خیبر پختونخوا میں معدنیات کے ٹھیکوں پر بحث اور ’ایف ڈبلیو او‘ کا ذکر: شمالی وزیرستان میں ’محمد خیل‘ کاپر منصوبہ کیا ہے؟

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے معدنی وسائل اور انھیں نکالنے کے لیے دیے جانے والے ہزاروں ٹھی۔
- وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں معدنیات کے ہزاروں لائسنسز کے اجرا کی تحقیقات کی جائیں۔
- ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’صوبے کے بعض سیاستدانوں کی جانب سے ایمرجنسی کو معدنیات سے جوڑنے کا افسوسناک پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔‘۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے معدنی وسائل اور انھیں نکالنے کے لیے دیے جانے والے ہزاروں ٹھیکے گذشتہ کئی دنوں سے بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں معدنیات کے ہزاروں لائسنسز کے اجرا کی تحقیقات کی جائیں گی۔
ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’صوبے کے بعض سیاستدانوں کی جانب سے ایمرجنسی کو معدنیات سے جوڑنے کا افسوسناک پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔‘
یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب 16 اکتوبر کو ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایا تھا کہ معدنی وسائل سے مالا مال سابقہ قبائلی اضلاع میں گورنر راج نہیں بلکہ ایمرجنسی لگائی گئی ہے اور ’قوم کو دھوکہ دیا گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ 11 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت اور صوبائی اسمبلی کو غیر فعال کر دیا تھا۔ تاہم حکومت کے بقول ’تقریباً حالت جنگ‘ میں رہنے والے 12 اضلاع کے لیے ایک خصوصی سیکریٹریٹ قائم کیا تھا۔
تاہم مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ 2018 میں سابقہ قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ’پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر صوبے کی ملکیت بن گئے۔ انضمام کے بعد تمام وسائل اور ذخائر پر صوبے کے عوام کا حق ثابت ہو گیا۔ آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبے میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا۔‘
انھوں نے اس حکومتی موقف کو بھی رد کیا تھا کہ ایمرجنسی لگانے کی وجہ شدت پسندی کے بڑھتے واقعات ہیں۔
یہ خبر قارئین کی بروقت آگاہی اور عوامی مفاد کے لیے خودکار سسٹم کے ذریعے شایع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق اشاعتی ادارے کے پاس محفوظ ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










