بدر مفاہمتی یادداشت: پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کی دفاعی طاقت اور انڈیا میں تشویش

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- بدھ کے روز پاکستان۔ ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعتوں میں تعاون کے فروغ کے لیے ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت کو مکہ دفاعی معاہدے کے بعد۔
- قطر کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تعاون بڑھانے اور سٹریٹیجک شراکت داریوں کو فروغ دینے کے عزم کے تحت قطر کے دا۔
- بیان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت پر قطر، انڈونیشیا، پاکستان اور ترکی کی وزارتِ دفاع، پاکستان کے ادارہ برائے دفاعی پیداوار اور ترکی کے صدارتی۔
بدھ کے روز پاکستان۔ ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعتوں میں تعاون کے فروغ کے لیے ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت کو مکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ایک جانب جہاں یہ سوال ہو رہا ہے کہ اس نئے اتحاد کی اہمیت کیا ہے اور اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا وہیں انڈیا میں بھی اس بارے میں بات چیت ہو رہی ہے۔
قطر کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تعاون بڑھانے اور سٹریٹیجک شراکت داریوں کو فروغ دینے کے عزم کے تحت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 'بدر' کے نام سے ایک کثیرالجہتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
بیان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت پر قطر، انڈونیشیا، پاکستان اور ترکی کی وزارتِ دفاع، پاکستان کے ادارہ برائے دفاعی پیداوار اور ترکی کے صدارتی محکمہ برائے دفاعی صنعتوں نے دستخط کیے۔
اس تقریب میں قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، ترکی کے وزیرِ دفاع یاشر گولر، انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع برائے لاجسٹکس، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی امور مارشل یوسف جوہری، اور ترکی کے ادارۂ دفاعی صنعت (ایس ایس بی) کے سربراہ پروفیسر ہالوک گورگون نے شرکت کی۔
’مفاہمتی یادداشت کا مقصد دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا، چاروں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، اور تکنیکی دفاعی تربیت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں اشتراک کو بڑھانا ہے۔ اس کے ذریعے جدید دفاعی تقاضوں سے ہم آہنگ حل اور صنعتوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔‘
قطری وزارتِ دفاع کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت دستخط کرنے والے ممالک کے لیے معاشی لحاظ سے بھی اہم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دفاعی پیداوار کے شعبے میں ہر ملک کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعاون، اشتراک اور دفاعی صنعت کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے گا، تاکہ اتحادی اور دوست ممالک کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کی جا سکیں۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
یہ خبر قارئین کی بروقت آگاہی اور عوامی مفاد کے لیے خودکار سسٹم کے ذریعے شایع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق اشاعتی ادارے کے پاس محفوظ ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










