جمعہ، 30 اکتوبر 2026ء19 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق نے کچہری چوک پہ جاری بیوٹیفیکیشن کے کام کا جائزہ لیاامریکی مڈٹرم الیکشن سے قبل ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے سینٹکام کمانڈر کی ٹرمپ کو بریفنگٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی بحالی کیلیے ہدایت جاری کرنے کی تردید کر دیانڈیا اور چین کے تعلقات میں بہتری آ رہی تھی، پھر ایک سرحدی افسر کے بیان نے نیا تنازع چھیڑ دیاتائیوان کی ایئر لائنز پاکستانی فضائی حدود سے کیوں گزر رہی تھیں اور انھیں روکنے کی خبروں کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینسمکہ دفاعی اتحاد کی ایران سے بات چیت، امن کی راہ ہموار ہو گی یا جنگ کی؟پروازوں پر پاکستانی قدغن کے پیچھے ممکنہ ہاتھ چین کا، تائیوانکیا اسرائیل میں انتخابات ایران کے بارے میں پالیسی بدل سکتے ہیں؟مارنس لبوشین کی مسلسل ناکامیوں کا نیا ریکارڈ، ٹیم میں جگہ خطرے میں پڑگئیڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق نے کچہری چوک پہ جاری بیوٹیفیکیشن کے کام کا جائزہ لیاامریکی مڈٹرم الیکشن سے قبل ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے سینٹکام کمانڈر کی ٹرمپ کو بریفنگٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی بحالی کیلیے ہدایت جاری کرنے کی تردید کر دیانڈیا اور چین کے تعلقات میں بہتری آ رہی تھی، پھر ایک سرحدی افسر کے بیان نے نیا تنازع چھیڑ دیاتائیوان کی ایئر لائنز پاکستانی فضائی حدود سے کیوں گزر رہی تھیں اور انھیں روکنے کی خبروں کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینسمکہ دفاعی اتحاد کی ایران سے بات چیت، امن کی راہ ہموار ہو گی یا جنگ کی؟پروازوں پر پاکستانی قدغن کے پیچھے ممکنہ ہاتھ چین کا، تائیوانکیا اسرائیل میں انتخابات ایران کے بارے میں پالیسی بدل سکتے ہیں؟مارنس لبوشین کی مسلسل ناکامیوں کا نیا ریکارڈ، ٹیم میں جگہ خطرے میں پڑگئیڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق نے کچہری چوک پہ جاری بیوٹیفیکیشن کے کام کا جائزہ لیاامریکی مڈٹرم الیکشن سے قبل ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے سینٹکام کمانڈر کی ٹرمپ کو بریفنگٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی بحالی کیلیے ہدایت جاری کرنے کی تردید کر دیانڈیا اور چین کے تعلقات میں بہتری آ رہی تھی، پھر ایک سرحدی افسر کے بیان نے نیا تنازع چھیڑ دیاتائیوان کی ایئر لائنز پاکستانی فضائی حدود سے کیوں گزر رہی تھیں اور انھیں روکنے کی خبروں کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینسمکہ دفاعی اتحاد کی ایران سے بات چیت، امن کی راہ ہموار ہو گی یا جنگ کی؟پروازوں پر پاکستانی قدغن کے پیچھے ممکنہ ہاتھ چین کا، تائیوانکیا اسرائیل میں انتخابات ایران کے بارے میں پالیسی بدل سکتے ہیں؟مارنس لبوشین کی مسلسل ناکامیوں کا نیا ریکارڈ، ٹیم میں جگہ خطرے میں پڑگئیڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق نے کچہری چوک پہ جاری بیوٹیفیکیشن کے کام کا جائزہ لیاامریکی مڈٹرم الیکشن سے قبل ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے سینٹکام کمانڈر کی ٹرمپ کو بریفنگٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی بحالی کیلیے ہدایت جاری کرنے کی تردید کر دیانڈیا اور چین کے تعلقات میں بہتری آ رہی تھی، پھر ایک سرحدی افسر کے بیان نے نیا تنازع چھیڑ دیاتائیوان کی ایئر لائنز پاکستانی فضائی حدود سے کیوں گزر رہی تھیں اور انھیں روکنے کی خبروں کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینسمکہ دفاعی اتحاد کی ایران سے بات چیت، امن کی راہ ہموار ہو گی یا جنگ کی؟پروازوں پر پاکستانی قدغن کے پیچھے ممکنہ ہاتھ چین کا، تائیوانکیا اسرائیل میں انتخابات ایران کے بارے میں پالیسی بدل سکتے ہیں؟مارنس لبوشین کی مسلسل ناکامیوں کا نیا ریکارڈ، ٹیم میں جگہ خطرے میں پڑگئی
بین الاقوامی2 گھنٹے پہلے•30 اکتوبر 2026•وقت اشاعت: صبح 8:04
🇬🇧 English

پروازوں پر پاکستانی قدغن کے پیچھے ممکنہ ہاتھ چین کا، تائیوان

ڈاکٹر عاصم رضاایڈیٹر بین الاقوامی و سفارتی امور
پروازوں پر پاکستانی قدغن کے پیچھے ممکنہ ہاتھ چین کا، تائیوان

📌 اہم نکات (خلاصہ):

