زیرِ حراست ملزمان کی مشکوک حالات میں ہلاکتیں اور ’وعدہ پورا‘ کرنے کے دعوے: کیا عوامی توجہ سنگین مقدمات پر اثر انداز ہوتی ہے؟

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- پاکستان میں قتل، ریپ یا بچوں کے ساتھ جنسی جرائم سے متعلق مقدمات میں زیر حراست ملزمان کا ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونا‘ بظاہر ایک م۔
- اس کی تازہ مثالیں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اُس وقت دیکھنے میں آئیں جب اسلام آباد میں مبینہ ویزا فراڈ کا نشانہ بننے والی 23 سالہ طالبہ لائب۔
- ان دونوں واقعات میں اسلام آباد پولیس اور پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ دعوے سامنے آیا کہ زیر حراست ملزمان مبینہ فرار کی کوشش۔
پاکستان میں قتل، ریپ یا بچوں کے ساتھ جنسی جرائم سے متعلق مقدمات میں زیر حراست ملزمان کا ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونا‘ بظاہر ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
اس کی تازہ مثالیں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اُس وقت دیکھنے میں آئیں جب اسلام آباد میں مبینہ ویزا فراڈ کا نشانہ بننے والی 23 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم محمد نعمان وفاقی دارالحکومت میں، جبکہ مبینہ طور پر اپنی گاڑی سے کم عمر لڑکے کو کچلنے کے ملزم توقیر نذیر ملتان میں، مشکوک حالات میں ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک‘ ہو گئے۔
ان دونوں واقعات میں اسلام آباد پولیس اور پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ دعوے سامنے آیا کہ زیر حراست ملزمان مبینہ فرار کی کوشش کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، جبکہ دوسری جانب حکومتی شخصیات اِن واقعات کے بعد ’وعدہ پورا کرنا‘ اور ’فوری انصاف‘ جیسے دعوے کرتی نظر آئیں۔
اسلام آباد میں ملزم محمد نعمان کی ہلاکت کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کی دوپہر لائبہ اعجاز کے گھر پہنچے اور وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نقوی نے متاثرہ اہلخانہ کو بتایا کہ ’لائبہ اعجاز کیس میں پوری ٹیم نے دن رات محنت کی۔ آپ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہمارا فرض تھا۔‘
دوسری جانب ملتان میں ملزم توقیر نذیر کی ہلاکت کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی رُکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے اِس خبر کے سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، یہاں فوری انصاف ملتا ہے۔‘
تاہم حنا پرویز بٹ اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے اب یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر چکی ہیں۔ بی بی سی نے اُن سے رابطے کی کوشش کی تاہم اُن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
10 اکتوبر کو اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے بعد سے یہ کیس مسلسل مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہا ہے، اور یہی صورتحال 19 اکتوبر کو ملتان میں کم عمر لڑکے وسیم عباس کی موت کی خبر کے حوالے سے رہی۔
یہ خبر قارئین کی بروقت آگاہی اور عوامی مفاد کے لیے خودکار سسٹم کے ذریعے شایع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق اشاعتی ادارے کے پاس محفوظ ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










