172 غیر فعال انجنوں کے بوجھ تلے دبا پاکستان ریلوے، بحالی کا منصوبہ تیار

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- پاکستان ریلوے نے غیر فعال انجنوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کرانے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع وزارت ریلوے کے مطابق پاکستان ریلویز کے پاس مختلف ماڈلز کے مجموعی طور پر 439 انجن موجود ہیں۔
- ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے نے 69 انجنوں کی مرمت کے لیے متعلقہ مینوفیکچرر سے رابطہ کیا ہے، جب کہ ان انجنوں کی بحالی کے لیے اسپیئر پارٹس کی فراہمی پر بات چیت جاری۔
- ذرائع کے مطابق زیڈ سی یو ماڈل کے 20 انجن آئندہ 2 ماہ میں فعال ہو جائیں گے، جب کہ اے جی ای ماڈل کے 16 انجن فروری 2027 تک فعال کرنے کا منصوبہ۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): اسلام آباد: 172 غیر فعال انجنوں کے بوجھ تلے دبے پاکستان ریلوے نے ان انجنوں کی بحالی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، اور 4 ماہ میں 36 انجن فعال ہونے کا امکان۔
پاکستان ریلوے نے غیر فعال انجنوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کرانے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع وزارت ریلوے کے مطابق پاکستان ریلویز کے پاس مختلف ماڈلز کے مجموعی طور پر 439 انجن موجود ہیں، جن میں سے 267 فعال جب کہ 172 غیر فعال ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے نے 69 انجنوں کی مرمت کے لیے متعلقہ مینوفیکچرر سے رابطہ کیا ہے، جب کہ ان انجنوں کی بحالی کے لیے اسپیئر پارٹس کی فراہمی پر بات چیت جاری ہے۔ آئندہ چار ماہ کے دوران 36 غیر فعال انجنوں کو کارآمد بنانے کا امکان۔
ذرائع کے مطابق زیڈ سی یو ماڈل کے 20 انجن آئندہ 2 ماہ میں فعال ہو جائیں گے، جب کہ اے جی ای ماڈل کے 16 انجن فروری 2027 تک فعال کرنے کا منصوبہ۔
جی ایم یو ماڈل کے 35 انجنوں کو جدید بنانے اور ان کی مرمت کے لیے پی سی ون تیار کر کے وزارت منصوبہ بندی کو بھجوا دیا گیا ہے، تاہم وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے تاحال اس پر جواب موصول نہیں ہوا۔
پاکستان ریلوے کی جانب سے غیر فعال انجنوں کی بحالی کے اس منصوبے کا مقصد دستیاب انجنوں کو قابل استعمال بنانا اور ریلوے کے آپریشنل نظام کو بہتر بنانا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










