رواں مالی سال ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، وزیر خزانہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیرکو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیراہتمامڈیجیٹل اثاثوں پرمکالمہ اورمستقبل کی بینکاری‘ کے موضوع پرمنعقدہ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔
- وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان کو ایسی مالیاتی جدت کی ضرورت ہے جو کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنانے میں مدد۔
- انہوں نے کہا کہ بینکوں کو اپنے سائبر سکیورٹی نظام کو موثر بنانے اور سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرضوں کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لے رہاہے ، اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے۔ رواں مالی سال ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیرکو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیراہتمامڈیجیٹل اثاثوں پرمکالمہ اورمستقبل کی بینکاری‘ کے موضوع پرمنعقدہ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان کو ایسی مالیاتی جدت کی ضرورت ہے جو کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنانے میں مدد دے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کو بھی مالیاتی نظام میں اپنی افادیت حقیقی معاشی نتائج کے ذریعے ثابت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں کو اپنے سائبر سکیورٹی نظام کو موثر بنانے اور سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ترسیلات زر کا شعبہ ٹوکنائزیشن کے اہم ممکنہ استعمالات میں شامل ہے ،رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں اور توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام پر ترسیلات زر کا مجموعی حجم 44 ارب ڈالر سے بڑھ سکتا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے لیے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، برآمدات بڑھانے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ مالیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی دینے اور کاروباری اداروں کو موثر خدمات فراہم کرنے میں ڈیجیٹل جدت اہم کردار ادا کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ جے پی مورگن ادارہ جاتی صارفین کے لیے بلاک چین نیٹ ورکس پر رقوم کی منتقلی میں ڈپازٹ ٹوکنز استعمال کر رہا ہے جبکہ بینک برائے بین الاقوامی تصفیہ جات بی آئی ایس کا منصوبہ پراجیکٹ آگورا بھی ٹوکنائزڈ کمرشل بینک ڈپازٹس اور مرکزی بینک کے ذخائر کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کو بہتر بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی مختلف اقسام کے خطرات اور خصوصیات الگ الگ ہیں، اس لیے ان کے لیے ضابطہ جاتی طریقہ کار بھی متعلقہ مالیاتی سرگرمیوں کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے ذریعے قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک قائم کیا ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی(پی وی اے آر اے)کو ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو لائسنس جاری کرنے اور ان کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اب اس فریم ورک کو موثر بنانے کے لیے مستعد نگرانی اور متعلقہ اداروں کے درمیان واضح رابطہ کاری ضروری۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











