے ہیں۔
معروف سٹیج اور سٹار ٹریک کے لیجنڈری اداکار سر پیٹرک سٹیورٹ 86 برس کی عمر میں چل بسے ہیں۔
ان کی وفات پر دنیا بھر سے خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
سر ایئن میک کیلن نے انھیں ایسا شخص قرار دیا ’جس کی تعریف کی جا سکتی تھی اور میرے معاملے میں، جس سے محبت بھی کی جا سکتی تھی۔‘۔
سٹار ٹریک میں ان کے ساتھی اداکاروں نے بھی انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ولیم شیٹنر نے کہا کہ سٹیورٹ ’ہماری بہترین اقدار کی نمائندگی کرتے تھے‘، جبکہ جارج ٹاکی نے انھیں ’ایسا لیجنڈ قرار دیا جس کا کوئی متبادل نہیں۔‘۔
سٹیورٹ کا ایوارڈ یافتہ کیریئر سات دہائیوں پر محیط تھا، اور فلم و ٹی وی کے علاوہ انھوں نے ویسٹ اینڈ اور براڈوے کے سٹیج پر بھی نمایاں کردار ادا کیے۔
رائل شیکسپیئر کمپنی، جہاں انھوں نے اپنے فنکارانہ سفر کے ابتدائی دن گزارے، نے انھیں ’عظیم الشان شخصیت‘ قرار دیا ہے، جبکہ لاس اینجلس میں مداح ہالی ووڈ واک آف فیم پر موجود ان کے ستارے کے پاس جمع ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق سر پیٹرک سٹیورٹ بدھ کے روز لاس اینجلس میں اپنے گھر پر وفات پا گئے۔
اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے سوشل میڈیا پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات میں کچھ غیر معمولی تھا کہ سر پیٹرک سٹیورٹ انتہائی طاقتور کرداروں کو بھی گہری انسانی خصوصیات کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔‘۔
آسکر ایوارڈز پیش کرنے والی اکیڈمی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’سر پیٹرک سٹیورٹ نے اپنے کرداروں میں ایسی نرمی اور حساسیت پیدا کی کہ ہمیں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم انھیں ذاتی طور پر جانتے ہوں۔‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ’اس منفرد اور پہچانی جانے والی آواز کے پیچھے ایک ایسا اداکار تھا جو سمجھتا تھا کہ عظیم ترین ہیرو بھی غیر یقینی کا شکار ہو سکتے ہیں، کہ طاقت اور کمزوری ایک ساتھ موجود ہو سکتی ہیں، اور یہ کہ ہمدردی کبھی کمزوری نہیں ہوتی۔‘۔
اگرچہ سر پیٹرک سٹیورٹ نے کبھی آسکر ایوارڈ نہیں جیتا، لیکن انھوں نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد اعزازات حاصل کیے، جن میں ایک گریمی ایوارڈ اور دو لارنس اولیویئر ایوارڈز شامل ہیں۔
کرپٹو کرنسی کی بڑی کمپنی بائنانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے تقریباً 3 ارب ڈالر (2.24 ارب پاؤنڈ) مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے ہیں تاکہ سکیورٹی سے متعلق ایک مسئلے کی تحقیقات کے دوران انھیں چوری ہونے سے روکا جا سکے۔
کمپنی نے آن لائن جاری کیے گئے متعدد اعلانات میں بتایا کہ سکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک تمام ڈپازٹس اور رقم نکالنے کی سہولت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے، جبکہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی‘۔
بائنانس کے سابق سربراہ چانگ پینگ ژاؤ، جو اب بھی کمپنی کے اکثریتی شیئر ہولڈر ہیں، نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ بائنانس پر واقعی ہیکر حملہ ہوا ہے۔‘۔
کرپٹو کرنسی کی دو دیگر بڑی کمپنیوں، ٹیتھر اور سرکل، نے بھی کہا ہے کہ انھوں نے بائنانس پر ممکنہ ہیکر حملے کے جواب میں مجموعی طور پر تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
بائنانس نے کہا کہ منجمد کیے گئے فنڈز کی مالیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی ٹیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر مزید اثاثوں کی نشاندہی اور ضبطی کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کمپنی نے کہا، ’ہم چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ جاری کریں گے۔ تازہ معلومات کے لیے صرف بائنانس کے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔‘۔
کمپنی نے مزید کہا کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔
بائنانس روزانہ لین دین کے حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے۔
ان اعلانات کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً پانچ فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایتھیریم اور سولانا سمیت دیگر بڑی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر گر گئیں۔
سرکل کے چیف ایگزیکٹو جیریمی الیئر نے کہا کہ ان کی کمپنی ’بائنانس سے متعلق ممکنہ سکیورٹی خلاف ورزی کی رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘ اور اس واقعے سے منسلک 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے اثاثے منجمد کر چکی ہے۔
سرکل یو ایس ڈی سی نامی کرپٹو کرنسی کی جاری کنندہ اور شریک تخلیق کار کمپنی ہے، جو دنیا کی بڑی امریکی ڈالر سے منسلک کرپٹو کرنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔
ٹیتھر کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو آردوئنو نے کہا کہ ان کی کمپنی نے ’بائنانس ایکسچینج پر ممکنہ ہیکر حملے سے متعلق‘ تقریباً 1.6 ارب ڈالر منجمد کر دیے ہیں۔
