📌 اہم عسکری و تاریخی نکات:
- چونڈہ کا معرکہ دوسری جنگِ عظیم کی کرسک (Kursk) لڑائی کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا ٹینکوں کا تصادم تسلیم کیا جاتا ہے۔
- بھارتی یکم آرمڈ ڈویژن کا ہدف چونڈہ اور پسرور پر قبضہ کر کے جی ٹی روڈ اور وزیرآباد کا رابطہ کاٹنا تھا۔
- پاک فوج کے 25 کیولری اور شیر دل جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کے 120 سے زائد ٹینک تباہ کیے۔
- چونڈہ کی فتح نے ثابت کیا کہ پسرور کا جغرافیہ پاکستان کے دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
1. دشمن کا جنگی منصوبہ اور چونڈہ کی اسٹریٹجک اہمیت
ستمبر 1965ء کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر ناکامی کے بعد بھارتی فوج نے سیالکوٹ سیکٹر میں چارابوا اور پھلورہ کے راستے ایک خوفناک حملہ کیا۔ بھارتی فوج کے جنرلز کا اصل ہدف تحصیل پسرور کے اہم قصبے چونڈہ کو روندتے ہوئے آگے بڑھنا تھا تاکہ وہ سیالکوٹ، ڈسکہ اور گوجرانوالہ کا جی ٹی روڈ سے مواصلاتی رابطہ کاٹ کر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے اپنا جدید ترین یکم آرمڈ ڈویژن، جس میں سنچورین ٹینک شامل تھے، میدان میں اتارا۔
2. چونڈہ کے میدان میں لوہے کا طوفان
8 ستمبر سے 19 ستمبر 1965ء تک چونڈہ کی ریلوے لائن اور قصبے کے ارد گرد وہ معرکہ برپا ہوا جس نے عسکری تاریخ کے سنہری ابواب رقم کیے۔ پاک فوج کے 25 کیولری کے جری جوانوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود دشمن کی بکتر بند فوج کا راستہ روکا۔ جب بھارتی ٹینکوں کی پیش قدمی خطرناک حد تک بڑھ گئی، تو پاک فوج کے بہادر جوانوں نے اپنے جسموں پر بارودی سرنگیں باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر ان کی پیش قدمی ہمیشہ کے لیے روک دی۔
3. 'ٹینکوں کا قبرستان' اور عالمی ردِعمل
چونڈہ کے محاذ پر دشمن کو عبرتناک شکست ہوئی۔ بھارتی فوج کے 120 سے زائد جدید ٹینک تباہ ہوئے جبکہ درجنوں کارآمد ٹینک پاک فوج نے مالِ غنیمت کے طور پر قبضے میں لے لیے۔ بین الاقوامی میڈیا اور جنگی نامہ نگاروں (جن میں بی بی سی اور ٹائمز آف لندن شامل تھے) نے اس محاذ کا دورہ کرنے کے بعد چونڈہ کو باقاعدہ طور پر "Graveyard of Indian Tanks" (ٹینکوں کا قبرستان) کا خطاب دیا۔
4. چونڈہ کی یادگارِ شہداء اور پسرور کے شہریوں کا کردار
جنگ کے دوران پسرور اور چونڈہ کے غیور شہریوں نے فوج کے ساتھ شانہ بشانہ جنگ لڑی۔ شہریوں نے پناہ گزینوں کی مدد کی، گولہ بارود پہنچانے میں مدد دی اور زخمی سپاہیوں کو خون کے عطیات دیے۔ آج بھی چونڈہ ریلوے اسٹیشن کے قریب قائم یادگارِ شہداء اس عظیم قربانی کی علامت کے طور پر قائم ہے جہاں ہر سال یومِ دفاع پر پروقار تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔
📚 عسکری و تاریخی حوالہ جات:
- The Pakistan Army 1965: By Maj. Gen. Shaukat Riza (Official Military History).
- Battle of Chawinda War Diaries: 25 Cavalry and 6 Armoured Division Records.
- The Indo-Pakistan War of 1965: A Strategic Analysis by Patrick Brogan.
- Ministry of Defence Official Gazette: Gallantry Awards for Chawinda Sector.











