اسلام آباد کا انتظامی مستقبل

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- 2015 میں مسلم لیگ (ن) کی وفاق اور اس کے ماتحت ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت تھی مگر مسلم لیگ (ن)۔
- جنرل ضیا الحق نے 1979 کے بلدیاتی قانون کے تحت ملک میں تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے 2001 کے بااختیار ضلعی نظام کے تحت دو بار بلدیاتی انتخابات کرائے تھے اور سیاسی حکومتوں میں صرف ایک بار بلدیاتی الیکشن ہوا تھا۔
- 2018 میں پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار میں آ کر سب سے پہلے پنجاب اور اسلام آباد کے بلدیاتی ادارے توڑ دیے تھے جو مسلم لیگی میئروں اور چیئرمینوں کے تھے۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): ماضی کی چار حکومتوں کے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں رضامندی نہ ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے گیارہ سال بعد بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت رواں سال 20 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات منعقد ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے ضلعی حکومتوں کے نظام میں بھی ملک میں دو بار مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوئے تھے مگر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو محروم رکھا گیا تھا جہاں کوئی سٹی یا ضلعی حکومت نہیں بن سکی تھی۔
2015 میں مسلم لیگ (ن) کی وفاق اور اس کے ماتحت ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت تھی مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی 1988سے 1999تک گیارہ سالوں میں دو دو بار چار حکومتیں رہیں مگر ملک میں بلدیاتی انتخابات ان حکومتی پارٹیوں نے نہیں کرائے اور ملک میں جنرل ضیا الحق حکومت میں تیسری بار بلدیاتی انتخابات 1987 میں ہوئے تھے۔
2015 میں مسلم لیگ کی حکومت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے آرڈر پر پہلی بار جماعتی بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے جن میں پنجاب اور اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھاری تعداد میں کامیاب ہوئے تھے اور اسلام آباد میں پہلی بار مسلم لیگ (ن) کا میئر منتخب ہوا تھا جبکہ لاہور ملک کا واحد شہر تھا جہاں کے (ن) لیگی میئر کو سرکاری طور پر لارڈ میئر کہا جاتا تھا۔ جنرل ضیا الحق نے 1979 کے بلدیاتی قانون کے تحت ملک میں تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے 2001 کے بااختیار ضلعی نظام کے تحت دو بار بلدیاتی انتخابات کرائے تھے اور سیاسی حکومتوں میں صرف ایک بار بلدیاتی الیکشن ہوا تھا۔
2018 میں پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار میں آ کر سب سے پہلے پنجاب اور اسلام آباد کے بلدیاتی ادارے توڑ دیے تھے جو مسلم لیگی میئروں اور چیئرمینوں کے تھے اور سیاسی طور پی ٹی آئی حکومت نے ان سب کی جگہ سرکاری ایڈمنسٹریٹر مقرر کیے تھے جن کی برطرفی پنجاب اور اسلام آباد کی ہائی کورٹوں میں چیلنج ہوئی تھی اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے میئر اسلام آباد کو بحال کر دیا تھا جنھیں کچھ دنوں بعد تحریک انصاف حکومت نے دوبارہ برطرف کر دیا تھا۔
پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار میں آ کر پہلے پنجاب اور اسلام آباد کے بلدیاتی سربراہوں کے اختیارات محدود کر دیے تھے جہاں پی ٹی آئی کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں تھیں۔ سندھ، کے پی اور بلوچستان کے بلدیاتی اداروں نے اپنی مدت مکمل کی تھی جہاں پی ٹی آئی کی کے پی میں صوبائی حکومت تھی مگر کے پی کے بلدیاتی ادارے پی ٹی آئی کے پاس اکثریت میں تھے اور پی ٹی آئی حکومت نے بلدیاتی مدت پوری ہونے پر کے پی میں دو مرحلوں میں بلدیاتی انتخابات کرائے جس کے پہلے مرحلے میں جے یو آئی نے حکومتی امیدواروں کو ہرایا تھا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










