اسٹاک ایکسچینج میں 60 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں، ایک کھرب روپے ڈوب گئے

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- ماہرین کے مطابق جیوپولیٹیکل خراب صورتحال سے تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے رحجان اور افراط زر کی شرح بڑھنے سے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی رہی۔
- کاروبار کا آغاز تیزی سے ہوا، جس سے ایک موقع پر 145 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن رول اوور ویک کی وجہ سے پرانے سودوں کے تصفیوں۔
- اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر خریداری سرگرمیاں قدرے بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔
کراچی (معاشی و سیاسی بیورو): پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 4 روزہ تیزی کے تسلسل کے بعد جمعہ کو مندی رہی، جس سے انڈیکس کی ایک لاکھ 67 ہزار پوائنٹس کی سطح گرگئی۔
ماہرین کے مطابق جیوپولیٹیکل خراب صورتحال سے تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے رحجان اور افراط زر کی شرح بڑھنے سے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی رہی۔ مندی کے باعث 60 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے ایک کھرب تین ارب 75 کروڑ 84 لاکھ 77 ہزار 606 روپے ڈوب گئے۔
کاروبار کا آغاز تیزی سے ہوا، جس سے ایک موقع پر 145 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن رول اوور ویک کی وجہ سے پرانے سودوں کے تصفیوں، بینکنگ اور ریفائنری سیکٹر میں پرافٹ سیلنگ کے باعث جاری تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی، جس سے ایک موقع پر 866 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی۔
اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر خریداری سرگرمیاں قدرے بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔ نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 784.19 پوائنٹس کی کمی سے 166409.25 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ کے ایس ای 30 انڈیکس 294.03 پوائنٹس کی کمی سے 49026.65 پوائنٹس، کے ایس ای آل شئیر انڈیکس 457.17 پوائنٹس کی کمی سے 100685.85 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 986.42 پوائنٹس کی کمی سے 237971.74 پوائنٹس پر بند ہوا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