  • تائیوان میں قائم فضائی کمپنیاں چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر عموماً ایشیا سے یورپ جانے والی اپنی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔
  • اے ایف پی کے مطابق پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض پروازیں خلیج کے اوپر سے زیادہ جنوب کی جانب جبکہ دیگر روس کے اوپر سے شمالی راستہ اختیار کرنے لگیں۔
  • چن منگ چی نے کہا کہ چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو پاکستانی حکام کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ فضائی حدود پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی، تاہم یہ اجازت صرف عارضی طور پر موسم سرما کے اختتام تک ہوگی۔
  • اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر دونوں فضائی کمپنیوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے ان کے لیے فضائی حدود بند کی تھیں یا دوبارہ کھول دی ہیں۔

پشاور (نمائندہ خصوصی): گوگل پر ڈی ڈبلیو کو ترجیح دیں تائیوان کے اعلیٰ حکام کے مطابق چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو پاکستانی حکام کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ فضائی حدود پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی، لیکن یہ اجازت صرف عارضی طور پر موسم سرما کے اختتام تک ہوگی۔

تائیوان میں قائم فضائی کمپنیاں چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر عموماً ایشیا سے یورپ جانے والی اپنی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے کے اختتام سے ان کمپنیوں کی یورپ جانے والی پروازوں نے اپنے راستے تبدیل کرنا شروع کر دیے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض پروازیں خلیج کے اوپر سے زیادہ جنوب کی جانب جبکہ دیگر روس کے اوپر سے شمالی راستہ اختیار کرنے لگیں۔

چن منگ چی نے کہا کہ چائنہ ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو پاکستانی حکام کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ فضائی حدود پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی، تاہم یہ اجازت صرف عارضی طور پر موسم سرما کے اختتام تک ہوگی۔

اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر دونوں فضائی کمپنیوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے ان کے لیے فضائی حدود بند کی تھیں یا دوبارہ کھول دی ہیں۔

تائیوان کے نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے پیچھے چین ہے، تو یہ انتہائی نامناسب طرزِ عمل ہے کہ وہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر اپنے اثر و رسوخ کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے۔

ان کے مطابق ایسے اقدامات مسافروں کی سلامتی اور عالمی سپلائی چین کی بلاتعطل سرگرمیوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

چین تائیوان کو اپنے ریاستی علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے اور خود مختار طرز حکومت رکھنے والے اس جزیرے کی بین الاقوامی تنظیموں میں شرکت اور دوسرے ممالک کے ساتھ روابط کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

چن منگ چی کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے تائیوان کی تجارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی ہوں۔

اس سے قبل اپریل میں سیشلز، ماریشیس اور مڈغاسکر نے تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کی ایسواتینی جانے والی پرواز کے اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت واپس لے لی تھی۔

ایسواتینی افریقہ میں تائیوان کا واحد سفارتی اتحادی ہے۔ اس اقدام کے باعث صدر کو اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔ اس وقت تائیوان نے اجازت منسوخ کیے جانے کا الزام چین کے ''شدید دباؤ‘‘ پر عائد کیا تھا۔

چن منگ چی نے کہا، ''چین نے اب سیکھ لیا ہے کہ فضائی حدود تک ہماری رسائی روکنے اور اس طرح تائیوان کو مزید تنہا کرنے کے لیے یہ ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔‘‘۔

پاکستان-چین دوستی : پانڈا بانڈز سے لے کر خلائی تعاون تک To view this video please enable JavaScript, and consider upgrading to a web browser that supports HTML5 video۔

تائیوان کے پاکستان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہیں۔

چن کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے معاملے پر کئی ہم خیال ممالک نے تائیوان کی مدد کی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ طریقۂ کار گلوبل ساؤتھ کے دوسرے ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال صرف تائیوان ہی نہیں بلکہ خطے اور اس سے باہر کے دیگر ممالک کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔

پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پرانے قریبی سفارتی اور اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک اپنی شراکت داری کو اکثر ''سدا بہار دوستی‘‘ قرار دیتے ہیں اور اسے ''ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہرا، شہد سے میٹھا اور فولاد سے مضبوط‘‘ کہتے ہیں۔

چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اہم سرمایہ کار بھی ہے۔ بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بیجنگ نے نقل و حمل، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کے لیے پاکستان میں دسیوں بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

⚖️ قانونی و صحافتی ماخذ، مصدقہ ریکارڈ و ڈس کلیمر پڑھیں ▼
📰 باضابطہ ماخذ و تصدیق: ڈی ڈبلیو اردو: بین الاقوامی و پاکستان قومی صحافتی و دستاویزی ریکارڈ

قانونی و ادارتی وضاحت (Disclaimer): یہ رپورٹ ملکی ضوابط (PECA 2016 / PEMRA) کے تحت معتبر قومی خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو اردو: بین الاقوامی و پاکستان کے جاری کردہ حقائق کی روشنی میں عوامی آگاہی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ خبر کے تمام اصل صحافتی و دستاویزی ماخذ کا ریکارڈ ادارے کے پاس محفوظ ہے۔

دی اردو پوسٹ ویب ڈیسک: یہ رپورٹ مصدقہ صحافتی و ادارتی ذرائع کی روشنی میں قارئین کے لیے شائع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں