جمعرات، 22 اکتوبر 2026ء11 جمادی الاول، 1448 ہجریھ6 کاتک 2083 بکرمی
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
پاکستان
22 اکتوبر 2026صبح 6:27⏱️ 1 گھنٹے پہلے•پسرور نیوز بوٹ

خیبر پختونخوا کے ’غیرفعال‘ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کہاں ہیں اور ’شاہی مہمان خانہ‘ کیا ہے؟

خیبر پختونخوا کے ’غیرفعال‘ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کہاں ہیں اور ’شاہی مہمان خانہ‘ کیا ہے؟
رفتار:
مطالعہ کا وقت: تقریباً 3 منٹ (400 الفاظ)

پشاور ہائیکورٹ نے دو روز قبل خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام کو صوبے کے غیرفعال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کے معاملے پر 22 اکتوبر (آج) تک جواب جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔

11 اکتوبر کی صبح خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے سہیل آفریدی منظرِ عام سے غائب ہیں اور 12 اکتوبر کو پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا کہ سہیل آفریدی اور اُن کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

13 اکتوبر کو سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی صوبے کے حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ اُن کے بھائی (سہیل آفریدی) کا سراغ لگانے اور انھیں بازیاب کروانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے، اور اگر وہ سرکاری تحویل میں ہیں تو انھیں پشاور ہائیکورٹ کے روبرو پیش کیا جائے تاکہ آئین کے تحت اُن کی حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔

اپنے درخواست میں محمد عامر نے الزام عائد کیا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے والی رات سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے ’اغوا‘ کر لیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے مطابق مسلح اور نقاب پوش افراد وزیراعلیٰ ہاؤس سے سہیل آفریدی کو لے گئے اور اس کے بعد اُن کے مقام کے بارے میں اہلخانہ کو واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی اور مرکزی رہنما بھی اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ حفاظتی تحویل میں لیے جانے کے بعد سہیل آفریدی کو کہاں رکھا گیا ہے جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

اگرچہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) تھری کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے۔ تاہم اب تک صوبے کی موجودہ حکومت کی جانب سے یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ غیرفعال وزیر اعلیٰ کو کس قانون کے تحت حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

📰 خبر کا باقاعدہ ماخذ و کریڈٹ: بی بی سی اردو اصل خبر کا سورس لنک دیکھیں ↗

یہ خبر قارئین کی بروقت آگاہی اور عوامی مفاد کے لیے خودکار سسٹم کے ذریعے شایع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق اشاعتی ادارے کے پاس محفوظ ہیں۔

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
22 اکتوبر 2026•1 گھنٹے پہلے•اپنا پسرور نیوز ڈیسک

ٹائیگر شروف پر حملے میں دو خواتین سمیت آٹھ ملزمان گرفتار: ’میری بیٹی بے قصور ہے‘

ممبئی پولیس نے بدھ کے روز ایک مقامی عدالت کو بتایا کہ بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کے رکن انیل پانڈت کے کہنے پر فائرنگ کی گئی تھی۔

22 اکتوبر 2026•1 گھنٹے پہلے•اپنا پسرور نیوز ڈیسک

’جس کی قسمت میں ہو گا اسے ضرور ملے گا‘: پانی میں ڈوبا گاؤں جہاں آج بھی لوگ ہیروں کی تلاش میں پہنچتے ہیں

اس گاؤں میں نہ موبائل سگنل کی مناسب سہولت ہے اور نہ ہی بنیادی انفراسٹرکچر، لیکن اس کے باوجود دور دراز علاقوں سے لوگ آج بھی یہاں ہیرے تلاش کرنے آتے ہیں۔ بعض افراد کئی کئی ہفتوں تک اپنے گھروں سے دور رہ

22 اکتوبر 2026•1 گھنٹے پہلے•اپنا پسرور نیوز ڈیسک

دمام ایئرپورٹ حملے میں ایک شخص ہلاک: امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے اڈوں پر فوجی موجودگی ’خاموشی سے‘ کم کر رہا ہے، رپورٹ

سعودی عرب میں حکام کا کہنا ہے کہ دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے اور مشرقی صوبے میں آرامکو تنصیب کے قریب ڈرون کا ملبہ گرنے کے واقعات میں مجموعی طور پر تین افراد ہلاک جبکہ 10 زخمی ہوئے

22 اکتوبر 2026•1 گھنٹے پہلے•اپنا پسرور نیوز ڈیسک

گجرات میں نوجوان کا قتل: ’سعودی عرب سے آ کر‘ جنازے میں شریک بھائی ہی ملزم کیسے نکلا؟

دونوں بھائیوں کے والد خالد محمود کہتے ہیں کہ ’میری تو دنیا ہی برباد ہوگئی ہے۔۔۔ میرے سوا کسی کا نقصان نہیں ہوا، میرے دو بیٹے میری نظروں سے چلے گئے۔ ایک قتل ہوگیا اور دوسرا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جیل کی سل

25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

27 جنوری 2026•Mian Ashfaq

شہریوں کا پسرور میں اندرونِ شہر ون وے ٹریفک نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف ب...