پاکستان میں لیتھیم کے ذخائر کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- پاکستان عالمی معدنی سپلائی چین میں اپنا کردار بڑھانے کے لیے 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں ’پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم‘ منعقد کر رہا ہے، جس میں عالمی سرمایہ کاروں اور کان کنی کے ماہرین کی شرکت متوقع۔
- پاکستان میں لیتھیم کے ممکنہ وسائل کی تلاش کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔
- ابتدائی پائلٹ مطالعے میں سندھ کے واحد بخش-01 کنویں کے پانی میں لیتھیم کی مقدار 291 ملی گرام فی لیٹر رپورٹ کی گئی۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد: توانائی، ٹیکنالوجی، انفرااسٹرکچر اور الیکٹرک موبیلیٹی کے شعبوں میں لیتھیم کی عالمی طلب میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی معدنی وسائل کی تلاش، لیتھیم آئن بیٹریوں کی تیاری اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع۔
پاکستان عالمی معدنی سپلائی چین میں اپنا کردار بڑھانے کے لیے 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں ’پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم‘ منعقد کر رہا ہے، جس میں عالمی سرمایہ کاروں اور کان کنی کے ماہرین کی شرکت متوقع۔
پاکستان میں لیتھیم کے ممکنہ وسائل کی تلاش کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنِس ٹیک) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت منتخب کنوؤں سے حاصل ہونے والے زیرِزمین پانی کے 2,000 سے زائد نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ لیتھیم اور نایاب ارضی عناصر کی موجودگی اور مقدار کا تعین کیا جا سکے۔
ابتدائی پائلٹ مطالعے میں سندھ کے واحد بخش-01 کنویں کے پانی میں لیتھیم کی مقدار 291 ملی گرام فی لیٹر رپورٹ کی گئی ہے۔ تاہم، اس ابتدائی نتیجے کی بنیاد پر پاکستان میں قابلِ استخراج لیتھیم کے تجارتی ذخائر کی حتمی مقدار یا معاشی افادیت کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی بڑھتی درآمدات مقامی صنعت کے لیے سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرتی ہیں۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2025 سے مئی 2026 کے دوران ملک نے تقریباً 5.39 گیگاواٹ گھنٹے گنجائش کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کیں، جن کی مالیت تقریباً 256.94 ملین ڈالر رہی۔
بیٹریوں کی یہ طلب شمسی توانائی کے ذخیرے، گھریلو بیک اَپ، صنعتی استعمال اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبوں میں مقامی پیداوار اور اسمبلنگ کے امکانات کو نمایاں کرتی۔
بیٹری سازی کے شعبے میں بڑے صنعتی منصوبوں پر بھی پیش رفت کی اطلاعات ہیں، راولپنڈی میں 2.25 ارب ڈالر کی مجوزہ لیتھیم آئن بیٹری فیکٹری کے منصوبے پر چینی شراکت داروں اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے، جب کہ کراچی کے کورنگی صنعتی علاقے میں بھی لیتھیم بیٹریوں کی تیاری کے لیے پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ ان منصوبوں کی عملی پیش رفت اور پیداواری صلاحیت کا انحصار متعلقہ منظوریوں، سرمایہ کاری اور منصوبوں کی تکمیل پر ہوگا۔
ماہرین کے لیے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم اس حوالے سے اہم موقع فراہم کر سکتا ہے کہ ملک میں لیتھیم کی تلاش، معدنی وسائل کی سائنسی جانچ، بیٹری سازی، ری سائیکلنگ اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے ممکنہ فائدہ صرف لیتھیم کے مقامی ذخائر کی دریافت تک محدود نہیں، بلکہ بیٹریوں کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور درآمدی انحصار میں کمی کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











