لاہور ہائیکورٹ کا قتل کے مقدمات میں سزا سے متعلق بڑا فیصلہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- عدالت عالیہ نے قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کردی۔
- لاہور ہائیکورٹ نے حکومت پنجاب کو قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین سے متعلق قانونی اصلاحات پر غور کرنے کا حکم بھی جاری کردیا۔
- جسٹس محمد امجد رفیق نے فیصلے میں کہا کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں عدالتی صوابدید کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ترامیم کی جائیں۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار): لاہور ہائی کورٹ نے قتل کے مقدمات میں سزا سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت عالیہ نے قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ 2019 کا اطلاق ایسے مقدمات پر نہیں ہوتا جن میں سزائے موت مقرر۔
لاہور ہائیکورٹ نے حکومت پنجاب کو قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین سے متعلق قانونی اصلاحات پر غور کرنے کا حکم بھی جاری کردیا۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے فیصلے میں کہا کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں عدالتی صوابدید کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ترامیم کی جائیں۔ عدالتی حکم نامے میں سزا مقرر کرنے سے پہلے ملزم کو الگ سماعت کا موقع دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں









