پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر، ٹیکس وصولی 3.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- خرم شہزاد نے پہلی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس عرصے میں مجموعی برآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 11.2 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ترسیلات زر 14 فیصد بڑھ کر 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
- اس کے ساتھ، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.25 ارب ڈالر رہیں، جبکہ فری لانسرز کی آمدنی 46 فیصد اضافے کے ساتھ 550 ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
- انہوں نے بتایا کہ تینوں بڑی عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ’بی‘ کیٹیگری میں مستحکم قرار دیا۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): وفاقی مشیر برائے اقتصادی و مالیاتی اصلاحات خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 52 فیصد اضافے کے ساتھ 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 7 فیصد اضافے سے 3.1 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔
خرم شہزاد نے پہلی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس عرصے میں مجموعی برآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 11.2 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ترسیلات زر 14 فیصد بڑھ کر 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اس کے ساتھ، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.25 ارب ڈالر رہیں، جبکہ فری لانسرز کی آمدنی 46 فیصد اضافے کے ساتھ 550 ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
انہوں نے بتایا کہ تینوں بڑی عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ’بی‘ کیٹیگری میں مستحکم قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے جائزے کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی اضافی فنانسنگ ملنے کی توقع۔
مالیاتی شعبے کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.1 ٹریلین روپے رہی، جو پہلی سہ ماہی کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 45 فیصد اضافے کے ساتھ 57 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کی تعداد 55 فیصد اضافے کے بعد 6 لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
ستمبر 2026 میں اسٹاک مارکیٹ میں 25 ہزار 281 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جن میں 85 فیصد کا تعلق جنریشن زی اور ملینلز سے تھا۔ پہلی سہ ماہی میں چار ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی اوز) کے ذریعے 4.6 ارب روپے جمع کیے گئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں جمع ہونے والے 92 کروڑ روپے سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں مجموعی سرمایہ کاری 28 فیصد اضافے کے ساتھ 14.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ مرکزی حکومت کا مجموعی قرض جون 2026 کے مقابلے میں 714 ارب روپے کم ہو کر 86 ٹریلین روپے رہ گیا، جبکہ ملکی قرض میں 684 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 58.8 ٹریلین روپے پر آ گیا۔ بیرونی قرض 98.2 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار رہا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











