’ماناودر‘ ریاست کے پاکستان سے الحاق کا تنازع اور اس کے آخری حکمراں کے پاکستان میں گزرے دنوں کی داستان

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- نوٹ: یہ تحریر بی بی سی اردو نے پہلی بار 10 جون 2025 کو شائع کی تھی جسے 22 اکتوبر 1947 کو ریاست ماناودر پر انڈیا کے حملے کی مناسبت سے دوبارہ۔
- فاطمہ خیر نے پہلے ہی جملے میں جزیرہ نما کاٹھیاواڑ کی پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی اس ریاست کا نام ’ماناودر‘ ادا کیا، جسے عام طورپر مناَود۔
- فاطمہ خیر نے بی بی سی اُردو سے کینیڈا سے بذریعہ فون بات کی۔ وہ ریاست ’ماناودر‘ کے آخری حکمران نواب غلام معین الدین خان جی کی سب سے چھوٹی بیٹ۔
نوٹ: یہ تحریر بی بی سی اردو نے پہلی بار 10 جون 2025 کو شائع کی تھی جسے 22 اکتوبر 1947 کو ریاست ماناودر پر انڈیا کے حملے کی مناسبت سے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
فاطمہ خیر نے پہلے ہی جملے میں جزیرہ نما کاٹھیاواڑ کی پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی اس ریاست کا نام ’ماناودر‘ ادا کیا، جسے عام طورپر مناَودَر لکھا جاتا ہے، تو میں نے اسی کو مستند جانا۔
فاطمہ خیر نے بی بی سی اُردو سے کینیڈا سے بذریعہ فون بات کی۔ وہ ریاست ’ماناودر‘ کے آخری حکمران نواب غلام معین الدین خان جی کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں، جن کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے اعلان کو نہ مانتے ہوئے 22 اکتوبر 1947 کی غبار آلود صبح، دھول اڑاتے انڈین فوجی قافلے اس ریاست میں داخل ہو گئے اور دوپہر تک یہ چھوٹی سی شاہی ریاست انڈیا کے زیرِانتظام آ چکی تھی۔
مغل سلطنت کے زوال کے دنوں میں صوبہ گجرات کے طاقتور شاہی عہدیدار یعنی جونا گڑھ کے بابی خاندان نے کئی علاقوں پر اپنی حکمرانی قائم کر لی تھی۔ جونا گڑھ کے نواب محمد بہادر خان جی اول نے سنہ 1733 میں اپنے چھوٹے بھائی دلیر خان جی بابی کو ’بانٹوا‘ کا علاقہ عطا کیا اور یوں بانٹوا-ماناودر، یا مختصراً ماناودر ریاست کی تشکیل ہوئی۔
سنہ 1818 میں یہ تیسرے درجے کی ریاست کے طور پر برطانوی تحفظ میں آئی۔
ماناودر کے حکمران نواب فتح الدین خان جی کی وفات ہوئی تو اُن کے بیٹے معین الدین خان جی سات سال کے تھے۔ اپنے نابالغ بیٹے کی نائب کے طور پر اُن کی والدہ فاطمہ صدیقہ بیگم نے سنہ 1931 تک ایسی اچھی حکمرانی کی کہ خان جی کے 20 سال کی عمر میں باقاعدہ تخت سنبھالنے تک اُن کی خوش انتظامی کے اعتراف میں ریاست کو دوسرے درجے کی حیثیت دے دی گئی۔
جدید جنوبی ایشیا کے مؤرخ ڈاکٹر یعقوب خان بنگش کے مطابق ’کاٹھیاواڑ کے 22,000 مربع میل کے کل رقبے اور 40 لاکھ کی آبادی کے ساتھ یہ پورا خطہ 14 سلامی ریاستوں (ان ریاستوں کے سربراہوں کو توپوں کی سلامی ملتی تھی)، 17 غیر سلامی ریاستوں اور 191 دیگر جاگیروں پر مشتمل تھا۔‘
یہ خبر قارئین کی بروقت آگاہی اور عوامی مفاد کے لیے خودکار سسٹم کے ذریعے شایع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق اشاعتی ادارے کے پاس محفوظ ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










