برازیل میں صدارتی الیکشن؛ صدر لولا اور سابق صدر کے بیٹے کے درمیان کانٹے کا مقابلہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق رواں ماہ 4 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں فلیویو بولسونارو نے 47 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے برتری حاصل کی تھی جبکہ صدر لولا دا سلوا تقریباً 45 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
- تاہم کوئی بھی امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کرسکا جس کے باعث انتخاب دوسرے مرحلے تک پہنچ گیا۔
- فلیویو بولسونارو نے ریو ڈی جنیرو میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب حقیقی تبدیلی کا وقت آگیا۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): برازیل میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ جاری ہے جہاں موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا اور دائیں بازو کے سینیٹر فلیویو بولسونارو آمنے سامنے ہیں۔
خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق رواں ماہ 4 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں فلیویو بولسونارو نے 47 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے برتری حاصل کی تھی جبکہ صدر لولا دا سلوا تقریباً 45 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
تاہم کوئی بھی امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کرسکا جس کے باعث انتخاب دوسرے مرحلے تک پہنچ گیا۔ دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے باعث انتخابی نتائج پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔
فلیویو بولسونارو نے ریو ڈی جنیرو میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب حقیقی تبدیلی کا وقت آگیا۔
وہ سابق صدر جائر بولسونارو کے صاحبزادے ہیں اور انہیں اپنے والد کے سیاسی حامیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان کی انتخابی مہم میں جرائم کی روک تھام، معاشی مشکلات اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی جیسے معاملات نمایاں رہے ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










