تہران میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا، فیلڈ مارشل صلح کے پیامبر بن کر گئے تھے: وزیر دفاع خواجہ آصف

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے کہا ہے کہ تہران میں ہونے والی سرگرمیاں وزارتِ دفاع کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھیں۔
- وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں حالیہ دونوں دفاعی معاہدوں میں بطور وزیرِ دفاع شریک تھا، تاہم تہران میں ہونے والی سرگرمیاں ان معاہدوں سے متعلق نہیں تھیں۔
- وزیر دفاع نے کہا کہ واضح ہوگیا ہے کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کے اقدامات کے ثمرات مل رہے ہیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان نے عالمی امن کیلئے کام کیا۔
- مولانا فضل الرحمٰن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا نے مجھے شرم و حیا کا طعنہ دیا ہے، لیکن انہیں بھی اپنے ماضی پر نظر ڈالنی چاہیے۔
پشاور (نمائندہ خصوصی): وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے گزشتہ روز کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میں نہ کوئی دفاعی معاہدہ ہو رہا تھا اور نہ ہی پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی بات ہو رہی تھی، اس لیے وہاں میری موجودگی ضروری نہیں تھی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے کہا ہے کہ تہران میں ہونے والی سرگرمیاں وزارتِ دفاع کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھیں، فیلڈ مارشل وہاں صلح کے پیامبر بن کر گئے تھے اور انہوں نے ایک جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا، یمن کا تنازع مزید بگڑ سکتا تھا، اس لیے عالمی سطح پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کا اعتراف ہونا چاہیے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں حالیہ دونوں دفاعی معاہدوں میں بطور وزیرِ دفاع شریک تھا، تاہم تہران میں ہونے والی سرگرمیاں ان معاہدوں سے متعلق نہیں تھیں، آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے، فیلڈ مارشل کا کردار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ واضح ہوگیا ہے کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کے اقدامات کے ثمرات مل رہے ہیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان نے عالمی امن کیلئے کام کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا نے مجھے شرم و حیا کا طعنہ دیا ہے، لیکن انہیں بھی اپنے ماضی پر نظر ڈالنی چاہیے، مولانا فضل الرحمٰن تقریباً 40 سال تک مختلف عہدوں سے وابستہ رہے، وہ بتائیں کہ 10 سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہ کر انہوں نے کیا خدمات انجام دیں؟
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا ماضی تضادات سے بھرا ہوا ہے، کوئی بھی یہاں آبِ زم زم سے دھلا ہوا نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا نے افغانستان کا دورہ کیوں کیا؟ اور وہاں جانے کی پیشکش کیوں قبول کی؟ کیا وہ وزیر خارجہ تھے؟ اس دورے کا مقصد اپنی سیاست کو آگے بڑھانا تھا۔
وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے مختلف ادوار میں ریاست کے ساتھ اختلافات بھی رہے اور اتفاق بھی، کچھ عرصہ پہلے تک مولانا ان کے ساتھ تھے اور دونوں نے مل کر تحریکِ عدم اعتماد پیش کی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ذاتی حملے کیے لیکن ہم چپ رہے، سیاست اور مذہب کو صرف انہوں نے کمائی کا ذریعہ بنایا، میں کوشش کر رہا تھا کہ معاملات خرابی کی طرف نہ جائیں، مجھے ماضی کھلوانے پر مجبور نہ کریں، اس ملک کی دفاع پر سب کو اکٹھا ہونا چاہیے، ہم نے دشمن کو شکست دی، انہوں نے تعریف میں کنجوسی سے کام لیا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