انھوں نے کہا، ’صنعت اور اپنے شراکت داروں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔‘۔
ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی نامی کرپٹو کرنسی جاری کرتی ہے۔
بائنانس کی جانب سے حملے کی تصدیق سے چند گھنٹے قبل ہی کرپٹو صنعت کے متعدد مبصرین ممکنہ ہیکر حملے کے بارے میں خدشات ظاہر کر چکے تھے۔
حملے کے اصل حجم اور اثرات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔
2025 میں ہیکرز نے دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کر لی تھی۔ اس ریکارڈ ساز حملے کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر عائد کیا گیا تھا۔
ترکی میں امریکہ کے سفیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے شام اور عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔
باراک نے جمعرات کو دوحہ میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کشیدگی کم کرنے اور فوجی جھڑپوں کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔
انھوں نے کہا، ’ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اتنے قریب کہ یہ کہہ سکیں کہ آئیے ایک وقفہ لیں اور کشیدگی کی شدت کم کریں‘۔
باراک نے قطر، پاکستان اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ فوری طور پر ایک جامع معاہدہ ممکن نہیں، تاہم دشمنی میں وقفہ پیدا کرکے مزید مذاکرات اور نئے علاقائی انتظامات کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس وقت مقصد یہ ہے کہ فریقین پہلے کشیدگی کی شدت کم کریں، پھر خطے کے ممالک کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی رفتار اور حالات کے مطابق زیادہ پائیدار حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
باراک نے یہ بھی کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال ایک ایسا معاملہ ہے جسے امریکی صدر اور حکومت کے دیگر عہدیدار انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں، لیکن اس وقت تمام ممکنہ متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایسی کسی کارروائی سے بچا جا سکے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب جزیرہ قشم کے سمندری علاقے میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ارنا کے قشم میں موجود نمائندے کے مطابق دھماکوں کی آوازیں سمندر کی سمت سے سنائی دیں، جبکہ جزیرے کے متعدد رہائشیوں نے آسمان میں روشنیاں دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
اسی دوران بعض مقامی ذرائع نے جزیرہ قشم میں فضائی دفاعی نظاموں کی سرگرمی کی اطلاعات دی ہیں۔
غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق امکان ہے کہ سنی جانے والی آوازیں ان بحری جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کے باعث پیدا ہوئی ہوں جن پر مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کا الزام ہے۔
تاہم ان آوازوں کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمی یا انتباہی فائرنگ سے متعلق رپورٹس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اسرائیل میں آج تک کوئی ایک جماعت پارلیمان (کنیسٹ) کی 120 نشستوں میں سے 61 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے تنہا حکومت نہیں بنا سکی، اس لیے حکومت ہمیشہ اتحادی جماعتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس مرتبہ بھی صورتحال کچھ ایسے ہی ہے، جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اتحادی جماعتیں 53 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ ان کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کا اتحاد 48 سیٹوں پر کامیاب ہوا ہے۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ اس کے پاس اتحادی حکومت تشکیل دینے کے بہترین امکانات موجود ہیں۔
نامزد امیدوار کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوتے ہیں۔ اگر مذاکرات مکمل نہ ہو سکیں تو وہ مزید 14 دن کی توسیع بھی طلب کر سکتا ہے۔
اگر پہلے امیدوار کی کوشش ناکام ہو جائے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ اگر وہ بھی مطلوبہ اتحادی اکثریت حاصل نہ کر سکے تو کنیسٹ کے ارکان کسی تیسرے امیدوار کے نام پر اتفاق کر کے اسے بھی موقع دے سکتے ہیں۔
اگر تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔
اسرائیل میں سیاسی تقسیم اور جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث 2019 سے 2022 کے درمیان پانچ مرتبہ عام انتخابات کرانا پڑے تھے۔
سنہ 2022 کے انتخابات میں بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 120 میں سے 32 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ بعد ازاں انھوں نے متعدد دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر 64 نشستوں کی اکثریت حاصل کی اور حکومت تشکیل دی تھی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











