جی پی ایس جیمر نے پاکستانی طیارہ تباہ کیا؟

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- لیکن فضا میں پہنچتے ہی طیارہ مشکلات کا شکار ہو گیا۔
- یہ حادثہ پہلا واقعہ ہے جب جی پی ایس جامنگ نے امریکہ میں کسی شہری طیارے کے تباہ ہونے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
- امریکی فوج کی زیرسرکردگی جی پی ایس جامنگ کی یہ مشق جس کے نتیجے میں تازہ ترین حادثہ پیش آیا، کوئی واحد واقعہ نہیں۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): یہ سال رواں کے ماہ مئی کی بات ہے۔ امریکی ریاست نیو میکسیکو میں واقع شہر، روزیل سے دو انجنوں پر مشتمل ایک ’’بیچ کرافٹ کنگ ایئر‘‘ (beechcraft king air) میڈیکیک (طبّی امداد کا) طیارہ روانہ ہوا۔ اس نے مغرب میں واقع شہر ،روئیڈوسو (Ruidoso) سے ایک مریض لینا تھا۔ جہاز میں بیٹھے دو پائلٹوں اور دو نرسوں کے لیے یہ کوئی مشکل پرواز نہیں ہونی چاہیے تھی۔ درجہ حرارت 69 ڈگری فارن ہائیٹ تھا اور آسمان بالکل صاف۔ 60 میل کا یہ سفر عام طور پر زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے کا ہوتا۔
لیکن فضا میں پہنچتے ہی طیارہ مشکلات کا شکار ہو گیا۔ اس رات دراصل ’’وائٹ سینڈز میزائل رینج‘‘ نامی جنگی اڈے پر امریکی فوجی اہلکار جی پی ایس جامنگ (سگنل معطل کرنے) کی ایک مشق کر رہے تھے جس کی وجہ سے کنگ ایئر کے پائلٹ اور ان کے علاوہ سینکڑوں میل کے دائرے میں موجود دیگر تمام لوگ جدید نیویگیشن سسٹم، جی پی ایس استعمال کرنے سے قاصر ہو گئے۔تب پائلٹوں کو پرانی ٹیکنالوجی کی طرف لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا جسے اب وہ شاید ہی کبھی استعمال کرتے تھے۔اس وجہ سے کنگ ایئر کے پائلٹ راستہ بھٹک گئے اور پہاڑ کی ایک جانب جا ٹکرائے۔ حادثے میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔
یہ حادثہ پہلا واقعہ ہے جب جی پی ایس جامنگ نے امریکہ میں کسی شہری طیارے کے تباہ ہونے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ لیکن یہ حادثہ دنیا بھر میں حال ہی میں پیش آنے والے خللوں کے واقعات کی ایک کڑی تھی۔ آج دنیا میں فضا کی جہگیں پہلے سے کہیں زیادہ کشیدہ اور حساس ہو چکی ہیں۔چاہے اِس کی وجہ منظور شدہ زون سے باہر بھٹکنے والے شہری ڈرون ہوں یا خفیہ ایجنسیوں کے سگنلز کا باہم ٹکراؤ۔مثال کے طور اسی سال کے شروع میں امریکی ریاستوں، نیو میکسیکو اور ٹیکساس کی حکومتوں نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر کے عوام میں خوف پھیلا دیا تھا۔ (بعد میں معلوم ہوا کہ امریکی کسٹمز اور بارڈر پیٹرول کے اہلکار اِس علاقے میں اینٹی ڈرون لیزر استعمال کر رہے تھے۔)۔
امریکی فوج کی زیرسرکردگی جی پی ایس جامنگ کی یہ مشق جس کے نتیجے میں تازہ ترین حادثہ پیش آیا، کوئی واحد واقعہ نہیں۔ گزشتہ ایک سال میں امریکی فوج اِس طرح کی کم از کم دس مشقوں کے نوٹس جاری کر چکی ہے۔ امریکی سائبر سیکیورٹی فرم، سیوائیشن (Cyviation) کے سی ای او ایلیران الموگ کہتے ہیں: ’’جیسے جیسے ڈرون جنگ اور الیکٹرانک جنگ میں وسعت آ رہی ہے،دنیا بھر کی سول ایئر لائنز کو اصل تنازع والے علاقے سے سینکڑوں میل دور بھی نیویگیشن میں خلل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘۔
ماہ مئی میں جو واقعہ رونما ہوا، اْس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگرچہ روئیڈوسو حادثہ امریکہ میں الیکٹرانک جنگ سے منسلک پہلا مہلک حادثہ تھا، لیکن یہ سوچنے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ آخری ہوگا۔جی پی ایس جامنگ کے بغیر بھی میڈیکیک یا طبی امدادی پروازیں شہری ہوا بازی کے سب سے خطرناک شعبوں میں سے ایک ہے۔ ہوائی جہاز کے حادثات کی مقدمہ بازی میں مہارت رکھنے والی امریکی لا فرم، کرینڈلر کا کہنا ہے کہ میڈیکیک پروازوں میں حادثات کی شرح شہری ہوا بازی کے مقابلے میں جنگی پروازوں سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔وجہ یہ ہے،یہ پروازیں اکثر مختصر نوٹس پر ترتیب دی جاتی اور ایسے دشوار گذار رن ویز پر اترتی ہیں جو فلائٹ عملے کے لیے اجنبی ہو سکتے ہیں۔ چونکہ انسانی زندگیاں داؤ پر لگی ہوتی ہیں، اس لیے موسم خراب ہونے کے باوجود پرواز کرنے کا دباؤ بھی ہوتا۔
ان میں سے کچھ عوامل 13 مئی کی رات کو بھی اثر انداز ہوئے ۔ رات 11 بجے عملے کو اطلاع دی گئی کہ انہیں ایک مریض کو لینے اور اسے البوکرکی (Albuquerque) لے جانے کے لیے روئیڈوسو کی پرواز کرنی ہے۔ پائلٹ 30 سالہ کیپٹن کیلان کلارک اور 23 سالہ فرسٹ آفیسر علی کوسارا تھے۔ کلارک نے محض ڈیڑھ سال پہلے اپنا کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کیا تھا اور گزشتہ ماہ ہی انہیں فرسٹ آفیسر سے کیپٹن کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ کوسارا کو اس ملازمت پر صرف دو ماہ ہوئے تھے اور اس سے پہلے انہوں نے محض کارگو پروازوں پر کام کیا تھا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










