حوثی باغیوں پر تعز میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا شُبہ، حکام کا اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- ’عرب نیوز‘ کے مطابق تعز گورنریٹ کے میڈیا آفس نے کہا ہے کہ ’محاذ کے مختلف علاقوں۔
- حکام کے مطابق ’گولہ باری کے بعد شہریوں اور عوامی مزاحمتی فورسز کے بعض ارکان کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بے ہوش بھی ہوئے۔
- یمن کے نائب وزیر خارجہ مصطفیٰ نعمان نے حوثیوں پر غیر قانونی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت تعز کا محاصرہ ختم کرنے۔
- یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے بھی اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بین الاقوامی ڈیسک (واشنگٹن / لندن): یمن کے شہر تعز میں مقامی حکام نے حوثی باغیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے الزامات کی اقوام متحدہ کی نگرانی میں فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
’عرب نیوز‘ کے مطابق تعز گورنریٹ کے میڈیا آفس نے کہا ہے کہ ’محاذ کے مختلف علاقوں، بالخصوص العقروض اور کہلان سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ حوثی فورسز نے ممکنہ طور پر ممنوعہ گیسوں اور زہریلے مادوں پر مشتمل گولہ بارود استعمال کیا۔‘۔
حکام کے مطابق ’گولہ باری کے بعد شہریوں اور عوامی مزاحمتی فورسز کے بعض ارکان کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بے ہوش بھی ہوئے۔‘ تاہم مبینہ طور پر استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کی نوعیت تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔
یمن کے نائب وزیر خارجہ مصطفیٰ نعمان نے حوثیوں پر غیر قانونی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت تعز کا محاصرہ ختم کرنے اور الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی ٹیم کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہی ہے۔‘۔
یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے بھی اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ تعز میں لڑائی کے باعث آٹھ لاکھ سے زائد افراد غذائی امداد سے محروم ہو گئے ہیں۔ شہر کی اہم شاہراہیں بند ہونے سے خوراک، ایندھن اور طبی سامان کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جبکہ ہسپتالوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
یمن کی حکومت کے وفادار فورسز اور حوثیوں کے درمیان تعز میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تازہ جھڑپوں کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، جبکہ مقامی حکام نے شہریوں اور بنیادی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی اور مبینہ مادوں کی شناخت بھی نہیں ہو سکی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











