جمعہ، 30 اکتوبر 2026ء19 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
ایران کا آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰایران پر دوبارہ امریکی حملوں کے خدشات، برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکا کا اپنے غیر ہنگامی اسٹاف کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکمایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آربرطانیہ میں پناہ گزینوں کیلیے پروگرام، پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے!ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ہم محتاط انداز میں پُرامید ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آرسعودی عرب کی خود مختاری اور حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوجمطالبات پورے ہونے تک واشنگٹن سے بات نہیں ہو گی: ایران کا پاکستان آرمی چیف کو پیغامپاکستان ایران، امریکہ کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ’محتاط طور پر پُرامید‘ ہے: ترجمان پاکستانی فوجبرطانیہ : نادرا سروسز پاکستانیوں کے لیے ان کی دہلیز پرایران کا آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰایران پر دوبارہ امریکی حملوں کے خدشات، برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکا کا اپنے غیر ہنگامی اسٹاف کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکمایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آربرطانیہ میں پناہ گزینوں کیلیے پروگرام، پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے!ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ہم محتاط انداز میں پُرامید ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آرسعودی عرب کی خود مختاری اور حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوجمطالبات پورے ہونے تک واشنگٹن سے بات نہیں ہو گی: ایران کا پاکستان آرمی چیف کو پیغامپاکستان ایران، امریکہ کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ’محتاط طور پر پُرامید‘ ہے: ترجمان پاکستانی فوجبرطانیہ : نادرا سروسز پاکستانیوں کے لیے ان کی دہلیز پرایران کا آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰایران پر دوبارہ امریکی حملوں کے خدشات، برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکا کا اپنے غیر ہنگامی اسٹاف کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکمایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آربرطانیہ میں پناہ گزینوں کیلیے پروگرام، پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے!ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ہم محتاط انداز میں پُرامید ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آرسعودی عرب کی خود مختاری اور حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوجمطالبات پورے ہونے تک واشنگٹن سے بات نہیں ہو گی: ایران کا پاکستان آرمی چیف کو پیغامپاکستان ایران، امریکہ کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ’محتاط طور پر پُرامید‘ ہے: ترجمان پاکستانی فوجبرطانیہ : نادرا سروسز پاکستانیوں کے لیے ان کی دہلیز پرایران کا آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰایران پر دوبارہ امریکی حملوں کے خدشات، برینٹ کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئیامریکا کا اپنے غیر ہنگامی اسٹاف کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکمایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پر امید ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آربرطانیہ میں پناہ گزینوں کیلیے پروگرام، پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے!ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ہم محتاط انداز میں پُرامید ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آرسعودی عرب کی خود مختاری اور حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوجمطالبات پورے ہونے تک واشنگٹن سے بات نہیں ہو گی: ایران کا پاکستان آرمی چیف کو پیغامپاکستان ایران، امریکہ کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ’محتاط طور پر پُرامید‘ ہے: ترجمان پاکستانی فوجبرطانیہ : نادرا سروسز پاکستانیوں کے لیے ان کی دہلیز پر
بین الاقوامی2 گھنٹے پہلے•31 اکتوبر 2026•وقت اشاعت: صبح 1:16
🇬🇧 English

سعودی عرب کی خود مختاری اور حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوج

ڈاکٹر عاصم رضاایڈیٹر بین الاقوامی و سفارتی امور
سعودی عرب کی خود مختاری اور حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوج

📌 اہم نکات (خلاصہ):

  • انڈیپینڈنٹ عربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار۔
  • ان کے مطابق ’سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
  • انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم یہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر ضروری معاونت پہلے ہی فراہم کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے۔
  • انہوں نے مزید تفصیلات پر بات سے احتراز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا آپریشنل رازداری کے تقاضوں کے مناسب نہیں۔

خلیج بیورو (ریاض / دبئی): پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

انڈیپینڈنٹ عربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کے مطابق ’سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم یہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر ضروری معاونت پہلے ہی فراہم کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘۔

انہوں نے مزید تفصیلات پر بات سے احتراز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا آپریشنل رازداری کے تقاضوں کے مناسب نہیں۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آیا اسلام آباد کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔

تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کو موصول ہونے والی کسی بھی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا اور اس بارے میں مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔

اگست میں عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پایا تھا اور حوثیوں کے حملوں کے بعد تینوں ممالک نے معاہدے میں درج اجتماعی دفاع کی ذمہ داریوں کو فعال بھی کر دیا ہے۔

ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اس عرصے کے دوران ہونے والی پیش ترفت کو ’غیرمعمولی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد پر شک کرنے والے بنیادی طور پر وہ لوگ ہیں جن کو اس سے مسئلہ ہے۔‘۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اتحاد کے سیکرٹریٹ کے تیزی سے قیام اور سیاسی، سٹریٹیجک اور دفاعی کمیٹی کی تشکیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی میںتینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شامل ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 پر مبنی ہے، جو ممالک کو اپنے دفاع کا حق دیتی ہے اور اجتماعی دفاعی نظام کا مقصد ان فریقوں کو واضح پیغام دینا ہے جو خطے کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کے بقول ’اگر کوئی فریق تینیوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ چھیڑتا ہے تو اس کے جواب میں اجتماعی ردعمل ہو گا۔‘۔

ترجمان فوج کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے حملوں کے بعد ملک کے عوام سے لے کر، سیاسی و عسکری قیادت تک میں سخت برہمی پائی گئی۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کوئی سمجھدار شخص سعودی عرب پر کیسے حملہ کر سکتا ہے، مقدس مقامات کے لیے کیسے خطرہ بن سکتا ہے یا کم سے کم یہ تاثر کیسے دے سکتا ہے کہ وہ ان کو نقصان پہچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنازعات میں شدت پیدا کرنا یا ان کے دائرے کو وسیع کرنا مسلم ممالک اور وہاں بسنے والے لوگوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’اگر مذاکرات کے ذریعے تصفیے تک بات نہ گئی اور فوجی تصادم میں تبدیل ہوئی تو مکہ معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی نظام لازمی طور پر فعال ہو جائے گا جیسا کہ پہلے بھی ہو رہا ہے۔‘۔

⚖️ قانونی و صحافتی ماخذ، مصدقہ ریکارڈ و ڈس کلیمر پڑھیں ▼
📰 باضابطہ ماخذ و تصدیق: اردو نیوز: تازہ ترین و اہم خبریں قومی صحافتی و دستاویزی ریکارڈ

قانونی و ادارتی وضاحت (Disclaimer): یہ رپورٹ ملکی ضوابط (PECA 2016 / PEMRA) کے تحت معتبر قومی خبر رساں ادارے اردو نیوز: تازہ ترین و اہم خبریں کے جاری کردہ حقائق کی روشنی میں عوامی آگاہی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ خبر کے تمام اصل صحافتی و دستاویزی ماخذ کا ریکارڈ ادارے کے پاس محفوظ ہے۔

دی اردو پوسٹ ویب ڈیسک: یہ رپورٹ مصدقہ صحافتی و ادارتی ذرائع کی روشنی میں قارئین کے لیے شائع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں