زمرہ: Indian History
فیصلہ (22)
سولہ ستمبر کو شہر کے لوگ لال قلعے کے باہر اکٹھے ہونے لگے۔ ان کے ساتھ جہادی بھی تھے اور انقلابی سپاہی بھی۔ مولوی سرفراز اور انقلابی افسر ملکر شاہی محل میں گئے اور بہادر شاہ ظفر سے م...
دہلی کی لڑائی (21)
“ہماری توپوں نے کام کر دیا تھا۔ اب فوجیوں کی باری تھی۔ پہلی رکاوٹ خندق تھی۔ بیس فٹ گہری اور پچیس فٹ چوڑی۔ اس کو پار کرنے کے لئے سیڑھیاں تھیں۔ اس میں دس منٹ لگے جس میں دشمن نے ہمارے...
دہلی پر حملہ (20)
چار ستمبر کو آٹھ میل لمبی ایک فوج کی کمک برٹش کیمپ میں داخل ہوئی۔ 60 ہاوٗٹزر، اسلحے سے لدی 653 بیل گاڑیاں، گولے، اور بارود کے کنستر ۔۔۔ یہ پنجاب کی آرڈیننس فیکٹریوں میں تیار ہوا ...
گیم پلٹ گئی (19)
انگریزوں کی دماغ گھما دینے والی سفاکی کی خبریں دہلی پہنچ رہی تھیں۔ کانپور میں جنرل نیل نے جو کچھ کیا تھا، وہ کسی کا بھی دل لرزا سکتا تھا۔ جس جگہ پر قبضہ کیا، وہاں قتلِ عام کیا۔ راس...
خون کا بدلہ (18)
اگست کے آغاز تک ملٹری توازن واپس برٹش کے پاس جا چکا تھا۔ اگرچہ ان کی تعداد شہر کی فوج سے بہت کم تھی لیکن شہر سے آنے والے حملوں کی تعداد اور شدت میں کمی آ گئی تھی۔ انقلابی سپاہی ...
عید الاضحٰی (17)
بخت خان کے بعد دہلی میں امیدیں بڑھ گئی تھیں۔ 9 جولائی کا حملہ بے حد کامیاب رہا تھا لیکن انٹیلی جنس نہ ہونے کی وجہ سے دہلی میں خبر نہیں ہوئی تھی کہ نئی حکمتِ عملی کتنی کامیاب جا رہی...
جنگ کا توازن (16)
برٹش اچھے حال میں نہیں تھے۔ اگرچہ خوراک کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے علاوہ ان کے لئے صورتحال مخدوش تھی۔ روز کے حملوں اور توپ کے گولوں کے علاوہ ان کا ایک دشمن سورج تھا۔ ...
جنگ کا آغاز (15)
دس جون کو دہلی پر گولہ باری شروع ہو گئی۔ یہ گولے کسی گھر پر گرتے، کسی بازار میں، کسی دیوار کو توڑ دیتے۔ شاہی محل اور انتظامی مراکز کو نشانہ بنائے جانے کی کوشش تھی۔ حوض کے کنارے بیٹ...
نازک صورتحال (14)
شہر کے کوتوال معین الدین نے 52 انگریزوں کو قیدی بنایا تھا اور حفاظت کے لئے شاہی محل میں رکھا تھا۔ یہ ان کی جان بچانے کے لئے کیا گیا تھا۔ سپاہیوں کو جب بھنک پڑی تو انہوں نے حکیم اور...
محل کی سیاست (13)
پانچ شہزادے، جنہیں اپنے مستقبل کی امید نہیں رہی تھی، سب سے زیادہ پرجوش تھے۔ انہوں نے قسمت کے دئے گئے اس موقع کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ ان پانچ میں سے چار گمنام رہے تھے اور خاص صل...
آزادی کے بعد (12)
آزادی کے بعد (12) انقلاب کا مقابلہ کرنے سب سے موثر جواب لاہور اور پشاور سے آیا۔ لاہور میں جان لارنس ایک اچھے منتظم تھے اور پشاور کے جان نکلسن اور ہربرٹ ایڈورڈز سخت گیر فوجی۔ انہو...
مکڑی کا جال (11)
دہلی سے شمال میں کیپٹن رابرٹ ٹٹلر اس سے بے خبر اپنے 200 سپاہیوں کو کمانڈ کر رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ فوج میں کچھ گڑبڑ تو چل رہی ہے لیکن کس حد تک؟ اس کا علم نہیں تھا۔ دہلی میں او...











