گفٹ اسکیم کے تحت استعمال گاڑیوں کی درآمدت کی اجازت پر نظرثانی کا مطالبہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- انہوں نے زور دیا کہ درآمدات سے متعلق تمام اقدامات پاکستان کی صنعتی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔
- خط کے مطابق گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
- رضی الرحمٰن نے کہا کہ پاما بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو حقیقی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے، تاہم درآمدات میں غیر معمولی اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گفٹ اسکیم کو اس کے اصل مقصد سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے وزارتِ تجارت سے گفٹ اسکیم کا فوری جائزہ لینے اور اس کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات متعارف کرانے کا مطالبہ کیا۔
پاما کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن نے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو خط میں لکھا ہے کہ حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی ضرورت سے زیادہ درآمدات کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرے، کیونکہ اس سے مقامی مینوفیکچرنگ متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ درآمدات سے متعلق تمام اقدامات پاکستان کی صنعتی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔
خط کے مطابق گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مئی 2026 میں اس اسکیم کے تحت صرف 7 گاڑیاں درآمد کی گئی تھیں، جو جون میں بڑھ کر 806، جولائی میں 1,876، اگست میں 1,406 اور ستمبر میں 2,238 گاڑیاں ہوگئیں۔ اس کے برعکس اسی عرصے میں ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمدات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ ستمبر 2026 میں استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں گفٹ اسکیم کا حصہ تقریباً 98 فیصد رہا۔
رضی الرحمٰن نے کہا کہ پاما بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو حقیقی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے، تاہم درآمدات میں غیر معمولی اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گفٹ اسکیم کو اس کے اصل مقصد سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آٹو موبائل صنعت نے مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں قائم کرنے اور پرزہ جات کی مقامی تیاری بڑھانے کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس وقت ملک میں 13 مینوفیکچرنگ پلانٹس کے ذریعے 31 سے زائد برانڈز اور 100 سے زیادہ ماڈلز کام کر رہے ہیں، جبکہ گاڑیوں کے متعدد شعبوں میں مقامی پرزہ جات کی تیاری کا تناسب تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











