مکہ دفاعی اتحاد کی ایران سے بات چیت، امن کی راہ ہموار ہو گی یا جنگ کی؟

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان یہ فوجی اتحاد رواں سال موسم گرما میں باضابطہ طور پر قائم کیا گیا تھا۔
- سعودی عرب نے کہا کہ اس دورے کا مقصد مذاکرات کے راستے کھولنا اور ''فوجی کشیدگی کی واپسی کو روکنا‘‘۔
- خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے علاوہ خطے میں عدم جارحیت کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے۔
- ایک دوسرے عہدیدار کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے سامنے تنازعہ حل کرنے کی ایک ایسی تجویز رکھی، جس میں واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے گنجائش موجود۔
دی اردو پوسٹ (مانیٹرنگ ڈیسک): گوگل پر ڈی ڈبلیو کو ترجیح دیں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان یہ فوجی اتحاد رواں سال موسم گرما میں باضابطہ طور پر قائم کیا گیا تھا۔
سعودی عرب نے کہا کہ اس دورے کا مقصد مذاکرات کے راستے کھولنا اور ''فوجی کشیدگی کی واپسی کو روکنا‘‘ ہے۔ تاہم بات چیت کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے علاوہ خطے میں عدم جارحیت کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے، حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں، آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی کے معاملات پر گفتگو ہوئی۔
ایک دوسرے عہدیدار کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے سامنے تنازعہ حل کرنے کی ایک ایسی تجویز رکھی، جس میں واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے گنجائش موجود ہو۔ اس عمل میں مکہ اتحاد کے تینوں ممالک اور قطر ثالث کا کردار ادا کریں گے۔
تہران میں ہونے والے مذاکرات کے بعد کسی بڑی پیش رفت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ایران نے ان ملاقاتوں کے دوران ''انتہائی مثبت ماحول‘‘ کی تعریف کی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے سرکاری ٹیلی وژن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''ہمارے درمیان بہت اچھی بات چیت ہوئی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نئی فضا جنم لے رہی ہے۔‘‘۔
رضائی نے موقف اختیار کیا کہ مغربی ایشیا میں علاقائی سلامتی کی بنیاد اس خطے کے ممالک کو خود رکھنا چاہیے اور اس عمل میں بیرونی مداخلت نہیں ہونا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق اس کے اگلے روز رضائی نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق خامنہ ای نے ایران کے مفادات کے تحفظ اور جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی شرائط برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ان شرائط کا تعلق موجودہ صورت حال سے بھی ہے جسے ایران ''نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی کیفیت قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی۔ پزشکیان اور قطری امیر نے جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
تہران نے ان اور دیگر سفارتی رابطوں کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا کہ امریکہ ایرانی حکومت کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے میڈیا مشیر علی اصغر شفیعیان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ مکہ اتحاد کے نمائندے تہران کو کوئی الٹی میٹم دینے آئے تھے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ممکن ہے تینوں ممالک اپنے بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کا اظہار کرنا چاہتے ہوں اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہوں کہ ایران اب بھی علاقائی سفارت کاری کا حصہ ہے۔
شفیعیان نے کہا، ''صرف اس ملاقات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کسی حملے سے پہلے دیا جانے والا الٹی میٹم تھا۔‘‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی طرح ایران بھی مذاکرات جاری رکھتے ہوئے ممکنہ نئے تنازعے کے لیے تیاری کر سکتا ہے۔
ان کے بقول، ''جس طرح وہ اپنی فوجی اور دفاعی صلاحیتیں مضبوط کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، ایران بھی ایسا ہی کر رہا ہے۔‘‘۔
شفیعیان نے مزید کہا کہ اگر ایران کی سیاسی حیثیت اور اس کی قومی عزت و وقار، جسے تہران اہم قرار دیتا ہے، کا احترام کیا جائے تو معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
لندن میں مقیم سیاسی تجزیہ کار اور ایران کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سابق عہدیدار بابک دربیکی نے جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد جارحانہ جنگ کے بجائے دشمن کو حملے سے باز رکھنا ہے۔ کسی دفاعی اتحاد کا حصہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ارکان ایران کے ساتھ جنگ کرنا چاہتے ہیں۔
دربیکی کے مطابق ایران ایک مانوس حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے، جس کے تحت وہ مذاکرات کو طول دیتا ہے، لیکن عملی سطح پر ٹھوس وعدے کرنے سے گریز کرتا ہے۔
اس حکمت عملی میں حوثی باغیوں کا کردار اہم ہے۔ تہران نے اب تک عوامی طور پر حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے ایسی ضمانتیں پیش نہیں کیں جن کا سعودی عرب خواہاں ہے۔
دربیکی کا خیال ہے کہ ایران حوثیوں کے حملوں پر اپنے اثر و رسوخ کو بعض رعایتوں کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان رعایتوں میں امریکہ کی فوجی دباؤ کی پالیسی ختم کرنا اور جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
تہران میں ہونے والی ملاقات کا بظاہر واحد نتیجہ یہ ہے کہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق رائے برقرار ہے۔ ایران کے لیے یہ پیغام بھی اہم ہو سکتا ہے کہ اسے اب بھی ایک سفارتی شراکت دار سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ محض ایک دشمن۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










