جمعرات، 5 نومبر 2026ء25 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
پاکپتن: بس اور ٹرک میں تصادم سے 11 افراد جاں بحق، 33 زخمیکس کے نام پر کتنی پراپرٹی؟ گھر بیٹھے پتا لگائیں!ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد نے ELC - English Language Club برانچز کے ساتھ MOU سائن کیے ہیںقلعہ سوبھا سنگھ (احمد آباد): سکھ عہد کی فصیل، قلعہ اور تاریخی ریلوے جنکشنغلط ای چالان اب گھر بیٹھے منسوخ کروائیں!پولیس خدمت مرکز وین سیالکوٹ کی کاروائیAssistant Commissioner, Office Pasrur District Sialkotاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہےخواتین کیلئے فری سکوٹی اور بائیک ٹریننگعوامی مسائل کا بروقت حل، سیالکوٹ پولیس کی اولین ترجیحپاکپتن: بس اور ٹرک میں تصادم سے 11 افراد جاں بحق، 33 زخمیکس کے نام پر کتنی پراپرٹی؟ گھر بیٹھے پتا لگائیں!ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد نے ELC - English Language Club برانچز کے ساتھ MOU سائن کیے ہیںقلعہ سوبھا سنگھ (احمد آباد): سکھ عہد کی فصیل، قلعہ اور تاریخی ریلوے جنکشنغلط ای چالان اب گھر بیٹھے منسوخ کروائیں!پولیس خدمت مرکز وین سیالکوٹ کی کاروائیAssistant Commissioner, Office Pasrur District Sialkotاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہےخواتین کیلئے فری سکوٹی اور بائیک ٹریننگعوامی مسائل کا بروقت حل، سیالکوٹ پولیس کی اولین ترجیحپاکپتن: بس اور ٹرک میں تصادم سے 11 افراد جاں بحق، 33 زخمیکس کے نام پر کتنی پراپرٹی؟ گھر بیٹھے پتا لگائیں!ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد نے ELC - English Language Club برانچز کے ساتھ MOU سائن کیے ہیںقلعہ سوبھا سنگھ (احمد آباد): سکھ عہد کی فصیل، قلعہ اور تاریخی ریلوے جنکشنغلط ای چالان اب گھر بیٹھے منسوخ کروائیں!پولیس خدمت مرکز وین سیالکوٹ کی کاروائیAssistant Commissioner, Office Pasrur District Sialkotاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہےخواتین کیلئے فری سکوٹی اور بائیک ٹریننگعوامی مسائل کا بروقت حل، سیالکوٹ پولیس کی اولین ترجیحپاکپتن: بس اور ٹرک میں تصادم سے 11 افراد جاں بحق، 33 زخمیکس کے نام پر کتنی پراپرٹی؟ گھر بیٹھے پتا لگائیں!ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد نے ELC - English Language Club برانچز کے ساتھ MOU سائن کیے ہیںقلعہ سوبھا سنگھ (احمد آباد): سکھ عہد کی فصیل، قلعہ اور تاریخی ریلوے جنکشنغلط ای چالان اب گھر بیٹھے منسوخ کروائیں!پولیس خدمت مرکز وین سیالکوٹ کی کاروائیAssistant Commissioner, Office Pasrur District Sialkotاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہےخواتین کیلئے فری سکوٹی اور بائیک ٹریننگعوامی مسائل کا بروقت حل، سیالکوٹ پولیس کی اولین ترجیح
ایجادات۔ جیت اور ہار
🎙️ اپنا پسرور ڈیپ ڈائیو (Google NotebookLM انداز)2-میزبان آڈیو پوڈکاسٹ

مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ

👨‍💼
اسد

میزبان و براڈکاسٹر

👩‍💼
عظمیٰ

تجزیہ کار و شریک میزبان

00:00--:--
🎧 مکمل پوڈکاسٹ سماعت کے لیے تیار ہے
مطالعہ کی سہولیات:
ایجادات۔ جیت اور ہار. برطانیہ میں کپڑے کی مشینیں آ جانے کے بعد مزدوروں کی تحریک چلی۔ اس میں کپڑا بننے والے اور ٹیکسٹائل ورکر اور ہنرمند تھے جنہیں مشینوں کھڈیوں اور بننے والے فریموں پر اعتراض تھا۔ ان لوگوں نے اپنا ہنر سیکھنے میں برسوں لگائے تھے اور انہیں خوف تھا کہ غیرہنرمند آپریٹر ان مشینوں کی وجہ سے ان کا روزگار چھین لیں گے۔ اس دوران کی نپولین کی جنگوں کی وجہ سے معاشی حالات نے اس خوف کو دوچند کر دیا۔ کچھ مایوس ہنرمند فیکٹریوں میں نقب لگا کر مشینوں کو توڑنے لگے۔ یہ اپنے آپ کو لڈائٹ کہتے تھے۔ یہ نام نیڈ لُڈ کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔ یہ مشین توڑنے والا ایک نوجوان لڑکا تھا جس کے اصل ہونے کے کوئی شواہد نہیں لیکن اس تحریک کے لوگوں کے لئے یہ کہانی اکٹھے ہو جانے کا سبب بن گئی اور یوں ایک فرضی کردار اس تحریک کا لیڈر بن گیا۔ احتجاج کرنے والے کہتے تھے کہ وہ یہ کام “جنرل لڈ” کے حکم پر کر رہے ہیں اور اس نام سے منشور اور دھمکیوں والے خط بھی جاری کئے جاتے۔ ناٹنگھم میں مشینیں توڑنے والا پہلا واقعہ 1811 میں ہوا اور یہ انگلینڈ میں پھیل گیا۔ تحریک کے کارکنان فیکٹریوں پر حملہ آور ہوتے۔ آگ لگاتے اور کئی بار ان کا فیکٹری کے گارڈز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہو جاتا۔ ان کو امید تھی کہ ان حملوں کا خطرہ صنعت کاروں کو مہنگی مشینری لگانے سے باز رکھیں گے۔ برٹش حکومت نے فوری ایکشن لیا۔ مشین توڑنے کے لئے سزائے موت مقرر کی گئی۔ یہ تحریک اپریل 1812 میں اپنے عروج پر تھی، ہڈرزفیلڈ میں کئی لڈائیٹ کو فوج نے گولیاں مار کر ہلاک کیا۔ اس کے بعد ہزاروں فوجی تحریک کے کارکنان کو پکڑنے میں لگ گئے۔ درجنوں کو پھانسیاں لگائی گئیں یا پھر آسٹریلیا کے لئے جلاوطن کیا گیا۔ 1813 تک یہ تحریک کچلی جا چکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج محاورے میں لڈائیٹ کا لفظ ضدی احمقوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو نئی ٹیکنالوجی کے فوائد نہیں سمجھتے اور ٹیکنالوجی سے ڈرتے ہیں۔ ماہرینِ معیشت نے “لدائیٹ فیلیسی” کی اصطلاح بنائی ہے۔ یہ اس خوف کو کہا جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی اپنے ساتھ بے روزگاری لے کر آئے گی۔ والٹر آئزکسن لکھتے ہیں کہ “دو صدیاں پہلے، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ٹیکنالوجی روزگار کو ختم کر دے گی۔ صنعتی انقلاب نے انگلیڈ کو امیر کیا اور روزگار کے نئے مواقع اور نئی ملازمتیں پیدا کیں۔ نئی ٹیکنالوجی کے بعد کپڑے کی صنعت میں بھی زیادہ لوگ برسرِ روزگار آئے”۔ اور یہ بات درست ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ لیکن لڈائیٹ تحریک کے شرکاء کو احمق کہہ کر نظرانداز کرنا درست نہیں۔ لڈائیٹ مشینوں کو اس لئے نہیں توڑ رہے تھے کہ ان کا غلط خوف تھا کہ مشینیں انگلیڈ کو غریب کر دیں گی۔ وہ ایسا اس لئے کر رہے تھے کہ ان کا درست خوف تھا کہ مشینیں خود ان کو غریب کر دیں گی۔ یہ ماہر ہنرمند تھے، جنہیں معلوم تھا کہ مشینوں کے بعد ان کی مہارت بے وقعت ہو جائے گی۔ اور انہیں اس ٹیکنالوجی کے مضمرات کا درست اندازہ تھا۔ اور ان کا یہ خوف بالکل جائز تھا۔ لڈائٹ کا یہ مخمصہ عام ہے۔ ہر نئی ٹیکنالوجی تقریباً ہمیشہ نئے فاتح اور نئے شکست کھا جانے والے پیدا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک بہتر چوہے دان کی ایجاد بھی روایتی چوہے دان بنانے والوں (اور چوہوں) کے لئے بری خبر ہوتی ہے۔ اور مقابلے کے کھیل کا یہ میدان کس طریقے سے تبدیل ہو جاتا ہے؟ یہ بھی سیدھی سادھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ لڈائیٹ کو پریشانی یہ نہیں تھی کہ ان کی جگہ مشینیں لے لیں گی۔ ان کی پریشانی یہ تھی کہ ان کی جگہ سستے اور غیرہنرمند لے لیں گے جو مشین سے فائدہ اٹھا لیں گے۔ تو جب بھی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے تو سوال یہ ہوتا ہے کہ اس سے جیتا کون اور ہارا کون؟ یہ جواب اکثر حیران کن ہوتے ہیں۔ یہ سیریز چند اہم ایجادات کے بارے میں ہے جنہوں نے ہماری دنیا تبدیل کی ہے۔ ہر ایجاد کے ساتھ جیتنے والے بھی تھے اور ہارنے والے بھی۔

Follow Apna Pasrur Official WhatsApp Channel

Get breaking news, instant alerts, and district updates directly on your WhatsApp

Join Channel ↗

Related Tags & Topics:

More in this Category

You May Also Like

View All News
Nov 5, 2026•Recent•محمد رضوان

Pakpattan: 11 people were killed and 33 injured in a collision between a bus and a truck

(November 5, 2026): 11 people died as a result of a collision between a bus and a truck on Dipalpur Road in Pakpattan, Punjab. According to the district administration, para

Nov 5, 2026•Recent•سلمان بٹ

How much property in whose name? Find out at home!

How much property is in whose name can now be found from the ID card number sitting at home. Punjab government has launched a new website according to which you can now go home

Nov 5, 2026•Recent•وقاص احمد (مورخ و سینئر محقق)

History of Qila Sobha Singh Ahmadabad Fort and Historic Railway Junction

اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔

Nov 5, 2026•Recent•سلمان بٹ

Cancel wrong e-challan now at home!

پنجاب میں گھر بیٹھے غلط ای چالان ریویو کرنے کی سہولت متعارف کروادی۔

ایجادات۔ جیت اور ہار | Apna Pasrur